قارئین، بلوچستان کی سنگلاخ سرزمین پر جہاں غربت، پسماندگی، ناخواندگی اور تعلیمی محرومی نسلوں سے معاشرتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں، وہاں تعلیم کے فروغ کے لیے عملی جدوجہد کرنے والی شخصیات کسی نعمت سے کم نہیں۔ گلستان تحصیل، جس کی آبادی دو لاکھ سے زائد ہے، میں احمد خان ایجوکیشن سسٹم کے تحت لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے جدید، معیاری اور اسٹیٹ آف دی آرٹ اسکولز و کالجز کا قیام محض تعلیمی ادارے تعمیر کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسے روشن مستقبل کی بنیاد ہے جس میں علم، شعور، خوداعتمادی اور انسانی وقار کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ احمد خان اچکزئی، پشتون بیلٹ کی معتبر، جامع اور مصلح شخصیت، تعلیم دوست قومی رہنما اور انسانی خدمت کے علم بردار کے طور پر ایک ایسے تعلیمی وژن کی نمائندگی کرتے ہیں جو محروم طبقات کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنے پر یقین رکھتا ہے۔احمد خان ایجوکیشن سسٹم کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس نے تعلیم کو محض صاحبِ استطاعت خاندانوں تک محدود رکھنے کے بجائے ہر بچے کا بنیادی حق سمجھا ہے۔ اداروں میں پورا تعلیمی سلسلہ سو فیصد مفت فراہم کرنے کا عزم اس حقیقت کا مظہر ہے کہ حقیقی تعلیمی انقلاب صرف عمارتوں، جدید سہولیات اور خوب صورت کلاس رومز سے نہیں آتا، بلکہ اس وقت جنم لیتا ہے جب غربت کسی بچے کے خوابوں کی راہ میں حائل نہ ہو۔ اس نظام کے تحت لڑکوں اور لڑکیوں کی بڑی تعداد علم حاصل کر رہی ہے، جبکہ یونیورسٹی کی منظوری کے مراحل کی جانب پیش رفت علاقے میں اعلیٰ تعلیم کے نئے امکانات پیدا کرنے کی امید دلاتی ہے۔یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے۔ جب ہمارے معاشرے میں تعلیم کی اہمیت تسلیم کی جاتی ہے تو پھر ایسے بے شمار بچے اسکولوں سے باہر کیوں رہ جاتے ہیں؟ اس سوال کا جواب غربت، شعور کی کمی، تعلیمی سہولیات کی عدم دستیابی اور روزگار کی مجبوریوں میں پوشیدہ ہے۔ بعض والدین کے لیے بچے کی فوری مزدوری گھر کے اخراجات پورے کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے، اس لیے وہ غیر ارادی طور پر اس کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ احمد خان اچکزئی کے تعلیمی ماڈل میں اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے بعض ضرورت مند والدین کو بچے کی مزدوری کے برابر معاوضہ دینے کی کوشش بھی شامل ہے، تاکہ معاشی مجبوری کے باعث کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ ہو۔ یہ اقدام تعلیم، ہمدردی اور سماجی ذمہ داری کے باہمی تعلق کی ایک قابلِ توجہ مثال ہے۔بلوچستان کا تعلیمی بحران اس مسئلے کی سنگینی کو مزید واضح کرتا ہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق،سے منسوب معلومات میں صوبے کے تقریباً 29 لاکھ 40 ہزار بچے، یعنی 2.94 ملین، اسکول سے باہر بتائے گئے ہیں۔ بچوں کے اسکول سے باہر ہونے کی شرح میں کمی کے دعووں کے باوجود بلوچستان ملک کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم کی صورتِ حال بالخصوص تشویش ناک ہے، کیونکہ دیہی علاقوں میں تعلیمی اداروں تک رسائی، معاشی مشکلات اور سماجی رکاوٹیں ان کے تعلیمی سفر کو مزید دشوار بناتی ہیں۔ صوبے میں شرحِ خواندگی کے حوالے سے بھی قومی اوسط کے مقابلے میں نمایاں فرق بیان کیا جاتا ہے، جو تعلیمی منصوبہ بندی اور مؤثر اقدامات کی ضرورت اجاگر کرتا ہے۔چائلڈ لیبر بھی بلوچستان کے مستقبل کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ فراہم کردہ معلومات میں NCHR اور UNICEF سے منسوب رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں تقریباً 86 لاکھ بچے مزدوری کرتے ہیں، جبکہ بلوچستان میں یہ تعداد 2 لاکھ ایک ہزار 352 بتائی گئی ہے۔ کوئلہ کانوں، گیراجوں، ہوٹلوں، کچرا چننے اور دیگر خطرناک کاموں میں بچوں کی موجودگی اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ غربت محض آمدنی کی کمی نہیں، بلکہ تعلیم، تحفظ اور بہتر مستقبل کے مواقع سے محرومی کا نام بھی ہے۔ ان اعداد و شمار کی حتمی اشاعت سے قبل متعلقہ سرکاری رپورٹس سے تصدیق ضروری ہے، تاہم مسئلے کی سنگینی کسی شک و شبہے کی محتاج نہیں۔احمد خان اچکزئی کی تعلیمی و انسانی خدمات کا اصل امتیاز یہی ہے کہ وہ محرومی کو محض ایک مسئلہ قرار دینے کے بجائے اس کے عملی حل کی سمت قدم بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں پشتون بیلٹ کا معتبر مصلح، تعلیم و انسانیت کا ترجمان اور سماجی ترقی کا داعی کہنا ان کے تعلیمی وژن کی ترجمانی کرتا ہے۔ اسی طرح، ان سے منسوب تصنیف ’’واشنگٹن سے بیجنگ تک‘‘ کا ذکر ان کے فکری اور مشاہداتی سفر کے حوالے سے کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ کتاب کے عنوان اور مصنف کی نسبت کی اشاعتی تصدیق کر لی جائے۔ قومی یا عالمی سطح کے اعزازی القابات بھی مستند خدمات اور شواہد کے ساتھ ہی زیادہ معتبر ہوتے ہیں۔گلستان میں جدید اسکولوں اور کالجوں کا قیام، تعلیم کو مفت رکھنے کا عزم، والدین کی معاشی مجبوریوں کو سمجھنا اور یونیورسٹی کے قیام کی جانب پیش قدمی ایک ایسے ماڈل کی تصویر پیش کرتی ہے جسے مناسب منصوبہ بندی، شفاف انتظام اور مستقل تعاون کے ذریعے مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔ حکومت، مخیر حضرات اور معاشرے کے صاحبِ استطاعت افراد کو چاہیے کہ وہ ایسے تعلیمی اقدامات کی حوصلہ افزائی کریں اور بالخصوص بچیوں کی تعلیم، اساتذہ کی تربیت اور دور دراز علاقوں تک تعلیمی رسائی کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ کیونکہ کسی قوم کی اصل طاقت اس کے وسائل سے بڑھ کر اس کے تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور باشعور نوجوان ہوتے ہیں۔ اے کے میڈیا ٹیم کے نزدیک احمد خان اچکزئی کی تعلیمی جدوجہد کا سب سے اہم پیغام یہی ہے کہ اگر نیت خدمت کی، ترجیح تعلیم کی اور مقصد انسانیت کی بہتری ہو تو گلستان جیسے علاقے سے بھی تبدیلی کی ایسی شمع روشن ہو سکتی ہے جس کی روشنی پورے بلوچستان اور اس سے آگے تک پہنچے۔
66











