اسلام آباد، پیرس ( نمائندگان )انٹرنیشنل کشمیر پیس فورم یورپ کے چیئرمین زاہد اقبال ہاشمی نے حکومت، متعلقہ اداروں اور عوامی ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی پیشکش کردی۔اپنے ایک بیان میں زاہد اقبال ہاشمی نے کہاکہ آزاد کشمیر میں کسی صورت بے گناہ لوگوں کا قتل قابل قبول نہیں، عوام کا قتل روکنا ضروری ہے۔ نئی حکومت فوری طور پر عوام کے قتل کا سلسلہ رکوائے اور پونچھ میں پرامن اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، ہسپتالوں، سرکاری دفاتر اور روزمرہ زندگی کے معمولات کو بحال کرکے کشمیر میں امن قائم کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ دنیا جانتی ہے کہ ہم نہ کبھی پاکستان سے جدا ہوسکتے ہیں اور نہ ہی کوئی ہمیں پاکستان سے جدا کرسکتا ہے۔ پاکستان اور کشمیر لازم و ملزوم ہیں۔زاہد اقبال ہاشمی نے کہا کہ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں آج مقبوضہ کشمیر کے بجائے پہلے آزاد کشمیر کے مسائل کی بات کرنی چاہیے، یہ بات اپنی جگہ درست ہے، لیکن بھارت چاہتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ ہی مکمل طور پر ختم کردیا جائے، جو اس کی خام خیالی ہے۔ آزاد کشمیر کے مسائل ہمارا اندرونی معاملہ ہے جسے ہر صورت حل کرنا ہے، لیکن مقبوضہ کشمیر ہماری منزل ہے جسے کسی قیمت پر حاصل کرکے رہیں گے۔ الحمدللہ پوری کشمیری قوم کشمیر کی سالمیت پر یقین رکھتی ہے۔ کشمیر ایک وحدت ہے، اس پر مرنا شہادت ہے۔زاہد اقبال ہاشمی نے کہاکہ سید علی گیلانی نے ہمیشہ پاکستان کی تکمیل کی جنگ لڑی۔زاہد اقبال ہاشمی نے کہا کہ ہم اپنی بھرپور کوشش کررہے ہیں کہ دھرنے میں جائیں اور ذمہ داران سے مؤدبانہ گزارش کریں کہ اس سارے مسئلے کا حل مل بیٹھ کر نکالا جائے، تاکہ لوگوں کی جانیں بلاوجہ ضائع نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ساری دنیا کی نظریں پاکستان اور کشمیریوں پر لگی ہوئی ہیں، جتنا زیادہ اس مسئلے کو طول دیا جائے گا، اتنا ہی زیادہ نقصان ہوگا۔انہوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات جائز ہیں، تاہم طریقہ کار کا تعین کرنا ضروری ہے۔زاہد اقبال ہاشمی نے کہاکہ 2 ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ عوامی ایکشن کمیٹی کا مطالبہ تھا کہ مہاجرین کی 12 نشستیں ختم کی جائیں، وہاں تمام نشستوں پر انتخابات بھی ہوگئے اور ڈپٹی اسپیکر بھی مہاجرین میں سے بن گیا۔انہوں نے کہا کہ جو ریڑھی والا، چھابے والا یا مزدور راولاکوٹ میں مارا گیا، اس بے چارے کا کیا قصور تھا؟ اس کا ان 12 نشستوں کے ساتھ کیا تعلق تھا؟ اسے تو 12 نشستوں کی تشریح بھی معلوم نہیں تھی۔ زاہد اقبال ہاشمی کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی بدنامی ہورہی ہے۔ اس لیے اس گھمبیر انسانی مسئلے کا فوری حل تلاش نہ کیا گیا تو کہیں معاملات ہاتھ سے نہ نکل جائیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سول حکومت یہ مسائل حل کرنے میں ناکام رہی تو جمہوریت ناکام ہوجائے گی۔انہوں نے ایک بار پھر حکومت، متعلقہ اداروں اور عوامی ایکشن کمیٹی پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور مسئلے کا پرامن اور قابل قبول حل تلاش کریں تاکہ مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جاسکے۔
2











