ایک خاتون مصنفہ ویلنسیا لکھتی ہیں کل رات میرے شوہر سے کچن میں ایک گلاس گر گیا اور وہ ٹوٹ گیا۔
مجھے زور سے آواز آئی، مگر میں نے دیکھا نہیں کہ کیا ہوا۔ انہوں نے صفائی کی، جھاڑو دیا، ٹوٹے ہوئے شیشے سمیٹے اور اطمینان کر کے سو گئے۔
رات کو جب میری آنکھ کھلی تو میں کسی کام سے کچن میں گئی۔
وہاں مجھے فرش پر شیشے کے دو تین ٹکڑے نظر آئے۔
😡*پہلا احساس غصہ تھا* ۔
دل میں آیا
“اتنی سی بات بھی ٹھیک سے نہیں کر سکتے؟ اگر بچے ننگے پاؤں آ جاتے تو؟”
میں سوچ رہی تھی کہ انہوں نے کتنی لاپرواہی کی ہے، مگر پھر اندر سے ایک سوال آیا*
“کیا تم اس کی شریکِ حیات نہیں ہو؟”
میں رک گئی۔
میں نے دوبارہ جھاڑو اٹھایا۔
فرش صاف کیا۔
ہر کونے کو دیکھا کہ کہیں شیشے کا کوئی ٹکڑا باقی نہ رہ گیا ہو۔
اور پھر مجھے ایک بات سمجھ آئی۔
🌸 یہی تو شادی ہے۔
👈شادی میں ہمیشہ یہ نہیں دیکھا جاتا کہ دوسرے نے کیا غلط چھوڑ دیا۔
کبھی یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اس نے اپنی پوری کوشش کی، لیکن کچھ کمی رہ گئی۔
اور جہاں اس کی کمی ہو، وہاں آپ اس کا ہاتھ پکڑ کر وہ کمی پوری کر دیں۔
وہ ہمیشہ کامل نہیں ہوگا۔
آپ بھی ہمیشہ کامل نہیں ہوں گی۔
کبھی آپ تھک جائیں گی، وہ آپ کا سہارا بنے گا۔
کبھی وہ غلطی کرے گا، آپ اسے سنبھال لیں گی۔
کبھی وہ کوئی کام ادھورا چھوڑ دے گا، آپ اسے مکمل کر دیں گی۔
اور کبھی آپ سے کوئی چیز چھوٹ جائے گی، وہ بغیر شکایت کے اسے ٹھیک کر دے گا۔
👈 سچا شریکِ حیات وہ نہیں جو ہر وقت دوسرے کی غلطیاں گنے۔
سچا شریکِ حیات وہ ہے جو دیکھے کہ کہاں کمی رہ گئی ہے اور خاموشی سے اسے پورا کر دے۔
ہر وقت شکایت کرنے کا وقت نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی شادی میں شکایت نہیں، کمی کو پورا کرنا محبت ہوتا ہے۔
کیونکہ گھر میں “میں نے اپنا کام کر دیا، اب باقی تم جانو” والی سوچ رشتوں کو کمزور کرتی ہے۔
مگر یہ سوچ کہ
“جہاں تم سے رہ گیا، وہاں میں سنبھال لوں گا۔”
یہی سوچ گھر کو صرف مکان نہیں بلکہ گھر بناتی ہے۔











