12

سائیکل پر چلنے والا روشن چراغ :تحریر سید ساجد علی شاہ

بعض شخصیات اپنی شہرت سے نہیں، اپنے کردار سے پہچانی جاتی ہیں۔ وہ بڑے عہدوں، بڑی گاڑیوں اور بڑے پروٹوکول کی محتاج نہیں ہوتیں، بلکہ اپنے اخلاق، اخلاص اور خدمت سے دلوں پر حکومت کرتی ہیں۔ رحیم یار خان کی سرزمین بھی ایک ایسی ہی درویش صفت ہستی کی امین رہی، جنہیں دنیا مولانا حسن المرتضیٰ خاورؒ کے نام سے جانتی ہے۔ آج بھی ان کا ذکر آتا ہے تو دل احترام سے جھک جاتا ہے اور آنکھوں کے سامنے ایک نورانی چہرہ، سفید لباس، نرم لہجہ اور ایک سادہ سی سائیکل گردش کرنے لگتی ہے۔
یہ سن 1994ء کی بات ہے۔ گاؤں کے پرائمری سکول سے چہارم جماعت مکمل کرنے کے بعد میرا داخلہ گورنمنٹ پائلٹ سیکنڈری سکول، رحیم یار خان میں ہوا۔ نئی فضا، نئے اساتذہ اور نئے دوست میرے لیے ایک الگ دنیا تھے۔ مگر اس دنیا میں ایک منظر ایسا تھا جو ہر سوموار کو دل میں روشنی بھر دیتا تھا۔اسمبلی ختم ہوتے ہی ایک نورانی چہرے والے بزرگ تشریف لاتے۔ نہ ان کے ساتھ کوئی پروٹوکول ہوتا، نہ کوئی شور، نہ کوئی نمود و نمائش۔ وہ خاموشی سے چند منٹ طلبہ سے گفتگو کرتے، مگر ان دس منٹوں میں زندگی بھر کا سبق دے جاتے۔ ان کی باتوں میں محبت تھی، درد تھا، اخلاص تھا اور ایسا اثر تھا کہ سنیکڑوں طلبہ خاموشی سے سنتے رہتے۔ وہ کسی پر اپنی بات مسلط نہیں کرتے تھے بلکہ دلوں میں اتر جایا کرتے تھے۔وہ تھے مولانا حسن المرتضیٰ خاورؒ۔ آج جب معاشرے میں مذہبی شخصیات کا تذکرہ ہوتا ہے تو اکثر بڑی بڑی تقریروں، بڑے اجتماعات اور بڑے اداروں کا ذکر آتا ہے، مگر مولانا حسن المرتضیٰ خاورؒ کی عظمت اس میں تھی کہ انہوں نے اپنی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ بچوں اور نوجوانوں کی تربیت پر صرف کیا۔ وہ روزانہ سائیکل پر ایک سکول سے دوسرے سکول جاتے، بچوں کو نماز، سچائی، والدین کی اطاعت، حسنِ اخلاق اور محبتِ رسول ﷺ کا درس دیتے اور پھر خاموشی سے اگلے سکول روانہ ہو جاتے۔اس زمانے میں نہ سوشل میڈیا تھا، نہ کیمرے، نہ تصویریں، نہ لائیو نشریات۔ اگر کچھ تھا تو صرف اللہ کی رضا کے لیے کی جانے والی بے لوث محنت۔مولانا حسن المرتضیٰ خاورؒ کا تعلق ضلع جھنگ کے قصبہ واضو آستانہ سے تھا، مگر رحیم یار خان کو انہوں نے اپنا مسکن اور اپنی خدمت کا میدان بنایا۔ جامع مسجد انہار کالونی کے خطیب ہونے کے باوجود ان کی اصل پہچان ان کی دعوتی سرگرمیاں تھیں۔ وہ صرف مسجد کے منبر تک محدود نہیں رہے بلکہ سکولوں، کالجوں، محلوں اور گلیوں تک دین کی خوشبو پہنچاتے رہے۔آپ نے ادارہ اشاعت اسلام قائم کیا، ہزاروں کتابچے، پمفلٹ، چارٹس اور اصلاحی لٹریچر شائع کیا۔ انعامی مقابلوں کے ذریعے نوجوانوں میں دینی شعور پیدا کیا۔ نومسلم افراد کی کفالت کی، ان کی تعلیم، رہائش اور روزگار کا بندوبست کیا۔ یہ وہ خدمات تھیں جن کا چرچا اخبارات سے زیادہ لوگوں کے دلوں میں تھا۔ مولانا صاحب شاعر بھی تھے، ادیب بھی، مصنف بھی اور بہترین مقرر بھی۔ ان کی تحریروں میں محبتِ رسول ﷺ کی خوشبو محسوس ہوتی تھی۔ ان کی تصانیف آج بھی دعوت و اصلاح کا سرمایہ ہیں۔ انہوں نے حج کی آسان تعلیم، دعاؤں کی کتابیں، سیرتِ نبوی ﷺ اور امت کی اصلاح پر متعدد کتابیں لکھیں جن سے ہزاروں افراد نے استفادہ کیا۔ ان کی زندگی کا ایک اور خوبصورت پہلو عاجزی تھا۔ آج معمولی شہرت انسان کو تکبر میں مبتلا کر دیتی ہے، مگر مولانا صاحب اپنی علمی عظمت کے باوجود سائیکل پر سفر کرتے رہے۔ وہ جانتے تھے کہ انسان کی عزت سواری سے نہیں بلکہ کردار سے ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے آج ان کی سائیکل بھی لوگوں کو یاد ہے اور ان کا اخلاص بھی۔ مجھے آج بھی ان کے وہ مختصر بیانات یاد ہیں۔ وہ کبھی سخت لہجہ اختیار نہیں کرتے تھے۔ ان کی گفتگو میں شفقت ہوتی، الفاظ میں مٹھاس اور انداز میں ایسی اپنائیت کہ محسوس ہوتا جیسے کوئی بزرگ اپنے بیٹوں سے بات کر رہا ہو۔ وہ ڈراتے کم اور امید زیادہ دلاتے تھے۔ یہی ان کی دعوت کی کامیابی تھی۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نے اپنے ایسے محسنوں کو فراموش کر دیا۔ آج نئی نسل شاید ان کا نام بھی نہ جانتی ہو، حالانکہ اگر رحیم یار خان کی دینی و تعلیمی تاریخ لکھی جائے تو مولانا حسن المرتضیٰ خاورؒ کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ انہوں نے ہزاروں نوجوانوں کی زندگی کا رخ بدلنے میں کردار ادا کیا، مگر کبھی اپنے لیے کوئی صلہ یا شہرت طلب نہیں کی۔6 جولائی 2000ء کو یہ عظیم انسان اپنے ربِ کریم سے جا ملا۔ ان کی وفات صرف ایک خاندان یا ایک مسجد کا نقصان نہیں تھی بلکہ پورے ضلع کا علمی، اخلاقی اور روحانی خسارہ تھی۔ مگر اللہ والے کبھی مرتے نہیں، وہ اپنے کردار، اپنی تعلیمات اور اپنی نیکیوں کے ذریعے زندہ رہتے ہیں۔
آج جب میں ماضی کی یادوں کے دریچے کھولتا ہوں تو ہر سوموار کی وہ اسمبلی، وہ خاموش میدان، وہ نورانی چہرہ اور سائیکل پر آنے والا وہ درویش استاد نگاہوں کے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ دل بے اختیار دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مولانا حسن المرتضیٰ خاورؒ کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کی تمام دینی، علمی اور دعوتی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے اور ہمیں بھی اخلاص، عاجزی اور خدمتِ دین کا وہ جذبہ عطا فرمائے جو اس مردِ درویش کا سرمایہ تھا۔معاشرے کے اصل ہیروز وہ نہیں ہوتے جن کی تصویریں ہر روز خبروں کی زینت بنتی ہیں، بلکہ وہ ہوتے ہیں جو خاموشی سے نسلوں کی تعمیر کرتے ہیں۔ مولانا حسن المرتضیٰ خاورؒ انہی گمنام مگر عظیم محسنوں میں سے ایک تھے۔ رحیم یار خان کی تاریخ جب بھی اپنے روشن ستاروں کا ذکر کرے گی، اس درویش صفت عالمِ دین کا نام ہمیشہ احترام، محبت اور عقیدت کے ساتھ لیا جائے گا۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اخلاص کے ساتھ کیا گیا چھوٹا سا کام بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنا بڑا ہو جاتا ہے کہ اس کی روشنی نسلوں تک پھیلتی رہتی ہے۔ مولانا حسن المرتضیٰ خاورؒ کے ہزاروں شاگرد اس وقت اندرون و بیرون ممالک مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں پاکستان کے معروف تجزیہ نگار ہارون الرشید بھی آپ کے شاگرد ہیں،
جامع مسجد انہار دینی، علمی اور اصلاحی خدمات کا ایک نمایاں مرکز ہے۔ اسی مسجد سے وابستہ ممتاز عالمِ دین مولانا حسن المرتضیٰ خاورؒ نے 1975ء سے 2000ء تک حج اور عمرہ پر جانے والے خوش نصیب افراد کی رہنمائی کے لیے ایک عظیم خدمت انجام دی۔ آپ نے جامع مسجد انہار میں فری حج و عمرہ ٹریننگ سنٹر قائم کیا، جہاں بلا معاوضہ ہزاروں مرد و خواتین کو مناسکِ حج و عمرہ کی عملی اور نظری تربیت دی گئی۔ آپ نہایت آسان انداز میں احکام، دعائیں، آداب اور سفرِ حج کے ضروری مسائل سمجھاتے تھے، جس کی بدولت بے شمار افراد نے اعتماد اور اطمینان کے ساتھ اپنے مقدس سفر کی سعادت حاصل کی۔ مولانا حسن المرتضیٰ خاورؒ کے وصال کے بعد ان کے اس عظیم مشن کو مولانا محمد اکمل عباس، خطیب جامع مسجد انہار نے نہایت اخلاص اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھایا ہوا ہے ۔ وہ آج بھی صرف رضائے الٰہی کی خاطر بغیر کسی معاوضے کے شہریوں کو حج اور عمرہ کی مکمل تعلیم و تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ ان کی خواہش یہی ہے کہ ہر حاجی اور معتمر اللہ تعالیٰ کے گھر کی زیارت سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق صحیح طریقے سے ادا کرے۔مولانا محمد اکمل عباس اپنی خوش اخلاقی، ملنساری، نرم گفتاری، عجز و انکساری اور اعلیٰ کردار کی وجہ سے عوام میں بے حد محبوب ہیں۔ وہ ہر آنے والے کو محبت، خلوص اور شفقت سے رہنمائی فراہم کرتے ہیں، جس سے سیکھنے والوں کے دلوں میں دین کی محبت مزید بڑھتی ہے۔بلاشبہ جامع مسجد انہار کا یہ فری حج و عمرہ ٹریننگ سنٹر ایک صدقۂ جاریہ کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں سے آج بھی علم، اخلاص اور خدمتِ خلق کی خوشبو پھیل رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ مولانا حسن المرتضیٰ خاور رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، اور مولانا محمد اکمل عباس کو اس عظیم دینی خدمت کو مزید وسعت دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں