7

ماحولیاتی تباہی، کون ذمہ دار؟ حمید علی

ماحولیاتی آلودگی آج پاکستان کے بڑے شہروں کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات اور متعلقہ سرکاری اداروں کی کارکردگی عوامی توقعات پر پوری نہیں اتر سکی۔ آبادی میں بے تحاشا اضافہ، صنعت کاری، ٹریفک کا دباؤ، درختوں کی کٹائی اور ناقص شہری منصوبہ بندی نے قدرتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ صاف ہوا، شفاف پانی اور صحت مند ماحول ہر شہری کا بنیادی حق ہے لیکن لاہور، کراچی، اسلام آباد، فیصل آباد اور ملتان جیسے شہروں میں شہریوں کو ان بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے قائم ادارے، متعلقہ محکمے اور حکومتیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں کیوں ناکام دکھائی دیتی ہیں؟

لاہور پاکستان کا ایک بڑا تاریخی، ثقافتی اور صنعتی شہر ہے لیکن گزشتہ کئی برسوں سے اسموگ نے اس کی فضا کو شدید متاثر کر رکھا ہے۔ سردیوں میں شہر اکثر دھوئیں اور آلودہ ذرات کی دبیز تہہ میں چھپ جاتا ہے۔ گاڑیوں کا دھواں، صنعتی اخراج، بھٹوں سے پیدا ہونے والی آلودگی، تعمیراتی سرگرمیاں اور فصلوں کی باقیات جلانے کے واقعات اس مسئلے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال پر قابو پانا متعلقہ سرکاری اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے مگر ہر سال اسموگ کی شدت میں اضافے کے بعد اجلاسوں، ہدایات، عارضی پابندیوں اور چند روزہ مہمات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب آلودگی کے اسباب برسوں سے معلوم ہیں تو ان کے خاتمے کے لیے مستقل اور مؤثر اقدامات پہلے سے کیوں نہیں کیے جاتے؟

لاہور میں اسموگ کے باعث شہریوں کی صحت متاثر ہوتی ہے، بچوں اور بزرگوں کو سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے اور تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ ایسے حالات میں محض شہریوں کو ماسک پہننے، گھروں میں رہنے یا غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کرنے کا مشورہ دینا کافی نہیں۔ حکومت کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ آلودگی پیدا کرنے والے صنعتی یونٹوں، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کتنی مؤثر کارروائی کی گئی۔ اگر ہر سال یہی مسائل دوبارہ جنم لیتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ حکمتِ عملی میں بنیادی خامیاں موجود ہیں۔ عوام کو وقتی ریلیف دینے کے بجائے آلودگی کے بنیادی اسباب ختم کرنا حکومت اور متعلقہ اداروں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان میں وفاقی سطح پر وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ اور متعلقہ ماحولیاتی ادارے جب کہ صوبائی سطح پر ماحولیاتی تحفظ کے محکمے اور ایجنسیاں کام کرتی ہیں۔ ان اداروں کی ذمہ داری صرف قوانین بنانا، نوٹس جاری کرنا یا آلودگی کے اعداد و شمار جمع کرنا نہیں بل کہ قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانا، صنعتی اخراج کی نگرانی کرنا، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنا اور عوام کو درست معلومات فراہم کرنا بھی ہے۔ تاہم جب شہریوں کو بار بار فضائی آلودگی، آلودہ پانی، کچرے اور صنعتی فضلے کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے تو ان اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ ان اداروں کی نگرانی کا مؤثر نظام کیا ہے اور ان کی کارکردگی کا احتساب کس بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی سرگرمیوں کا مرکز ہے لیکن صنعتی آلودگی، ٹریفک کے دھوئیں، کچرے کے ناقص انتظام اور آلودہ پانی نے اس کے ماحول کو شدید متاثر کیا ہے۔ مختلف علاقوں میں کچرے کے ڈھیر، نالوں میں جمع گندگی اور بعض مقامات پر کچرا جلانے کے واقعات شہری انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ صنعتی فضلے اور گندے پانی کو مناسب طریقے سے صاف کیے بغیر خارج کرنا انسانی صحت اور سمندری حیات کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اس کے باوجود اگر شہری برسوں تک صفائی، نکاسیٔ آب اور آلودگی کے مسائل سے دوچار رہیں تو متعلقہ اداروں کی جواب دہی ضروری ہو جاتی ہے۔ حکومت کو محض وسائل کی کمی کا عذر پیش کرنے کے بجائے موجود وسائل کے شفاف اور مؤثر استعمال کو یقینی بنانا چاہیے۔

اسلام آباد کو پاکستان کے نسبتاً سرسبز اور خوب صورت شہروں میں شمار کیا جاتا ہے لیکن یہاں بھی تعمیراتی سرگرمیوں، گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال، درختوں کی کٹائی اور قدرتی علاقوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ نے ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا کیے ہیں۔ مارگلہ کی پہاڑیوں اور شہر کے سرسبز علاقوں کا تحفظ متعلقہ اداروں کی اہم ذمہ داری ہے۔ اگر ترقیاتی منصوبوں کے دوران درختوں، قدرتی نالوں اور سبز مقامات کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دیتے وقت ماحولیاتی اثرات کا حقیقی جائزہ لے اور خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرے۔ قدرتی ماحول کو نقصان پہنچانے کے بعد شجرکاری کی مہمات شروع کرنا اس وقت تک کافی نہیں، جب تک موجودہ درختوں اور قدرتی وسائل کا تحفظ یقینی نہ بنایا جائے۔

فیصل آباد، گوجرانوالہ اور ملتان جیسے شہروں میں بھی صنعتی اخراج، گردوغبار، ٹریفک اور ناقص شہری منصوبہ بندی کے باعث ماحولیاتی مسائل بڑھ رہے ہیں۔ فیصل آباد میں صنعتی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے فضلے اور آلودہ پانی کی نگرانی، گوجرانوالہ میں صنعتی اخراج کی روک تھام اور ملتان میں گردوغبار اور شہری پھیلاؤ پر قابو پانا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اگر ماحولیاتی قوانین موجود ہیں تو ان پر عمل درآمد کیوں یقینی نہیں بنایا جا رہا؟ اگر قوانین میں خامیاں ہیں تو انھیں دور کرنے کے لیے مؤثر قانون سازی کیوں نہیں کی جاتی اور اگر اداروں کے پاس وسائل کی کمی ہے تو حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے کتنے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے؟ ان سوالات کے جواب محض سرکاری بیانات سے نہیں بل کہ عملی کارکردگی اور قابلِ تصدیق نتائج سے سامنے آنے چاہییں۔

ماحولیاتی آلودگی کا نقصان صرف صحت تک محدود نہیں بل کہ قومی معیشت اور سماجی زندگی بھی اس سے متاثر ہوتی ہے۔ بیماریوں میں اضافے سے علاج معالجے کے اخراجات بڑھتے ہیں، ملازمین کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور تعلیمی اداروں میں غیر حاضری بڑھ سکتی ہے۔ شدید اسموگ کے باعث کاروباری سرگرمیاں اور آمدورفت متاثر ہوتی ہیں جب کہ آلودہ پانی مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اس صورتِ حال میں حکومت کی ذمہ داری صرف ہنگامی اقدامات کرنا نہیں بل کہ صحت، صنعت، ٹرانسپورٹ، زراعت اور شہری منصوبہ بندی کے محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کرنا بھی ہے۔ ماحولیاتی مسائل کو ایک محکمے تک محدود سمجھنا خود انتظامی کم زوری کی علامت ہے۔ جب تک تمام متعلقہ ادارے مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کام نہیں کریں گے، اس بحران پر قابو پانا مشکل رہے گا۔

پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے حکومت کو نمائشی مہمات اور عارضی اقدامات سے آگے بڑھنا ہوگا۔ صنعتی یونٹوں کے اخراج کی مسلسل نگرانی، گاڑیوں کے دھوئیں کی جانچ، صاف ایندھن کا فروغ، جدید پبلک ٹرانسپورٹ، گندے پانی کی صفائی اور کچرے کے مؤثر انتظام کو ترجیح دینا ہوگی۔ ماحولیاتی اداروں کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے، فضائی معیار کے اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھے جائیں اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے بااثر افراد اور اداروں کے خلاف بھی یکساں کارروائی کی جائے۔ اسی طرح ماحولیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کے استعمال میں شفافیت اور ذمہ دار افسران کے احتساب کو یقینی بنایا جائے۔ حکومت کو ہر سال یہ رپورٹ پیش کرنی چاہیے کہ آلودگی میں کمی کے لیے کیا اہداف مقرر کیے گئے اور ان میں سے کتنے حاصل ہوئے۔

حقیقت یہ ہے کہ صاف ہوا اور صحت مند ماحول کسی حکومت کا احسان نہیں بل کہ عوام کا بنیادی حق ہے۔ لاہور کی اسموگ، کراچی کی آلودگی، اسلام آباد کے قدرتی ماحول پر بڑھتا ہوا دباؤ اور دیگر شہروں کے مسائل حکومتی ترجیحات اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا سنجیدہ امتحان ہیں۔ اگر ہر سال شہری آلودگی کا شکار ہوں، بیماریاں بڑھیں اور ماحول کو نقصان پہنچتا رہے مگر ذمہ دار اداروں سے مؤثر جواب طلبی نہ ہو تو صورتِ حال میں بہتری کی امید کم ہو جاتی ہے۔ حکومت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ماحولیاتی بحران صرف قدرتی عوامل کا نتیجہ نہیں بل کہ ناقص منصوبہ بندی، کم زور نگرانی اور غیر مؤثر عمل درآمد بھی اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سرکاری ادارے کاغذی کارروائی اور بیانات سے نکل کر عملی میدان میں اپنی کارکردگی ثابت کریں کیوں کہ ترقی کا اصل معیار بلند عمارتیں اور کشادہ سڑکیں نہیں بل کہ ایک ایسا پاکستان ہے جہاں شہری صاف ہوا میں سانس لے سکیں اور آنے والی نسلیں صحت مند ماحول میں زندگی گزار سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں