پاکستان اور چاروں صوبوں میں (RTI) یعنی معلومات تک رسائی کا حق ایک اہم قانونی و آئینی حق ہے۔ اس کا مقصد شہریوں کو سرکاری اداروں اور حکومتی معاملات سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا حق دینا ہے۔پاکستان میں معلومات تک رسائی کے حوالے سے مختلف قوانین نافذ العمل ہیں،جن میں پنجاب میں ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 ،کے پی کے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 ،سندھ ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2016 ،وفاق پاکستان میں رائٹ آف ایکسیس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 اور بلوچستان میں رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2021، نافذ ہے۔ جن کے مطابق وفاقی حکومت اورچاروں صوبوں کے تمام سرکاری و عوامی اداروں سے متعلق معلومات تک رسائی کا حق شہریوں کو حاصل ہے اور شہری متعلقہ اداروں سے مختلف سرکاری ریکارڈ، فیصلوں، اخراجات اور دیگر معلومات طلب کر سکتے ہیں۔معلومات تک رسائی کا بنیادی مقصد شفافیت، احتساب، اچھی حکمرانی اور عوام کی بااختیاری کو فروغ دینا ہے۔ جب شہری سرکاری اداروں کے کام، فیصلوں اور اخراجات کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں تو حکومتی معاملات میں شفافیت پیدا ہوتی ہے اور اداروں کو عوام کے سامنے جواب دہ بنایا جا سکتا ہے۔(RTI )قوانین پر مئوثر عمل درآمد ضروری ہے۔ صرف قانون بنا دینا کافی نہیں بلکہ شہریوں کو بروقت معلومات فراہم کرنا اور درخواستوں پر مقررہ مدت میں کارروائی کرنا بھی ضروری ہے۔معلومات تک رسائی ایک باخبر معاشرے کی بنیاد ہے۔ شہری اپنے قانونی حق کو استعمال کرتے ہوئے سرکاری اداروں سے معلومات طلب کر سکتے ہیں، جس سے شفافیت اور احتساب کے عمل کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔آزاد جموں کشمیر ہائی کورٹ میرپور سرکٹ میں راقم الحروف کی2 جون 2018 کوتیرہویں آئینی ترمیم کیمطابق ایک آئینی رٹ پٹیشن کا بنیادی مقصدقانون کا نفاذ کرنا ہے آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے باقاعدہ “رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ” (حقِ رسائی معلومات) پاس کروانا۔آزاد کشمیر میں ایک خودمختار انفارمیشن کمیشن یا ٹریبیونل قائم کرنا۔تمام سرکاری اداروں میں پبلک انفارمیشن افسران (PIOs) کا تعین کرنا ہوتا ہیکہ وہ عوام کو معلومات فراہم کر سکیں کیونکہ آزاد کشمیر میں RTI قانون نہ ہونے کی وجہ سے صحافیوں کو تصدیق شدہ سرکاری ڈیٹا حاصل کرنے میں شدید رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔اس پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا کہ وکلاء ، میڈیا اور عام عوام کیلئے حکومتی ریکارڈ تک رسائی گڈ گورننس (اچھی طرزِ حکومت) کے لیے لازمی ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں اور وفاق میں آرٹیکل 19-A کے تحت RTI قوانین موجود ہیں، لیکن آزاد کشمیر اس بنیادی حق سے محروم چلا آ رہاہے۔ پاکستان بھر میں اس قانون کے مطابق کوئی بھی شہری سادہ کاغذ یا آن لائن فارم کے ذریعے متعلقہ سرکاری محکمے کو درخواست دے سکتا ہے اور قانون کے مطابق پبلک انفارمیشن افسر عام طور پر 14 سے 30 دنوں کے اندر معلومات فراہم کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ اگر محکمہ معلومات نہ دے یا غلط معلومات فراہم کرے، تو شہری انفارمیشن کمیشن میں اپیل دائر کر سکتا ہے،آزاد جموں و کشمیر کی سطح پر، 2 جون 2018 کی 13ویں آئینی ترمیم نے حقِ معلومات کے نفاذ کے لیے آئینی تحفظ فراہم کر رکھا ہے تب سے اب تک 6 وزرائے اعظم تبدیل ہونے سے وقت گزرنے کے باوجود آزاد جموں و کشمیر میں حقِ معلومات کا قانون تاحال وضع نہیں کیا جا سکا۔اور اس دوران تمام حکمران آر ٹی آئی کا قانون نافذ نہ کر کے غیرآئینی اقدام کے مرتکب ہوئے ہیں۔ 28 ستمبر کو حق معلومات طاقت رسائی آر ٹی آئی کے عالمی دن کے موقع پر راقم( ظفر مغل )نے نو منتخب وزیراعظم افتخار گیلانی کے نام اپنے ایک لکھے گئے کھلے مکتوب میں تحریر کیا ہے کہ موجودہ پاکستان مسلم لیگ نون کی نئی حکومت کے دورِ اقتدار میں، آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی جانب سے حقِ معلومات کے بل کی منظوری نہ صرف محترم وزیراعظم افتخار گیلانی کے نیک نام اور ساکھ میں اضافہ کرے گی بلکہ شفافیت اور عوامی سہولت کاری کے فروغ کے لیے ایک اہم اور عوام دوست قانون متعارف کرانے کا سہرا بھی پاکستان مسلم لیگ نون کے سر بندھے گا۔ یہ تاریخی اقدام ایک نمایاں جمہوری کامیابی کے طور پر یاد رکھا جائے گا اور تاریخ کا حصہ بنے گا۔آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ میرپور سرکٹ میں ’ظفر مغل بنام آزاد حکومت وغیرہ‘ کے عنوان سے ایک آئینی رٹ پٹیشن باقاعدہ سماعت کے لیے پہلے ہی منظور ہو کر جناب چیف جسٹس ہائی کورٹ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ کے دورہ ماہ اکتوبر میں بحث کے لیے تاریخ مقرر ہو گی۔ مزید برآں آزاد جموں و کشمیر حکومت معزز عدالت کے روبرو اپنے جواب میں حقِ معلومات کے قانون کے نفاذ کے حوالے سے پہلے ہی اپنی رضامندی کا اظہار بھی کر چکی ہے۔آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی جانب سے حقِ معلومات کے قانون کی منظوری سے بین الاقوامی صحافتی تنظیموں، پریس کلبوں، میڈیا اداروں، وکلاء برادری اور معاشرے کے تمام طبقات میں حکومت کی نیک نامی اور مقبولیت میں بہت حد تک نمایاں اضافہ ہوگا۔ لہٰذا محترم وزیراعظم سے پرزور استدعا ہے کہ حقِ معلومات تک رسائی کے قانون کی منظوری کے لیے خصوصی اور فوری اقدامات کریں۔ اس قانون کے نفاذ پر حکومت کو بلاشبہ ریاست بھر کے تمام مکاتبِ فکر کی جانب سے سراہا جائے گا۔اس لیے آئینی ذمہ داریوں اور عوامی مفاد کے پیشِ نظر، نیز سابقہ حکومتوں کی عدم فعالیت کا ازالہ کرنے اور آئین کی مکمل پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے یہ امر ناگزیر ہے کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں ’حقِ معلومات‘ (Right To information) کا بل پیش اور منظور کرایا جائے۔اور آر، ٹی، آئی کے مسودہ قانون کی منظوری سے بین الاقوامی طور پر نیک نامی اپنے نام کی جائے۔
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات
25











