19

دہشت گردی کا خاتمہ قومی اتحاد ہی سے ممکن ہے تحریر: رفیع صحرائی

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے جو قیمت ادا کی ہے، دنیا کے شاید ہی کسی دوسرے ملک نے ادا کی ہو۔ اس جنگ میں ہمارے ہزاروں فوجی جوان شہید ہوئے، پولیس اہلکاروں نے جانیں قربان کیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا، علماء، اساتذہ، وکلاء، سرکاری ملازمین، مزدور، تاجر اور عام شہری بھی دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے۔ ماؤں نے اپنے بیٹے کھوئے، بہنوں کے بھائی بچھڑے، بیویاں بیوہ ہوئیں اور بچوں کے سروں سے باپ کا سایہ اٹھ گیا۔ یہ قربانیاں کسی ایک صوبے، کسی ایک سیاسی جماعت یا کسی ایک طبقے کی نہیں، پورے پاکستان کی قربانیاں ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان نیشنل ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار پاکستانیوں کی شہادت کا ذکر کیا ہے۔ یہ تعداد محض ایک عدد نہیں، بلکہ 90 ہزار خاندانوں کے دکھ، درد اور قربانی کی داستان ہے۔ مستونگ میں سیشن جج کا قتل ہو یا ملک کے کسی دوسرے حصے میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ، ہر سانحہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ دشمن ابھی ختم نہیں ہوا اور ہمیں اپنی جنگ ابھی پوری قوت اور یکسوئی کے ساتھ لڑنا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ صرف پاک فوج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے؟ یقیناً اس کا جواب نفی میں ہے۔ یہ جنگ پوری قوم کی جنگ ہے اور اسے جیتنے کے لیے پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا تاکہ ملکِ عزیز کے خلاف مکروہ عزائم رکھنے والوں کو شکستِ فاش دی جا سکے۔
ہمیں یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں کی قربانیاں ہماری قومی تاریخ کا روشن باب ہیں۔ ہمارے جوان آج بھی بڑی دلیری کے ساتھ اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر ملک کی حفاظت کے لیے سینہ سپر ہیں۔ لیکن دہشت گردی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا مکمل خاتمہ صرف فوجی کارروائیوں سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے ریاست کے تمام ستونوں اور معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی استحکام، معاشی ترقی، مضبوط ادارے، مؤثر انٹیلی جنس نظام، بہتر سرحدی نگرانی، قانون کی حکمرانی، معیاری تعلیم اور روزگار کے مواقع بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنی سیکیورٹی کارروائیاں ضروری ہیں۔ ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ دہشت گردی کسی ایک پاکستانی کو نہیں، پاکستان کو نشانہ بناتی ہے۔
یہ امر انتہائی افسوس ناک ہے کہ ہم بعض اوقات دہشت گردی جیسے قومی مسئلے کو بھی سیاسی عینک سے دیکھنے لگتے ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ دہشت گرد کی گولی کسی سے اس کی سیاسی وابستگی نہیں پوچھتی۔ بم دھماکے میں شہید ہونے والے سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ وہ کس جماعت کو ووٹ دیتا تھا۔ دہشت گرد یہ نہیں دیکھتا کہ اس کا شکار پنجاب سے ہے، سندھ سے، بلوچستان سے یا خیبر پختونخوا سے ہے۔ وہ کسی کے مسلک، زبان یا سیاسی وابستگی کی پروا نہیں کرتا۔ اس کا اصل ہدف پاکستان ہے۔ اس لیے سیاسی جماعتوں کو بھی یہ بات سمجھنی ہوگی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی پوائنٹ سکورنگ کسی صورت قومی خدمت نہیں۔ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، حکومت پر تنقید اپوزیشن کا حق ہے اور حکمرانوں کا احتساب بھی ضروری ہے، لیکن ملک کی سلامتی اور قومی بقا کے معاملات کو سیاسی مفادات کی نذر نہیں کیا جانا چاہیے۔
سیاسی قوتوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ اگر ملک میں امن نہیں ہوگا تو سیاست کیسے چلے گی؟ اگر بازار محفوظ نہیں ہوں گے تو کاروبار کیسے ہوگا؟ اگر سرمایہ کار خوفزدہ ہوگا تو معیشت کیسے ترقی کرے گی؟ اگر والدین اپنے بچوں کی سلامتی کے بارے میں پریشان ہوں گے تو معاشرہ کیسے آگے بڑھے گا؟ امن ہوگا تو سیاست بھی ہوگی، معیشت بھی چلے گی، کاروبار بھی بڑھے گا اور ملک بھی ترقی کرے گا۔ اس لیے سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے سے لاکھ اختلافات ہوں، مگر دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد کے معاملے میں انہیں ایک صف میں کھڑا ہونا چاہیے۔ دشمن بڑا مکار ہے، ہمیں اس کو اندر سے بھی اور باہر سے بھی شکست دینا ہوگی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے اور افغانستان کی سرزمین سے دہشت گرد عناصر کی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی بات کی ہے۔ اگر پاکستان کے پاس اس حوالے سے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو اب وقت آگیا ہے کہ ان شواہد کو دنیا کے سامنے پوری قوت سے پیش کیا جائے۔ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف میدانِ عمل میں نہیں بلکہ سفارتی محاذ پر بھی لڑنا ہوگی۔ جس طرح گزشتہ سال پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان نے دنیا کے مختلف ممالک میں اپنے وفود بھیج کر اپنا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا اور عالمی سطح پر اپنے مقدمے کو اجاگر کر کے بھارتی بیانیے کو شکست دی اسی طرح دہشت گردی کے معاملے پر بھی ایک بھرپور سفارتی مہم کی ضرورت ہے۔ دنیا کو بتایا جائے کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار ہے، اس جنگ میں ہزاروں پاکستانی شہید ہو چکے ہیں اور آج بھی ہمارے شہری اور سیکیورٹی اہلکار اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔
اگر کسی ملک کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، اگر بھارت یا اس کےریاستی عناصر دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں، اگر دہشت گردوں کو مالی، سیاسی یا لاجسٹک سہولت فراہم کی جا رہی ہے تو پاکستان کو اس کے شواہد اقوام متحدہ، عالمی برادری اور تمام اہم عالمی فورمز کے سامنے رکھنے چاہئیں۔
دنیا کو دہشت گردی کا مکروہ چہرہ دکھانا ہوگا اور عالمی برادری کو باور کرانا ہوگا کہ دہشت گردی صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے اور دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہے۔
ہمیں اس بات کو بھی سمجھنا ہو گا کہ بلوچستان کو صرف سیکیورٹی نہیں، ترقی بھی چاہیے۔ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے۔ قدرتی وسائل، معدنی ذخائر، ساحلی پٹی اور جغرافیائی اہمیت کے باعث یہ صوبہ پاکستان کے مستقبل میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ بلوچستان کے عوام نے پاکستان کے قیام اور استحکام کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ بلوچستان کے عوام کو امن کے ساتھ ترقی بھی دیں۔ محض سیکیورٹی آپریشنز کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتے۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائی اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، روزگار اور ترقی کے مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ صحت، صاف پانی، سڑکوں، بجلی اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی سے محرومیوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ جب نوجوان کے ہاتھ میں کتاب، ہنر اور روزگار ہوگا تو دہشت گرد کے ہاتھ میں بندوق اٹھانے کے امکانات خود بخود کم ہوں گے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے طاقتور ہتھیار قومی اتحاد ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دہشت گرد قوتیں ہمارے اختلافات سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ پاکستانی آپس میں تقسیم ہوں، سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو دشمن سمجھیں، صوبے ایک دوسرے سے دور ہوں اور قوم اپنے اداروں پر اعتماد کھو دے۔
ہمیں دشمن کی اس سازش کو ناکام بنانا ہوگا۔ اس کے لیے سیاسی قیادت کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تمام سیاسی جماعتوں کو دہشت گردی کے خلاف ایک مشترکہ قومی بیانیہ تشکیل دینا چاہیے علماء کرام کو منبر و محراب سے امن، برداشت، رواداری اور اتحاد کا پیغام دینا چاہیے۔ عوامی نمائندوں کو اپنے حلقوں میں قومی یکجہتی کو فروغ دینا چاہیے۔میڈیا کو بھی دہشت گردی کی کوریج میں غیر معمولی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ دہشت گردوں کو تشہیر اور خوف پھیلانے کا موقع نہ ملے۔ ہمیں اپنے تعلیمی اداروں میں بھی نوجوان نسل کو یہ بتانا ہوگا کہ اختلافِ رائے دشمنی نہیں، تنوع کمزوری نہیں اور پاکستان کی وحدت ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔
یاد رکھیے! پاکستان سب سے پہلے ہے، باقی سب کچھ بعد میں ہے۔ آج ہمیں ایک بار پھر یہ عہد کرنا ہوگا کہ پاکستان کی سلامتی، امن اور استحکام پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن قومی سلامتی کے معاملات میں ہمیں ایک قوم بن کر کھڑا ہونا ہوگا۔
ہم سب کو اپنا کام اخلاص سے کرنا ہو گا۔ حکومت کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہوگی۔ سیکیورٹی اداروں کو دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھنا ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کو قومی اتحاد کو ترجیح دینا ہوگی۔ علماء کو انتہا پسندی کے خلاف فکری محاذ سنبھالنا ہوگا۔ میڈیا کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا اور عوام کو بھی اپنے اردگرد موجود مشکوک سرگرمیوں کے بارے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آگاہ کرنا ہوگا۔
ہمیں یہ بات دل میں بٹھانا ہوگی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی غیر جانب دار نہیں رہ سکتا۔ خاموشی بھی بعض اوقات دشمن کی مدد بن جاتی ہے۔ یہ جنگ کسی ایک ادارے کی نہیں، پاکستان کی جنگ ہے۔ اس جنگ میں شہید ہونے والا ہر پاکستانی ہمارا ہے۔ وہ فوجی جوان بھی ہمارا ہے جو سرحد پر شہید ہوا، وہ پولیس اہلکار بھی ہمارا ہے جو شہریوں کی حفاظت کرتے ہوئے جان سے گیا، وہ جج بھی ہمارا ہے جو انصاف کی کرسی پر بیٹھا دہشت گردوں کا نشانہ بنا اور وہ عام شہری بھی ہمارا ہے جو بازار، مسجد، اسکول یا سڑک پر دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ ہم سب کا دکھ ایک ہے، ہمارا دشمن ایک ہے اور ہمارا وطن بھی ایک ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے تمام سیاسی، لسانی، مذہبی اور علاقائی اختلافات سے بالاتر ہو کر صرف ایک شناخت کو مقدم رکھیں۔ وہ شناخت پاکستانی ہونے کی شناخت ہے۔ دہشت گرد چاہتے ہیں کہ ہم تقسیم ہو جائیں، ہمیں ایک دوسرے سے بدظن کیا جائے اور ہمارے درمیان نفرت کی دیواریں کھڑی کی جائیں۔ ہمیں ان کے عزائم کو ناکام بنانا ہے۔ قومیں صرف ہتھیاروں سے جنگیں نہیں جیتتیں، قومیں اتحاد، ایمان، عزم اور قربانی سے فتح حاصل کرتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں