اکتوبر 4، 2026
کل پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن تھا جب حکومتی اتحاد اور پی ٹی آئی کی قیادت کے درمیان ایم مذاکرات ہوئے جس کا مقصد پاکستان کو درپیش دہشت گردی اور تخریب کاری کے خلاف ایک متفقہ لائحہ عمل ترتیب دینا تھا تاکہ پاکستان دشمن بیرونی قوتوں کے مذموم عزائم کو شکست فاش دی جائے اور دنیا کو پاکستانی عوام کے متحد ہونے کا پیغام دیا جا سکے۔ پوری دنیا کی نے میڈیا کے ذریعے دیکا اور سنا کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے ڈرافٹ کو کئی مرتبہ مشاورت سے تبدیل بھی کیا گیا اور آخرکار حکومتی اتحاد کے نمائندوں نے اس پر دستخط بھی کر دیے مگر عین اسوقت جب پی ٹی آئی پر مشتمل اپوزیشن اس پر دستخط کرنے والی تھی تو اس کو کچھ لوگوں نے دستخط کرنے سے روک دیا اور بالآخر رات گئے یہ بیان جاری ہوا کہ مذاکرات کی تفصیلات میڈیا کو جاری کر دی جائیں گی اور کوئی پریس بریفنگ نہیں ہو گی۔ جس سے کچھ شکوک و شہبات نے جنم لینا شروع کر دیا اور آہستہ آہستہ یہ بات کھل کر سامنے آنے لگی کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین سمیت اعلی قیادت کو پی ٹی آئی کے دہشت گرد عناصر جس کی قیادت پی ٹی آئی کی وزیر اعلی سہیل آفریدی کر رہے ہیں نے دستخط کرنے سے روک دیا اور کرنے کی شکل میں شدید نتائج کی دھمکیاں دیں۔ جس پر پی ٹی آئی کی قیادت مذاکرات چھوڑ کر واپس روانہ ہو گئی۔
اس تمام صورتحال نے ان پاکستان دشمن اندرونی عناصر کی مکمل طورپر نشاندہی کر دی ہے جو بھارت اور اسرائیلی ایجنڈے پر کاربند ہو کر پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ اور بدقسمتی سے اس کی قیادت پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر صوبے کے وزیر اعلی کر رہے ہیں۔ جو اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھانے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں اور صرف دہشت گردوں کے لیے سہولت کاری کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے محب وطن عناصر پہلے ہی ان سرگرمیوں سے قطع تعلق کر چکے ہیں صرف کے پی کے میں کچھ افراد خوف کی بناء پر ان سرگرمیوں میں حصہ لینے پر مجبور ہیں۔
ان حالات میں اب جب کہ پی پی ٹی آئی کے وزیر اعلی نے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور مختلف رپورٹس کے مطابق اس میں نان کسٹم ڈیوٹی ادا کہے بڑی گاڑیاں استعمال کی جا رہی ہیں جس کے ذریعے تخریب کاروں اور اسلحہ و بارور کو ملک کے دیگر علاقوں میں منتقل کرنے کا پروگرام ہے جس کے لیے بھارت و اسرائیلی ہر قسم کی مالی و مادی وسائل فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بھارت نے فالس فلیگ آپریشنز کا ایک سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کو اگرچہ ہماری سیکورٹی ایجنسیوں نے انتہائی مہارت سے ناکام بناتے ہوئے دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دکھا دیا ہے مگر اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ بھارت انہیں فالس فلیگ آپریشنز کی آڑ میں آزاد کشمیر یا پاکستان کے دیگر علاقوں پر جارحیت کی ایک اور کوشش کر سکتا ہے۔
اس لیے یہ وقت انتہائی تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کر رہا ہے اور اب اس میں مزید کسی قسم کی تاخیر کی گنجائش موجود نہیں ہے کہ ریاست کے پی کے میں اپنی رٹ بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے اور صوبائی حکومت جو دہشت گردی کی سہولت کاری خر رہی ہے اس کو آئینی طور پر کام کرنے سے روک دیا جائے اور صوبے میں دہشتگرد گروپوں کے تمام مراکز کا خاتمہ کرنے کے لیے ایک بڑے آپریشن کا آغاز کیا جائے۔ تاکہ نہ صرف ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے والوں کو ناکام بنایا جا سکے بلکہ کے پی کے کے عوام کو ان دہشت گرد گروپوں کے نجات دلائی جائے جو ان کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں اور ان کو بھتہ دینے پر مجبور ہیں۔
امید ہے کہ اب مزید وقت کو ضائع کئے بغیر ان تجاویز پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے گا اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر پاکستان دشمن جھوٹ پھیلانے کے ایجنڈے پر کام کرنے والے عناصر کے خلاف قوانین کے مطابق سخت ترین کاروائی عمل میں لائی جائے گی اور ٹیکنالوجی کا بہتر استعمال کرتے ہوئے ان جھوٹے پراپگنڈہ کو بے نقاب کرنے کا اہتمام کیا جانے گا۔
واضح رہے کہ ملکے سلامتی کا یہ آپریشن انتہائی اہم ہے اور اس موقع پر ملک کی تمام محب وطن سیاسی قیادتیں اور دیگر تمام اسٹیک ہولڈر مکمل طور پر یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان پاکستان دشمن عناصر کے ایجنڈے کو ناکام بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے اور پاکستان کی سیکورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر پاکستان دشمن اندرونی و بیرونی عناصر کو عزت ناک شکست دینے میں کامیاب ہو جائیں گئے۔ کیونکہ پاکستان اللہ سبحانہ و تعالٰی کا ایک معجزہ ہے اور اللہ سبحانہ و تعالٰی کی رحمت اس مرحلے پر بھی ان شاءاللہ، پاکستان کے لیے کامیابیوں کی نوید ثابت ہو گئی۔ آمین











