34

حلقہ تین پونچھ، کھائی گلہ میں سیاسی تبدیلی کی دستک ڈاکٹر عرفان اشرف کی ممکنہ کامیابی نظریۂ پاکستان کے علمبرداروں کے لیے بڑی نوید ثابت ہو گی تحریر: وقاص اشرف

حلقہ تین پونچھ، کھائی گلہ کا سیاسی میدان اس وقت غیر معمولی سیاسی سرگرمیوں کی زد میں ہے۔ انتخابی معرکہ جوں جوں قریب آ رہا ہے، سیاسی صف بندیاں بھی واضح ہوتی جا رہی ہیں اور حلقے کے عوام میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ آیا روایتی سیاست ایک مرتبہ پھر اپنی جگہ برقرار رکھے گی یا اس بار کوئی نئی سیاسی قوت تاریخ رقم کرے گی۔حلقہ تین میں ایک طرف طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والے سابق وزیراعظم سردار یعقوب خان پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے انتخابی میدان میں موجود ہیں، جبکہ دوسری جانب حاجی عبدالرشید مسلم لیگ کے امیدوار کے طور پر مقابلے میں ہیں۔ سردار یعقوب خان کی طویل سیاسی حکمرانی کے حوالے سے ان کے مخالفین کی جانب سے کرپشن، بدعنوانی اور عوامی وسائل کے مبینہ غلط استعمال کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، جبکہ حاجی عبدالرشید کے سیاسی مخالفین انہیں تجربے اور فعال سیاسی کردار کے حوالے سے کمزور امیدوار قرار دے رہے ہیں۔ایسے سیاسی ماحول میں ڈاکٹر عرفان اشرف ایک مختلف سیاسی انداز کے ساتھ انتخابی میدان میں موجود ہیں۔ ان کی سیاست کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ محض انتخابی موسم میں عوام کے درمیان نظر آنے کے بجائے مسلسل عوامی رابطے اور خدمت کے ذریعے اپنی سیاسی شناخت بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ان کے حامیوں کے مطابق ڈاکٹر عرفان اشرف نے اپنی استطاعت کے مطابق حلقے میں اپنی مدد آپ کے تحت متعدد فلاحی، سماجی اور عوامی نوعیت کے کام کیے اور مشکل حالات میں لوگوں کے ساتھ کھڑے رہے۔ محدود ذاتی وسائل کے باوجود عوامی مسائل سننا، ضرورت مندوں کی مدد کرنا اور متعلقہ اداروں تک لوگوں کی آواز پہنچانے کی کوشش ان کی سیاسی سرگرمیوں کا اہم حصہ رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر عرفان اشرف کے حامی ان کی سیاست کو محض اقتدار کے حصول کی سیاست نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک سیاست کا مقصد صرف اسمبلی کی نشست حاصل کرنا نہیں بلکہ عوام کے مسائل کو اجاگر کرنا، محرومیوں کو متعلقہ فورمز تک پہنچانا اور عام آدمی کے ساتھ عملی طور پر کھڑا ہونا بھی ہے۔حلقے کے مختلف علاقوں میں بنیادی ضروریات اور مقامی مسائل کے حوالے سے ڈاکٹر عرفان اشرف کی سرگرمیوں کو ان کے سیاسی حامی ایک مثبت پہلو قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابی سیاست میں بڑے وسائل اور روایتی سیاسی اثر و رسوخ کے باوجود اگر کوئی امیدوار محدود وسائل کے ساتھ مسلسل عوام کے درمیان موجود رہے تو یہ اس کے لیے ایک اہم سیاسی سرمایہ بن سکتا ہے۔حلقے کے بعض عوامی حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ موجودہ انتخاب محض امیدواروں کے درمیان مقابلہ نہیں بلکہ دو مختلف سیاسی طرزِ فکر کے درمیان مقابلہ بنتا جا رہا ہے۔ ایک طرف روایتی اور طویل عرصے سے آزمائی ہوئی سیاست ہے تو دوسری جانب نئی توانائی، عوامی رابطے اور نظریاتی سیاست کا بیانیہ سامنے آ رہا ہے۔ڈاکٹر عرفان اشرف نظریۂ پاکستان کے داعی اور مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے انتخابی میدان میں موجود ہیں۔ ان کے حامیوں کے مطابق نظریاتی سیاست سے وابستگی ان کی سیاسی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سیاست کو محض شخصیات اور انتخابی مفادات تک محدود رکھنے کے بجائے نظریات، عوامی خدمت اور قومی سوچ کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے۔مسلم کانفرنس کی تاریخی سیاسی شناخت اور نظریۂ پاکستان سے وابستگی کے تناظر میں ڈاکٹر عرفان اشرف کی انتخابی مہم کو ان کے حامی ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ڈاکٹر عرفان اشرف حلقہ تین پونچھ سے کامیاب ہوتے ہیں تو یہ صرف ایک امیدوار کی کامیابی نہیں ہو گی بلکہ نظریاتی سیاست کے لیے بھی ایک مضبوط سیاسی پیغام ثابت ہو سکتی ہے۔حلقہ تین پونچھ کا انتخاب اس لحاظ سے بھی اہم دکھائی دے رہا ہے کہ یہاں روایتی سیاسی اثر و رسوخ، سابقہ حکمرانی اور نئی سیاسی سوچ ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ اب فیصلہ بہرحال حلقے کے عوام نے کرنا ہے کہ وہ ماضی کی سیاست کو ترجیح دیتے ہیں یا عوامی رابطے، خدمت اور نظریاتی سیاست کے نئے بیانیے کو موقع دیتے ہیں۔اگر ڈاکٹر عرفان اشرف کامیابی حاصل کرتے ہیں تو ان کے حامی اسے محض ایک انتخابی فتح نہیں بلکہ حلقہ تین پونچھ میں سیاسی تبدیلی کی دستک اور نظریۂ پاکستان کے علمبرداروں کے لیے ایک بڑی نوید قرار دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں