46

پنجاب میں تعلیم کا جنازہ — ایک المیہ اور اس کا حل: محمد یوسف بھٹی

ایک وقت تھا جب ڈاکٹر بننا صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک خواب ہوا کرتا تھا۔ والدین اپنی تمام تر توانائیاں اور وسائل اس خواب کی تعبیر کے لیے وقف کر دیتے تھے۔ وہ بچے جو پاکستان کے سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلہ حاصل کر لیتے، خوش نصیب سمجھے جاتے۔ معمولی فیس میں ایم بی بی ایس مکمل کرتے، نہ صرف قابل ڈاکٹر بنتے بلکہ ان کے اندر انسانیت، ہمدردی اور خدمت کا جذبہ بھی نمایاں ہوتا۔

مگر وقت کے ساتھ یہ مقدس پیشہ ایک منافع بخش کاروبار میں تبدیل ہو گیا۔ ملک بھر میں نجی میڈیکل کالجز کا جال بچھ گیا، جہاں ابتدا میں پچاس لاکھ روپے میں ڈگری حاصل کرنے کا خواب دکھایا گیا، جو اب بڑھ کر ڈیڑھ کروڑ روپے تک جا پہنچا ہے۔ یہ اخراجات عام آدمی کی پہنچ سے کہیں باہر ہیں۔

جو والدین مالی طور پر مضبوط تھے، انہوں نے اپنے بچوں کو ملک کے اندر ہی داخلہ دلوا دیا، جبکہ متوسط اور کمزور طبقے نے بیرون ملک کا رخ کیا۔ مگر بیرون ملک سے حاصل کردہ ڈگریاں اکثر معیاری مہارتوں سے عاری ثابت ہوئیں۔ دوسری طرف، پہلے سرکاری نوکریاں موجود تھیں جہاں نئے ڈاکٹر کسی نہ کسی طرح سیٹل ہو جاتے تھے، مگر اب وہ دروازے بھی تقریباً بند ہو چکے ہیں۔

نجی ہسپتالوں کی صورتحال بھی زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ وہاں نئے ڈاکٹروں کو بمشکل پچاس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ کی پیشکش کی جاتی ہے، جو ان کی محنت اور اخراجات کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔ ادھر ہر گلی کوچے میں غیر معیاری پریکٹس کرنے والوں کی بھرمار نے بھی پیشے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

نتیجتاً، میڈیکل تعلیم سے لوگوں کا اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ حالیہ صورتحال یہ ہے کہ 60 فیصد نمبروں پر بھی میڈیکل کالجز کی سیٹیں خالی رہ گئیں، جس کے باعث میرٹ کم کر کے بی ڈی ایس کے لیے 48 فیصد اور ایم بی بی ایس کے لیے 52 فیصد تک لانا پڑا تاکہ نجی ادارے اپنے داخلوں کا ہدف پورا کر سکیں۔

اسی طرح نرسنگ کے شعبے کی حالت بھی دگرگوں ہو چکی ہے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے نرسنگ اسکالرشپ کے خاتمے نے اس شعبے کی کشش مزید کم کر دی ہے۔ دسویں میرٹ لسٹ کے باوجود داخلے مکمل نہ ہو سکے، جبکہ ایل ایچ وی پروگرام کا میرٹ بھی 50 فیصد تک آ چکا ہے۔

دیگر تعلیمی شعبوں میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ سرکاری نوکریوں کی کمی نے نوجوانوں کو تعلیم سے بدظن کر دیا ہے۔ والدین یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ تعلیم دلوا کر آخر حاصل کیا ہوگا؟ یہی وجہ ہے کہ لڑکوں کی بڑی تعداد تعلیم سے دور ہو رہی ہے، جبکہ صرف لڑکیاں کسی حد تک اس میدان میں باقی ہیں۔

حل کیا ہے؟

حکومت کو چاہیے کہ:

سرکاری سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں

نرسنگ اسکالرشپ کو فوری طور پر بحال کیا جائے

نجی میڈیکل کالجز کی فیسوں کو مناسب سطح پر لایا جائے

نجی ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں ملازمین کے لیے باقاعدہ تنخواہی ڈھانچہ مقرر کیا جائے

اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو وہ دن دور نہیں جب تعلیم واقعی اپنے جنازے کے ساتھ ہماری نظروں کے سامنے رخصت ہو جائے گی۔

یہ صرف تعلیمی بحران نہیں، بلکہ ایک قومی المیہ ہے جس کا حل فوری اور سنجیدہ توجہ کا متقاضی ہے۔

Muhammad Yousaf Bhatti

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں