ایک غریب باپ ڈاکٹر کی پرچی ہاتھ میں لیے میڈیکل اسٹور کے سامنے کھڑا ہے۔ جیب میں موجود رقم وہ بار بار گن رہا ہے۔ سامنے کھڑی دواؤں کی لمبی قطار اسے دیکھ کر جیسے پوچھ رہی ہے۔ “ہمیں خریدنا ہے تو گھر کا راشن کہاں سے آئے گا؟ راشن خریدنا ہے تو بیمار بچے کی دوا کون لائے گا؟” یہ کوئی فرضی منظر نہیں، ہمارے معاشرے کے لاکھوں خاندانوں کی روزمرہ زندگی کی تلخ حقیقت ہے۔
بیماری انسان کو پہلے ہی بے بس کر دیتی ہے، مگر جب علاج بھی اس کی استطاعت سے باہر ہو جائے اور مہنگی دوا خریدنے کے بعد بھی یہ خوف موجود ہو کہ کہیں وہ جعلی یا غیر معیاری نہ ہو تو اس سے بڑا المیہ اور کیا ہوگا؟ پاکستان میں صحت کا بحران صرف ہسپتالوں کی کمی یا ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کا مسئلہ نہیں رہا۔ جعلی ادویات، غیر معیاری علاج، عطائیت اور ادویات کی مسلسل بڑھتی قیمتیں مل کر ایک ایسا خطرناک جال بن چکی ہیں جس میں سب سے زیادہ غریب اور متوسط طبقہ پھنس رہا ہے۔
وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے جعلی ادویات کے خاتمے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ادویات پر 2D بارکوڈ اور سیریل نمبر لازمی قرار دینے کے حوالے سے اہم پیش رفت کی ہے۔ ڈریپ کے تحت ادویات کی ٹریک اینڈ ٹریس نگرانی کا مقصد یہ ہے کہ دوا کی تیاری سے لے کر مریض تک پہنچنے کے پورے سفر کو قابلِ سراغ بنایا جا سکے۔ یہ بلاشبہ ایک مثبت قدم ہے، کیونکہ اگر ہر دوا کی شناخت منفرد ہو اور اسے ڈیجیٹل نظام کے ذریعے چیک کیا جا سکے تو جعلی دوا کو اصل دوا کے نام پر مارکیٹ میں فروخت کرنا مشکل بنایا جا سکتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف بارکوڈ لگا دینے سے جعلی ادویات کا ناسور ختم ہو جائے گا؟
یقیناً نہیں!
ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ پاکستان میں مسئلہ قوانین کی کمی سے زیادہ قانون پر عمل درآمد کی کمزوری کا ہے۔ قانون موجود ہوتا ہے مگر اس کی گرفت کمزور ہوتی ہے۔ چھاپے پڑتے ہیں، چند گرفتاریاں ہوتی ہیں، خبریں شائع ہوتی ہیں اور پھر کچھ عرصے بعد وہی کاروبار نئے نام، نئی جگہ اور نئے طریقے سے دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ جعلی دوا بنانے والے سے لے کر اسے مریض تک پہنچانے والے ہر کردار کو قانون کے دائرے میں لایا جائے۔ دوا ساز کمپنی سے لے کر درآمد کنندہ، ڈسٹری بیوٹر، ہول سیلر اور میڈیکل اسٹور تک سپلائی چین کے ہر مرحلے کا ریکارڈ محفوظ ہونا چاہیے۔ اگر جعلی دوا کسی دکان سے برآمد ہوتی ہے تو صرف دکاندار کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے یہ بھی معلوم کیا جائے کہ وہ دوا اس کے پاس پہنچی کہاں سے تھی۔
اس کے ساتھ عوام کو بھی بااختیار بنانے کی ضرورت ہے۔ بارکوڈ کی تصدیق کے لیے ایسی آسان موبائل ایپ ہونی چاہیے جسے ایک عام شہری بھی استعمال کر سکے۔ وہ دوا خریدتے وقت کوڈ اسکین کرے اور فوراً معلوم کر لے کہ دوا اصلی ہے یا مشکوک، اس کی ایکسپائری ڈیٹ کیا ہے اور وہ قانونی طور پر رجسٹرڈ ہے یا نہیں۔ اگر کوئی مشکوک دوا سامنے آئے تو شکایت درج کرنے کا آسان نظام بھی موجود ہونا چاہیے۔
ہمارے ہاں جعلی ادویات سے بھی بڑا مسئلہ اصلی دوا کی بڑھتی ہوئی قیمت ہے۔ اگر دوا اصلی ہو مگر غریب کی پہنچ سے باہر ہو تو مریض کے لیے مسئلہ پھر بھی حل نہیں ہوا۔ آج بہت سے خاندان بیماری کے علاج کے لیے اپنی جمع پونجی ختم کر دیتے ہیں۔ بعض لوگ ڈاکٹر کی تجویز کردہ مکمل دوا خریدنے کے بجائے خوراک کم کر دیتے ہیں، علاج درمیان میں چھوڑ دیتے ہیں یا سستی مگر غیر مؤثر دوا تلاش کرتے ہیں۔ دائمی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے تو یہ مسئلہ اور بھی سنگین ہے۔ دیکھا جائے تو اصلی ادویہ کی ہوش ربا قیمتیں بھی جعلی ادویہ کے مارکیٹ میں آنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ مریض اصل دوا کے متبادل کے طور پر جعلی ادویہ خرید لیتے ہیں اور انہیں استعمال کر کے مزید پیچیدہ امراض کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
حکومت کو ادویات کی قیمتوں کے معاملے میں شفافیت لانا ہوگی۔ دوا ساز کمپنیوں کے پیداواری اخراجات، خام مال، درآمدی لاگت، ٹیکس، تقسیم کے اخراجات اور منافع کا جائزہ لیے بغیر محض قیمت بڑھانے کی اجازت دینا کسی صورت مناسب نہیں۔ اگر کسی دوا کی قیمت بڑھانا ناگزیر ہے تو اس کی وجہ بھی واضح ہونی چاہیے۔ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کی زندگی بچانے والی دوا ہر چند ماہ بعد مہنگی کیوں ہو رہی ہے۔
ضروری اور جان بچانے والی ادویات کے لیے حکومت کو خصوصی پالیسی بنانی چاہیے۔ شوگر، بلڈ پریشر، دل، گردوں، کینسر اور دیگر دائمی بیماریوں کے مریض ہر ماہ ادویات خریدتے ہیں۔ ان کے لیے دوا کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی گھریلو بجٹ پر بڑا بوجھ بن جاتا ہے۔ ریاست کو ایسے مریضوں کے لیے سبسڈی، ہیلتھ کارڈ یا دیگر مؤثر سہولیات کے دائرے کو وسعت دینی چاہیے۔
جعلی ادویات کے مسئلے کے ساتھ عطائیت کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔ پسماندہ علاقوں میں آج بھی ایسے افراد طبی پریکٹس کرتے ہیں جن کے پاس مطلوبہ تعلیمی اور پیشہ ورانہ اہلیت نہیں۔ غلط تشخیص، غیر ضروری اینٹی بائیوٹکس اور بلا ضرورت انجکشن مریض کی بیماری کم کرنے کے بجائے اسے مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ اگر سرکاری بنیادی مراکز صحت فعال ہوں، وہاں مستند ڈاکٹر اور ضروری ادویات دستیاب ہوں تو غریب آدمی عطائیوں کے رحم و کرم پر جانے سے بچ سکتا ہے۔
سب سے بڑھ کر ڈرگ انسپکشن کے نظام کو جواب دہ بنانا ہوگا۔ اگر کسی علاقے میں جعلی ادویات کا کاروبار طویل عرصے تک جاری رہتا ہے تو سوال صرف جعل سازوں سے نہیں، نگرانی کرنے والے اداروں سے بھی ہونا چاہیے۔ کرپشن یا غفلت ثابت ہونے پر متعلقہ اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دوا کوئی عام تجارتی شے نہیں۔ جوتا، کپڑا یا کوئی اور ناقص چیز فروخت ہو تو خریدار اسے واپس کر سکتا ہے، مگر جعلی دوا کا نقصان بعض اوقات ناقابلِ تلافی ہوتا ہے۔ اس لیے دوا کے کاروبار میں صرف منافع نہیں، انسانی زندگی بنیادی معیار ہونا چاہیے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہری کو تین چیزیں یقینی بنائے: اصلی دوا، مناسب قیمت اور محفوظ علاج۔
بارکوڈ کا نظام اس سمت میں ایک اچھی ابتدا ہے، مگر اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب جعلی دوا بنانے والا خوفزدہ ہو، غیر قانونی فروخت کرنے والا قانون سے نہ بچ سکے، قیمت بڑھانے والے کو جواب دینا پڑے اور عام شہری اپنی خریدی ہوئی دوا کی اصلیت چند سیکنڈ میں جان سکے۔ غریب پاکستانی پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ اسے بیماری کے وقت یہ فیصلہ کرنے پر مجبور نہ کیا جائے کہ دوا خریدے یا گھر کا راشن۔ اور خدارا، اس کے ہاتھ میں ایسی دوا بھی نہ دی جائے جس کے پیکٹ پر تو صحت لکھی ہو مگر اندر موت چھپی ہو۔ کیونکہ جعلی دوا صرف جعلی چیز نہیں، کسی کی زندگی کا سودا ہے۔
6











