19

:بارش۔۔۔رحمت بھی، زحمت بھی از: ایمان جاوید اقبال

بادل جب آسمان کی وسعتوں پر خاموشی سے سفر کرتے ہیں اور پھر اچانک اپنے دامن سے موتیوں جیسے قطرے زمین پر نچھاور کرتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قدرت نے کائنات کو ایک نئی زندگی عطا کر دی ہو۔ خشک و بے جان زمین مسکرا اٹھتی ہے، پیاسی مٹی اپنی مخصوص خوشبو سے فضا کو معطر کر دیتی ہے، درخت خوشی سے جھومنے لگتے ہیں اور پرندوں کی چہچہاہٹ فطرت کے ساز کو ایک نئی لے بخش دیتی ہے۔ بارش بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے، مگر یہی نعمت بعض اوقات انسانی غفلت، ناقص منصوبہ بندی اور ماحول سے بے اعتنائی کے باعث زحمت کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بارش رحمت بھی ہے اور زحمت بھی۔

قرآنِ کریم میں بارش کو اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا گیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ وہی ذات آسمان سے پانی برساتی ہے، مردہ زمین کو زندہ کرتی ہے اور اسی پانی سے انسانوں، جانوروں اور نباتات کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ اگر بارش نہ ہو تو زمین اپنی زرخیزی کھو بیٹھے، دریا اور جھیلیں خشک ہو جائیں، فصلیں تباہ ہو جائیں اور زندگی کا پہیہ رک جائے۔ یہی وجہ ہے کہ کسان آسمان کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی محنت کا حقیقی ثمر بارش کے قطروں سے وابستہ ہے۔

بارش صرف کھیتوں کو ہی سیراب نہیں کرتی بلکہ انسانی روح کو بھی تازگی عطا کرتی ہے۔ بارش کے بعد فضا میں پھیلنے والی مٹی کی سوندھی خوشبو، سبز پتوں پر ٹھہرے ہوئے قطرے اور پہاڑوں سے بہتے جھرنے انسان کو قدرت کے حسن پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ شاعر کے لیے یہ جذبوں کا موسم ہے، مصور کے لیے رنگوں کی نئی دنیا اور ادیب کے لیے احساسات کی ایک مکمل کائنات۔ شاید اسی لیے اردو ادب میں بارش کو محبت، امید، جدائی اور تجدیدِ حیات کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔

تاہم قدرت کی نعمت اس وقت آزمائش میں بدل جاتی ہے جب انسان اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال مون سون کی بارشیں کئی شہروں کے لیے پریشانی کا سبب بن جاتی ہیں۔ چند گھنٹوں کی بارش سڑکوں کو دریا بنا دیتی ہے، گلیاں تالاب کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں، گاڑیاں پانی میں بند ہو جاتی ہیں اور شہری زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔ ہسپتالوں تک رسائی دشوار ہو جاتی ہے، بچے اسکول نہیں جا پاتے اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کی آمدنی متاثر ہوتی ہے۔

جب بارش مسلسل ہوتی ہے تو نشیبی علاقے زیرِ آب آ جاتے ہیں، کچی بستیاں ڈوب جاتی ہیں اور غریب خاندان اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ سیلاب صرف مکانات نہیں بہاتا بلکہ برسوں کی محنت، خواب اور جمع پونجی بھی اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ کتنے ہی خاندان ایسے ہوتے ہیں جو ایک ہی رات میں بے گھر ہو جاتے ہیں اور کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ بارش سے پیدا ہونے والی بیشتر مشکلات خود ہماری پیدا کردہ ہیں۔ ہم نالوں میں کچرا پھینکتے ہیں، برساتی گزرگاہوں پر تجاوزات قائم کرتے ہیں، درختوں کی بے دریغ کٹائی کرتے ہیں اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ پانی اپنے راستے کیوں بدل رہا ہے۔ فطرت ہمیشہ اپنا راستہ بناتی ہے، لیکن جب انسان اس کے راستے بند کر دیتا ہے تو نقصان بھی اسی کو اٹھانا پڑتا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی نے بھی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ موسموں کا توازن بگڑ رہا ہے، کہیں شدید خشک سالی ہے تو کہیں غیر معمولی بارشیں۔ یہ صورتِ حال ہمیں اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ ماحول کا تحفظ اب صرف حکومتوں کی نہیں بلکہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم درخت لگائیں، پانی کے ضیاع کو روکیں، صفائی کا خیال رکھیں اور قدرتی وسائل کا دانش مندانہ استعمال کریں تو بارش ہمارے لیے رحمت ہی رحمت ثابت ہوگی۔

حکومت پر بھی لازم ہے کہ جدید نکاسیٔ آب کا نظام قائم کرے، برساتی نالوں کی بروقت صفائی یقینی بنائے، غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مؤثر کارروائی کرے اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کرے۔ اس کے ساتھ عوام میں بھی شعور بیدار کیا جائے تاکہ وہ ماحول دوست رویے اختیار کریں اور شہری ذمہ داریوں کو سمجھیں۔

بارش ہمیں ایک اور اہم سبق بھی دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر نعمت اپنے ساتھ امتحان بھی لاتی ہے۔ اگر ہم شکر گزار ہوں، وسائل کا درست استعمال کریں اور اپنی ذمہ داریاں نبھائیں تو یہی بارش خوش حالی، سرسبزی اور زندگی کا پیغام بن جاتی ہے۔ لیکن اگر ہم غفلت، بے حسی اور بدانتظامی کو اپنا شعار بنا لیں تو یہی رحمت زحمت اور آزمائش کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

بارش کو موردِ الزام ٹھہرانا انصاف نہیں۔ بارش تو اپنے رب کے حکم سے رحمت بن کر برستی ہے، اسے زحمت بنانے میں اکثر ہمارا اپنا کردار شامل ہوتا ہے۔ جب ہم فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہونا سیکھ لیں گے، ماحول کی حفاظت کریں گے اور اجتماعی ذمہ داریوں کا احساس پیدا کریں گے تو بارش کے ہر قطرے میں ہمیں زندگی، امید اور اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت دکھائی دے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں