4

:تباہی کی طرف جاتی دنیا! از قلم: ایمان جاوید اقبال

انسانی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا نے ہر دور میں ترقی اور زوال کے مختلف مراحل دیکھے ہیں۔ کبھی تہذیبیں عروج پر پہنچیں اور کبھی اپنے ہی اعمال کی وجہ سے مٹ گئیں۔ آج اکیسویں صدی کا انسان خود کو تاریخ کا سب سے ترقی یافتہ انسان سمجھتا ہے۔ جدید سائنس، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ اور نت نئی ایجادات نے زندگی کو بظاہر آسان بنا دیا ہے۔ مگر اگر ہم ذرا گہرائی میں جا کر اپنے اردگرد کا جائزہ لیں تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جتنی تیزی سے دنیا ترقی کر رہی ہے، اتنی ہی تیزی سے تباہی کی طرف بھی بڑھ رہی ہے۔

آج دنیا کو سب سے بڑا خطرہ کسی ایک ملک، قوم یا نظریے سے نہیں بلکہ انسان کی اپنی سوچ، خود غرضی اور بے حسی سے ہے۔ ترقی کے نام پر انسان نے قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال کیا، دولت کے حصول کو زندگی کا مقصد بنا لیا اور اخلاقیات کو پس پشت ڈال دیا۔ نتیجتاً ایک ایسی دنیا وجود میں آ رہی ہے جہاں آسائشیں تو بڑھ رہی ہیں مگر انسانیت دم توڑتی جا رہی ہے۔

اگر ہم موجودہ عالمی حالات پر نظر ڈالیں تو دنیا کے مختلف خطے جنگوں کی لپیٹ میں ہیں۔ کہیں بارود کی بو فضا میں پھیلی ہوئی ہے، کہیں معصوم بچے ملبے تلے دبے سسک رہے ہیں اور کہیں مائیں اپنے پیاروں کی لاشوں پر بین کر رہی ہیں۔ طاقتور ممالک اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کے لیے کمزور قوموں کو قربانی کا بکرا بنا رہے ہیں۔ جنگوں کا خمیازہ ہمیشہ عام انسان کو بھگتنا پڑتا ہے، مگر فیصلے کرنے والے محفوظ کمروں میں بیٹھ کر صرف اپنے مفادات کا حساب لگاتے ہیں۔

انسانی حقوق کے بلند بانگ دعوے کرنے والی دنیا میں آج بھی لاکھوں لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ کہیں بھوک انسانوں کی جان لے رہی ہے تو کہیں صاف پانی تک میسر نہیں۔ دنیا کے ایک حصے میں کھانے پینے کی اشیاء ضائع کی جا رہی ہیں جبکہ دوسرے حصے میں لوگ ایک وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں۔ یہ تضاد اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دنیا ترقی ضرور کر رہی ہے مگر انصاف اور مساوات کے میدان میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی بھی تباہی کی ایک بڑی وجہ بنتی جا رہی ہے۔ درختوں کا بے دریغ کٹاؤ، صنعتی آلودگی، پلاسٹک کا بڑھتا ہوا استعمال اور قدرتی وسائل کا غیر ذمہ دارانہ استعمال زمین کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکا ہے۔ موسموں کا نظام درہم برہم ہو رہا ہے۔ کہیں شدید گرمی کے باعث سینکڑوں افراد جان کی بازی ہار رہے ہیں تو کہیں طوفان اور سیلاب بستیاں اجاڑ رہے ہیں۔ گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں اور سمندروں کی سطح بلند ہو رہی ہے۔ ماہرین بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والی نسلوں کو شدید ماحولیاتی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا، مگر افسوس کہ انسان اب بھی اپنی روش بدلنے کے لیے تیار نہیں۔

سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی نے بلاشبہ دنیا کو قریب کر دیا ہے، مگر اس کے منفی اثرات بھی واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ لوگ حقیقی تعلقات سے دور اور مصنوعی دنیا کے قریب ہو گئے ہیں۔ گھروں میں رہنے والے افراد ایک دوسرے سے کم اور موبائل فون سے زیادہ بات کرتے ہیں۔ دوستی، محبت، خلوص اور احترام جیسی اقدار کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔ نوجوان نسل معلومات کے سمندر میں تو موجود ہے مگر شعور اور فہم کی پیاس بڑھتی جا رہی ہے۔

معاشرتی سطح پر حالات مزید پریشان کن ہیں۔ خواتین، بچے اور بزرگ خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ آئے روز تشدد، ہراسانی، زیادتی اور ناانصافی کے واقعات سننے کو ملتے ہیں۔ انسانی جان کی حرمت کم ہوتی جا رہی ہے اور ظلم کرنے والے اکثر قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں۔ یہ صورتحال کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ جب انصاف کمزور پڑ جائے اور ظلم طاقتور ہو جائے تو معاشرہ تباہی کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔

اخلاقی زوال بھی موجودہ دور کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ جھوٹ، دھوکہ، منافقت، حسد اور لالچ عام ہوتے جا رہے ہیں۔ کامیابی کا معیار کردار نہیں بلکہ دولت بن چکا ہے۔ لوگ عزت کمانے کے بجائے شہرت حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ سچ بولنے والا کمزور اور اصولوں پر قائم رہنے والا بے وقوف سمجھا جاتا ہے۔ جب کسی معاشرے میں اخلاقیات کی جگہ مفاد پرستی لے لے تو اس کی بنیادیں ہلنا شروع ہو جاتی ہیں۔

تعلیم کے میدان میں بھی صورتحال مکمل طور پر اطمینان بخش نہیں۔ اگرچہ شرح خواندگی میں اضافہ ہوا ہے مگر تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا رہ گیا ہے۔ کردار سازی، برداشت، تحقیق اور تنقیدی سوچ جیسے عناصر پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ ہم تعلیم یافتہ افراد تو پیدا کر رہے ہیں مگر باشعور انسان کم پیدا ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علم بڑھنے کے باوجود معاشرتی مسائل میں کمی نہیں آ رہی۔

معاشی عدم مساوات بھی دنیا کو تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ امیر مزید امیر اور غریب مزید غریب ہوتا جا رہا ہے۔ دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہو رہی ہے جبکہ عام آدمی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کے بوجھ تلے دبا جا رہا ہے۔ جب کسی معاشرے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم نہ ہو تو وہاں بے چینی، جرائم اور انتشار جنم لیتے ہیں۔

ان تمام مسائل کے باوجود امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ دنیا کو تباہی سے بچانے کا راستہ اب بھی موجود ہے، بشرطیکہ انسان اپنی غلطیوں کا اعتراف کرے اور اصلاح کی جانب قدم بڑھائے۔ ہمیں ترقی کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کو بھی اہمیت دینا ہوگی۔ درخت لگانے ہوں گے، ماحول کا تحفظ کرنا ہوگا، انصاف کو مضبوط بنانا ہوگا اور انسانیت کو ہر مفاد پر ترجیح دینی ہوگی۔

والدین کو اپنی اولاد کی صرف تعلیمی نہیں بلکہ اخلاقی تربیت پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ تعلیمی اداروں کو صرف ڈگریاں بانٹنے کے بجائے اچھے انسان پیدا کرنے ہوں گے۔ حکومتوں کو عوامی فلاح کو ترجیح دینا ہوگی اور معاشرے کے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ اگر ہر شخص اپنی ذات سے اصلاح کا آغاز کرے تو ایک بہتر دنیا کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی تباہی ایٹمی ہتھیار، جنگیں یا قدرتی آفات نہیں بلکہ انسان کے دل سے انسانیت کا ختم ہو جانا ہے۔ جب دلوں میں رحم، محبت اور انصاف باقی نہ رہے تو ترقی بھی تباہی میں بدل جاتی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات پر دوبارہ غور کریں اور یہ فیصلہ کریں کہ ہمیں صرف ترقی یافتہ دنیا چاہیے یا ایک ایسی دنیا بھی چاہیے جہاں انسان محفوظ، باوقار اور خوشحال زندگی گزار سکے۔

اگر ہم نے وقت کی آواز نہ سنی، اپنی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا اور اپنی روش نہ بدلی تو آنے والی نسلیں ہمیں ایک ایسی نسل کے طور پر یاد رکھیں گی جس نے ترقی کے نام پر اپنے ہی مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا۔ لیکن اگر ہم آج ہی شعور، ذمہ داری اور انسانیت کا راستہ اختیار کر لیں تو یہی دنیا امن، محبت اور خوشحالی کا گہوارہ بھی بن سکتی ہے۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم دنیا کو تباہی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں یا تعمیر و ترقی کی حقیقی منزل تک پہنچانا چاہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں