لاہور میں مون سون کی پہلی ہی بارش نے ایک بار پھر شہری انتظامیہ کی تیاریوں اور نکاسیٔ آب کے نظام کی حقیقت بے نقاب کر دی۔ چند گھنٹوں کی موسلادھار بارش کے بعد شہر کے متعدد علاقے تالاب کا منظر پیش کرنے لگے۔ مرکزی شاہراہیں زیرِ آب آگئیں، ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا اور نشیبی علاقوں میں بارش کا پانی گھروں میں داخل ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ منظر کوئی نیا نہیں، بلکہ ہر سال مون سون کے آغاز کے ساتھ ہی دہرایا جاتا ہے، مگر افسوس کہ آج تک اس مسئلے کا مستقل حل تلاش نہیں کیا جا سکا۔
شہر کی بڑی شاہراہوں سے لے کر رہائشی گلیوں تک پانی جمع ہونے کے باعث شہری گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسے رہے۔ متعدد گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں پانی میں بند ہو گئیں، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور معمولاتِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے۔ کئی علاقوں میں سیوریج کا گندا پانی بارش کے پانی میں مل جانے سے صحتِ عامہ کے لیے بھی خطرات پیدا ہو گئے۔
سب سے زیادہ اذیت ان خاندانوں نے برداشت کی جن کے گھروں میں پانی داخل ہو گیا۔ گھریلو سامان خراب ہوا، دیواریں اور فرش متاثر ہوئے، جبکہ بچوں، خواتین اور بزرگوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ شہریوں کا یہ سوال بالکل بجا ہے کہ اگر ہر سال یہی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو متعلقہ ادارے اس کا پائیدار حل کیوں نہیں نکال پاتے؟
حکومتِ پنجاب اور واسا کی جانب سے ہر سال مون سون کے آغاز سے قبل نالوں کی صفائی، ہنگامی منصوبہ بندی اور نکاسیٔ آب کے مؤثر انتظامات کے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر پہلی ہی بارش ان دعوؤں کی حقیقت آشکار کر دیتی ہے۔ اگر ترقیاتی منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں تو پھر لاہور جیسے بڑے شہر میں بارش کے پانی کی بروقت نکاسی کیوں ممکن نہیں ہو رہی؟
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف ان دنوں آزاد جموں و کشمیر کے انتخابی جلسوں اور سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ سیاسی سرگرمیاں جمہوری عمل کا حصہ ہیں، تاہم ایک صوبے کی چیف ایگزیکٹو ہونے کے ناطے ان کی اولین ذمہ داری پنجاب کے عوام کے مسائل کا بروقت حل بھی ہے۔ لاہور میں بارش کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اس امر کی متقاضی تھی کہ وہ فوری طور پر متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیتیں، غفلت کے ذمہ داروں کا تعین کرتیں اور متاثرہ شہریوں کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرتیں۔
لاہور پاکستان کا دل اور پنجاب کا دارالحکومت ہے۔ اگر یہی شہر پہلی ہی بارش کے بعد جھیل کا منظر پیش کرنے لگے تو یہ انتظامی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ شہریوں کو سیاسی بیانات سے زیادہ ایسے عملی اقدامات درکار ہیں جو انہیں ہر مون سون میں پیش آنے والی ان مشکلات سے نجات دلا سکیں۔
واسا، ضلعی انتظامیہ، لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی اور دیگر متعلقہ اداروں کو محض ہنگامی کارروائیوں پر اکتفا کرنے کے بجائے نکاسیٔ آب کے پورے نظام کا ازسرِنو جائزہ لینا ہوگا۔ جہاں ہر سال پانی کھڑا ہوتا ہے وہاں مستقل اور جدید انجینئرنگ حل اختیار کیے جائیں۔ ڈرینج سسٹم کی بہتری، نالوں کی باقاعدہ صفائی اور مؤثر نگرانی ہی اس مسئلے کا دیرپا حل ثابت ہو سکتی ہے۔
شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ نالوں اور سیوریج لائنوں میں کچرا نہ پھینکیں، تاہم بنیادی ذمہ داری حکومت اور متعلقہ اداروں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ شہریوں کو محفوظ، معیاری اور مؤثر شہری سہولیات فراہم کریں۔ ٹیکس ادا کرنے والے عوام اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ بارش ان کے لیے رحمت بنے، زحمت نہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ لاہور کو ہر سال پانی میں ڈوبنے والے شہر کے طور پر نہیں، بلکہ ایک جدید اور منظم شہری مرکز کے طور پر دیکھا جائے۔ اس کے لیے سیاسی ترجیحات کے ساتھ عوامی مسائل کو بھی یکساں اہمیت دینا ہوگی۔ اگر سنجیدہ منصوبہ بندی، مؤثر نگرانی اور سخت جوابدہی کو یقینی نہ بنایا گیا تو ہر مون سون کے ساتھ یہی مناظر دہرائے جاتے رہیں گے، اور شہریوں کی مشکلات بھی بڑھتی رہیں گی۔ عوام اب وعدوں سے زیادہ عملی اقدامات کے منتظر ہیں، کیونکہ یہی ایک ذمہ دار حکومت کی اصل پہچان ہوتی ہے۔











