سپریم کورٹ آف آزاد جموں و کشمیر نے صدارتی ریفرنس پر اپنی اہم ترین اور حساس قانونی رائے جاری کرتے ہوئے مہاجر نشستوں کے معاملے پر حکومت کے مؤقف کو بالکل درست قرار دے دیا ہے اور دباؤ کی سیاست کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی 12 نشستوں کو مکمل آئینی تحفظ حاصل ہے، جنہیں کسی بھی انتظامی فیصلے کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر رائے دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ یہ 12 مہاجر نشستیں آئین کے آرٹیکل 22 کے تحت محفوظ ہیں۔ عدالت کے مطابق ان مہاجر نشستوں کی تعداد یا حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی لانے کے لیے آرٹیکل 33 کے تحت باقاعدہ آئینی ترمیم کرنا ناگزیر ہے۔ اس عدالتی رائے نے عوامی ایکشن کمیٹی کے اس مؤقف کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس کے تحت یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ آئینی مطالبات کو سڑکوں کے دباؤ اور محاذ آرائی سے منوایا جا سکتا ہے۔










