20

کہانی گھر گھر کی تحریر عمر حیات عمر

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جتنے بھی رشتے بنائے ہیں، ان میں سے ہر رشتے کا کوئی نہ کوئی مقصد، عزت، اہمیت اور مقام ہے، مگر افسوس کہ ہم نے ان رشتوں کی قدر و منزلت کو نظر انداز کر دیا ہے۔ جو رشتے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کیے گئے ہیں، دنیا میں ان کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ماں باپ کو ہی دیکھ لیں، ان کا کوئی متبادل نہیں، اسی طرح بہن بھائی، نانا نانی، دادا دادی، چچا، ماموں، پھوپھو اور خالہ وغیرہ، ہر رشتہ اپنی جگہ ایک نعمت ہے۔ ہر رشتے کا اپنا مقام اور اپنا حق ہے۔ کوئی رشتہ دوسرے سے کم نہیں، البتہ محبت اور قربت کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نے اپنے رویوں سے ان رشتوں کو بھی ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کر دیا ہے۔ عموماً بچوں کو نانا، نانی، خالہ اور ماموں سے زیادہ پیار کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور یہی رشتے ان کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے بچے بھی اسکول کی چھٹیاں منانے اکثر ننھیال جانا پسند کرتے ہیں۔ اس میں کوئی برائی نہیں، کیونکہ نانی کا پیار، ماموں کی شفقت اور خالہ کی محبت بچوں کے لیے ایک خوبصورت احساس ہے، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اس محبت کو دوسرے رشتوں کے مقابلے میں کھڑا کر دیا جائے۔ کافی مشاہدے کے بعد کچھ باتیں سامنے آئی ہیں۔ اکثر گھروں میں ماں باپ بچپن ہی سے بچوں کی ذہن سازی شروع کر دیتے ہیں۔ کوئی والد اپنے خاندان کو بہتر سمجھتا ہے اور کوئی والدہ اپنے خاندان کو۔ والد کہتے ہیں کہ ہمارے گھر والے زیادہ مخلص ہیں، جبکہ والدہ سمجھتی ہیں کہ ان کے میکے والے زیادہ محبت کرنے والے ہیں۔ یہ باتیں بظاہر معمولی محسوس ہوتی ہیں، لیکن بچوں کے کچے ذہن پر ان کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ گھر میں دیکھتے اور سنتے ہیں۔ اگر والدین ایک دوسرے کے خاندانوں کا احترام کریں گے تو بچے بھی احترام سیکھیں گے، لیکن اگر گھر میں ہر وقت ننھیال اور ددھیال کا موازنہ کیا جائے گا تو بچے بھی رشتوں کو محبت کے بجائے پسند اور ناپسند کے پیمانے سے پرکھنا شروع کر دیں گے۔ انہی بچوں کو گھر میں ایک عجیب سا ماحول دیکھنے کو ملتا ہے۔ اگر ننھیال سے کوئی آ جائے تو والد کا موڈ خراب ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں والدہ کو والد کی خوشامد کرنی پڑتی ہے کہ ان کے گھر والوں کو وقت دیں، ان کے پاس بیٹھیں، ان سے بات چیت کریں، ان کی توجہ کریں اور ان کے لیے اچھے کھانے پینے کا بندوبست کریں۔ اور اگر ددھیال سے کوئی آ جائے تو والدہ کا موڈ خراب ہو جاتا ہے۔ پھر والد کو والدہ کی خوشامد کرنا پڑتی ہے کہ مہمانوں کو اچھے طریقے سے بلائیں، ان کے ساتھ گپ شپ کریں، اچھا برتاؤ کریں، ان کے لیے اچھا سا کھانا بنائیں اور کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہونے دیں۔ گھر میں ایک عجیب سا ماحول بن جاتا ہے۔ بچے خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ وہ سمجھ نہیں پاتے کہ آخر کس رشتے کی عزت کرنی ہے اور کس رشتے سے دور رہنا ہے۔ والدین کی چھوٹی چھوٹی باتیں بچوں کے ذہن میں بڑے بڑے سوال پیدا کرتی ہیں۔ یہیں سے تربیت کا ایک اہم مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ والدین کو یہ سمجھنا چاہیے کہ بچے صرف ہماری باتیں نہیں سنتے بلکہ ہمارے رویے بھی پڑھتے ہیں۔ ہم جس رشتے کے بارے میں برا کہیں گے، بچے کے دل میں بھی اسی رشتے کے بارے میں منفی خیال پیدا ہوگا۔ وقت گزرتا ہے، بچے بڑے ہو جاتے ہیں اور پھر وہی رویے ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ جب گھر میں کوئی رشتہ دار آتا ہے تو بچے بھی اسی نظر سے اسے دیکھتے ہیں جو ان کے ذہن میں بچپن سے والدین کے رویوں کے ذریعے نقش ہوئی ہوتی ہے۔ پھر بعض اوقات بچے بڑوں کو بھی نصیحتیں کرنے لگتے ہیں کہ آپ نے فلاں رشتہ دار سے ملنا ہے اور فلاں سے نہیں ملنا۔ وہ ہم سے زیادہ پیار کرتے ہیں، وہ ہم سے نہیں کرتے۔ وہ ہماری عزت کرتے ہیں، وہ نہیں کرتے۔ وہ ہمارے کھانے پینے کا بہت اہتمام کرتے ہیں، وہ نہیں کرتے۔ یہ سوچ آہستہ آہستہ والدین اور بچوں کے درمیان بھی فاصلے پیدا کر دیتی ہے۔ بچے یہ بھول جاتے ہیں کہ رشتے صرف اس بنیاد پر نہیں نبھائے جاتے کہ کون ہمیں کتنا کھلاتا ہے، کون ہمیں کتنے تحفے دیتا ہے یا کون ہماری کتنی خاطر تواضع کرتا ہے۔ رشتے محبت، خلوص، احترام، قربانی اور احساس کا نام ہیں۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ بچوں کے سامنے کبھی اپنے رشتہ داروں کی برائیاں نہ کریں۔ اگر کسی رشتے دار سے کوئی اختلاف ہے تو اسے بچوں کے سامنے موضوعِ بحث نہ بنایا جائے۔ اختلاف بڑوں کا معاملہ ہے، اسے بچوں کے معصوم دلوں پر بوجھ نہیں بننا چاہیے۔ اسی طرح بچوں کو بھی چاہیے کہ وہ والدین کے رشتوں کا احترام کریں۔ ہر رشتہ دار ہر وقت ہماری خواہش کے مطابق نہیں ہو سکتا۔ کسی کی طبیعت مختلف ہے، کسی کے حالات مختلف ہیں اور کسی کے مسائل مختلف ہیں۔ ہمیں لوگوں کو ان کی کمزوریوں سمیت قبول کرنا سیکھنا چاہیے۔ رشتے درخت کی شاخوں کی طرح ہوتے ہیں۔ اگر ایک شاخ کمزور ہو جائے تو پورا درخت متاثر ہوتا ہے۔ خاندان بھی اسی طرح ہوتا ہے۔ ایک رشتے میں پیدا ہونے والی نفرت دوسرے رشتے تک پہنچتی ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورا خاندان تقسیم ہو جاتا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے گھروں میں محبت، برداشت اور احترام کا ماحول پیدا کریں۔ بچوں کو یہ نہ سکھائیں کہ کون سا رشتہ اچھا ہے اور کون سا برا، بلکہ یہ سکھائیں کہ ہر جائز خاندانی رشتے کا احترام کرنا ہے۔ انہیں بتائیں کہ نانا نانی بھی قیمتی ہیں اور دادا دادی بھی، ماموں بھی محترم ہیں اور چچا بھی، خالہ بھی محبت کی علامت ہیں اور پھوپھو بھی شفقت کا رشتہ ہیں۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آج ہمارے بچے جو سیکھ رہے ہیں، کل وہی اپنی اولاد کو سکھائیں گے۔ اگر ہم نے ان کے دل میں محبت بوئی تو آنے والی نسلیں محبت کا پھل کھائیں گی، اور اگر ہم نے نفرت، تعصب اور رشتوں کی تقسیم بوئی تو یہی نفرت نسل در نسل منتقل ہوتی رہے گی۔ اس لیے اپنے بچوں کے سامنے رشتوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا نہ کریں۔ انہیں محبت بانٹنا سکھائیں، نفرت نہیں۔ انہیں معاف کرنا سکھائیں، بدلہ لینا نہیں۔ انہیں جوڑنا سکھائیں، توڑنا نہیں۔ ہر رشتے کی اہمیت کو قبول کرنا چاہیے اور اسے اس کا مقام دینا چاہیے۔ یہ رشتے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہترین تحائف ہیں۔ ان کی قدر کریں، کیونکہ دولت دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہے، وقت بھی کسی حد تک واپس لایا جا سکتا ہے، لیکن بعض رشتے جب دل سے نکل جائیں تو پھر پوری زندگی پچھتاوا باقی رہ جاتا ہے۔ رشتے نبھائیے، دل نہ توڑیے، کیونکہ زندگی بہت مختصر ہے اور اپنوں کے بغیر بہت ادھوری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں