64

پاکستان کی سالمیت کے خلاف بین الاقوامی سازش:تحریر: ممتاز ہاشمی

اس وقت پاکستان جس بحران سے دوچار ہے وہ ایک انتہائی تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کر رہا ہے۔ تخلیق پاکستان کے ازلی دشمن بھارت، اسرائیل، افغان دہشت گرد گروپوں، ان کی پراکسز اور ان کے سہولت کاروں نے اسوقت پاکستان کے خلاف ایک منظم سازش کی ہے اور پاکستان کو بھاری نقصان پہنچانے کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں اس سلسلے میں ان کو پاکستان میں موجود چند شرپسند عناصر اور استحصالی طبقات کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
ایک طرف تو انہوں نے کے پی کے اور بلوچستان میں دشت گردی اور تخریب کاری کی خوفناک کارروائیوں میں شدید اضافہ ہو چکا ہے جس میں عوام اور سیکورٹی فورسز کو جانی و مالی نقصانات پہنچ رہے ہیں۔ دوسری طرف کے پی کے کی صوبائی حکومت ان دیشت گروپوں کے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے اہنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مصروف ہے بلکہ اس میں شامل عناصر نے ان دہشت گرد گروپوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں اور امن و امان کی صورتحال اسقدر خراب ہو چکی ہے کی سورج ڈھلنے کے بعد صوبے میں صوبائی حکومت کی رٹ عملی طور پر ختم ہو جاتی ہے اور عوام کو دہشت گرد گروپوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے جو عوام سے جبری ٹیکس و دیگر وصولیاں کرتے ہیں۔ جس سے سول اداروں کا اعتماد بری طرحمجروح و چکا ہے اور وہ ان دہشت گردوں کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ ان تمام حالات و واقعات کے پس منظر میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے اسلام آباد پر چڑھائی اور قبضہ کے ایک خطرناک و خوفناک منصوبہ پر عملدرآمد کرنے میں مصروف ہے جس کو پاکستان دشمن بیرونی طاقتوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ جبکہ پی ٹی آئی کے اکثریتی محب وطن عناصر نے اس منصوبے سے اپنی لاتعلقی ظاہر کر چکے ہیں اور مختلف رہنما و ورکر فرمائشی گرفتاریاں دے رہے ہیں تاکہ اس پاکستان دشمن منصوبہ سے لاتعلق ہو جائیں کیونکہ ان کو 9 مئی کی بغاوت کے منصوبے میں ملوث پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے انجام سامنے نظر آ رہے ہیں۔
اب اگرچہ سیکورٹی ایجنسیوں نے اس ملک دشمن منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے ایک مربوط لائحہ عمل مرتب کیا ہے اور اسلام آباد اور ملک کے مختلف علاقوں کے لیے ایک سیکورٹی پروٹوکول ڈیزائن کیا ہے۔
دوسری طرف استحصالی طبقات اور پرانی اسٹیبلشمنٹ کے سہولت کاروں نے اس منصوبے میں شامل ہونے کی پلاننگ کی ہے جس میں جماعت اسلامی اور کسان اتحاد کے انہی دنوں میں اسلام آباد کی طرف مارچ اس صورتحال کو واضح کرتی ہیں۔
جہاں تک پی ٹی آئی کے مطالبات کا تعلق ہے تو ان کا تعلق عدلیہ سے ہے اور اس میں حکومت ان کو ریلیف فراہم نہیں کر سکتی۔ پی ٹی آئی کے کیسز اعلی عدلیہ میں زیر سماعت ہیں اور ان کے ریلیف صرف متعلقہ عدلیہ ہی فراہم کر سکتی ہے۔ اسلئے ان مطالبات کی آڑ میں اسلام آباد پر چڑھائی کا کوئی قانونی و اخلاقی جواز نہیں بنتا ہے دوسری طرف اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس قسم کی چڑھائی پر اپنے فیصلے میں واضح طور پر اس قسم کی شرپسندی کی کوششیں کو روکنے کے لیے واضح ہدایات جاری کر دی ہیں اوعلیکم اب حکومت و ایجنسز ان عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرنے کے لیے لائحہ عمل ترتیب دے رہی ہیں۔
بظاہر جماعت اسلامی کے احتجاجی دھرنوں کے بعد اسلام آباد کی طرف مارچ ملک میں پٹرولیم ممصنوعات پر لیوی کے نفاز کے خاتمے کیلئے ہیں جو مہنگاہی کا باعث بنتا ہے۔
جماعت اسلامی کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے
آج تک یہ جماعت ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم کو کردار ادا کرتی رہی ہے۔
آج پاکستان جب ایک خطرناک صورتحال سے دوچار ہے تو،اس موقع پر جماعت اسلامی کا اسلام آباد مارچ اس کے پاکستان دشمن عناصر کے لیے ایک حوصلہ افزائی کا باعث بن سکتا ہے

پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی اور کسان اتحاد کی احتجاج کی کال ایک خطرناک سازش کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ پٹرولیم ممصنوعات پر لیوی آی ایم ایف کے پروگرام کے تحت لگائی گئی ہے اور یہ آج کی بات نہیں ہے بلکہ بیسویں برسوں پہلے سے نافذ ہے۔ بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے اس میں وقتاً فوقتاً اضافہ آی ایم ایف کی شرائط کے تحت ہوتا رہا ہے۔

حکومت اس کی خلاف ورزی کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی کیونکہ اس سے ملک دوبارہ سے معاشی بحران اور ڈیفالٹ کی طرف چلا جائے گا جس طرح سے عمران خان نے اپنے اقتدار کے آخری ایام میں کیا تھا اور پاکستان کو تباہی و بربادی کے دھانے پر پہنچا دیا گیا تھا۔ ایک بڑی تنقید اعلی عہدیداروں کے حفاظتی پروٹوکول پر ہونے والے اخراجات پر کی جا رہی ہے اس وقت پاکستان جسطری سے دہشت گردی اور بیرونی طاقتوں کی سازشوں کا شکار ہے اس مرحلے میں حفاظتی پروٹوکول انتہائی ضروری ہے کیونکہ کوئی بڑا حادثہ پاکستان کو ایک بہت بڑے بحران میں مبتلا کر سکتا ہے۔
جہاں تک پٹرولیم ممصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کا تعلق ہے تو اس میں ریلیف عالمی مارکیٹ سے منسلک ہے حکومت نے اہنے وسائل سے کمزور طبقات کے لیے پٹرولیم ممصنوعات پر ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے جو ایک اچھا قدم ہے اس میں مزید بہتری لانے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک میں کسانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مختلف صوبائی حکومتوں نے کچھ اقدامات کئے ہیں کیونکہ ان کا زیادہ تع تعلق صوبائی حکومتوں سے ہوتا ہے اسلئے اس نام نہاد کسان اتحاد کا اس موقع پر اسلام آباد کی طرف مارچ ان کے کچھ خفیہ عزائم کی نشاندہی کر رہا ہے۔
یہ وقت پاکستان کی سالمیت کے لئے ایک مضبوط اور منظم لائحہ عمل ترتیب دینے کا متقاضی ہے تاکہ پاکستان کے خلاف کی جانے والی اس بین الاقوامی سازش جس میں پاکستان میں ان کے سہولت کاروں کے ذریعے عمل درآمد کرانے کی کوششیں جاری ہیں ان کو ناکام بنایا جا سکے اس موقع پر عوام کو ان سازشوں سے آگاہ کرنے کے لیے میڈیا کا بھی اہم کردار ہے اور ان میڈیا ہاوس کو اس موقع پر اپنے محب وطنی پر مبنی پیغام کو آگے بڑھانے کے لئے ایم کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
اللہ سبحان و تعالٰی کی رحمت سے پاکستان و عوام دشمن قوتیں اپنے مذموم مقاصد میں ناکامی سے دوچار ہوں گی۔ اوراس بات کا کامل یقین ہے کہ ان کی پاکستان کی سالمیت کے خلاف سازشوں کو عوام اور سیکورٹی ادارے مل کر نیست و نابود کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ان شاءاللہ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں