30 ستمبر کو دنیا بھر میں عالمی یومِ ترجمہ منایا جاتا ہے۔ یہ دن ان زبان کے ماہرین، مترجمین، ترجمانوں اور اصطلاح سازوں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع ہے جو مختلف زبانیں بولنے والی قوموں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 24 مئی 2017 کو قرارداد 71/288 کے ذریعے زبان کے ماہرین کے اس کردار کو تسلیم کیا جو قوموں کو باہم جوڑنے، امن، مفاہمت اور ترقی کو فروغ دینے میں اہمیت رکھتا ہے اور 30 ستمبر کو عالمی یومِ ترجمہ قرار دیا۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زبانیں اگرچہ انسانوں کو مختلف شناختیں عطا کرتی ہیں، مگر ترجمہ ان شناختوں کے درمیان ایسا پل تعمیر کرتا ہے جس پر علم، ادب، خیالات اور جذبات ایک دنیا سے دوسری دنیا تک سفر کرتے ہیں۔
ترجمہ محض الفاظ کو ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل کرنے کا نام نہیں۔ لفظوں کا ترجمہ تو نسبتاً آسان ہے، اصل کمال معنی، احساس، تہذیب، پس منظر اور مصنف کی روح کو دوسری زبان میں اس طرح منتقل کرنا ہے کہ اصل تحریر کی تاثیر بھی برقرار رہے اور نئی زبان کا حسن بھی مجروح نہ ہو۔ ایک اچھا مترجم دراصل دو زبانوں کے درمیان کھڑا وہ خاموش فن کار ہے جو ایک طرف اصل تخلیق کی امانت سنبھالتا ہے اور دوسری طرف اسے نئی زبان کے قاری تک اس انداز میں پہنچاتا ہے کہ اجنبیت کا احساس باقی نہ رہے۔
دنیا کی تاریخ میں علم اور تہذیب کے پھیلاؤ میں ترجمے نے غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔ فلسفہ، طب، ریاضی، فلکیات، ادب اور سائنس کے بے شمار تصورات ایک تہذیب سے دوسری تہذیب تک ترجمے ہی کے ذریعے پہنچے۔ ایک زبان میں پیدا ہونے والا خیال دوسری زبان کے انسان کے ذہن کو روشن کرتا رہا اور یوں علم کسی ایک قوم یا خطے کی میراث بن کر محدود نہیں رہا۔ اگر ترجمے کے دروازے بند ہوتے تو شاید انسانی تہذیب کا فکری سفر اس رفتار سے آگے نہ بڑھ پاتا جس کا ہم آج مشاہدہ کرتے ہیں۔
اردو زبان بھی ترجمے کے ذریعے ہمیشہ نئی دنیاوں سے روشناس ہوتی رہی ہے۔ اردو ادب میں دنیا کی مختلف زبانوں کے ادب، فلسفے اور افکار کے تراجم نے نہ صرف قارئین کے ذوق کو وسعت دی، بل کہ خود اردو کے ادبی سرمائے میں بھی اضافہ کیا۔ روسی، انگریزی، عربی، فارسی، ترکی، فرانسیسی اور دیگر زبانوں کے ادب نے اردو کے قاری کو ایسے افکار اور تخلیقات تک رسائی دی جن سے براہِ راست واقفیت ممکن نہیں تھی۔ اسی طرح اردو ادب کا خوب صورت سرمایہ بھی تراجم کے ذریعے دوسری زبانوں کے قارئین تک پہنچ سکتا ہے۔ یوں ترجمہ دو طرفہ سفر ہے؛ اس میں صرف دوسری دنیا ہمارے پاس نہیں آتی، ہم بھی اپنی دنیا لے کر دوسری تہذیبوں کے دروازے تک جاتے ہیں۔
پاکستان جیسے کثیر لسانی معاشرے میں ترجمے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ہمارے ملک میں اردو کے ساتھ پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، سرائیکی، ہندکو، براہوی، کشمیری اور دیگر زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ہر زبان اپنے اندر صدیوں کی تہذیب، لوک دانش، داستانیں، شاعری اور اجتماعی تجربات محفوظ کیے ہوئے ہے۔ اگر ان زبانوں کے ادبی و ثقافتی سرمائے کو ایک دوسرے کی زبانوں میں منتقل کیا جائے تو نہ صرف باہمی فہم میں اضافہ ہوگا، بل کہ پاکستان کی لسانی اور ثقافتی وحدت بھی زیادہ مضبوط ہوگی۔ ایک سندھی شاعر کا احساس جب اردو قاری تک پہنچتا ہے، ایک پشتو داستان جب پنجابی قاری پڑھتا ہے یا کشمیری لوک روایت جب کسی دوسری زبان میں محفوظ ہوتی ہے تو دراصل ایک دل دوسرے دل سے ہم کلام ہوتا ہے۔
موجودہ دور میں ترجمے کی ضرورت صرف ادب تک محدود نہیں رہی۔ سائنس، طب، قانون، تعلیم، سفارت کاری، تجارت، ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعلقات میں بھی درست ترجمہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک غلط ترجمہ کبھی کبھی محض معنوی الجھن پیدا نہیں کرتا، بل کہ کسی معاہدے، قانونی دستاویز یا سفارتی گفتگو کے مفہوم کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ اسی لیے پیشہ ورانہ ترجمہ، ترجمانی اور اصطلاح سازی ایک ذمہ دارانہ علمی و فنی شعبہ ہے جس میں زبان پر عبور کے ساتھ موضوع کی گہری سمجھ بھی ضروری ہوتی ہے۔
ترجمہ دراصل انسانوں کے درمیان فاصلے کم کرنے کا فن ہے۔ دنیا میں اختلافات کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہم دوسرے کی بات کو سمجھنے سے پہلے اسے اپنی زبان، اپنے تجربے اور اپنے تعصبات کے پیمانے سے پرکھنے لگتے ہیں۔ ترجمہ ہمیں دوسرے انسان کی زبان میں اس کی بات سننے کا موقع دیتا ہے۔ جب ہم کسی دوسری قوم کے ادب کو پڑھتے، اس کی تاریخ کو سمجھتے یا اس کے مفکرین کے خیالات اپنی زبان میں جانتے ہیں تو ہمارے سامنے دنیا کا ایک وسیع تر نقشہ ابھرتا ہے۔ یہی فکری وسعت مکالمے کو جنم دیتی ہے اور مکالمہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کو سمجھنے کا راستہ ہموار کرتا ہے۔
آج مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی نے ترجمے کے میدان میں بھی ایک نیا انقلاب برپا کیا ہے۔ چند لمحوں میں ایک زبان کے متن کو دوسری زبان میں منتقل کرنا پہلے کے مقابلے میں کہیں آسان ہو گیا ہے، مگر انسانی مترجم کی اہمیت اب بھی اپنی جگہ برقرار ہے۔ مشین الفاظ اور جملوں کے درمیان تعلق تلاش کر سکتی ہے، مگر ہر لفظ کے پیچھے چھپے تہذیبی اشارے، جذباتی کیفیت، طنز، محاورے اور ادبی لطافت کو سمجھنا اب بھی انسانی شعور، تجربے اور زبان کے گہرے ذوق کا تقاضا کرتا ہے۔ ٹیکنالوجی مترجم کے لیے معاون ضرور بن سکتی ہے، مگر زبان کی روح تک رسائی کا سفر اب بھی انسانی فہم سے وابستہ ہے۔
پاکستان میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ترجمے کو محض ایک معاون سرگرمی کے بجائے ایک باقاعدہ علمی اور تخلیقی شعبے کے طور پر فروغ دیا جائے۔ جامعات، ادبی اداروں اور اشاعتی مراکز میں ترجمے کے معیاری منصوبے شروع کیے جائیں، مختلف پاکستانی زبانوں کے ادب کو اردو اور عالمی زبانوں میں منتقل کیا جائے اور دنیا کے اہم علمی و ادبی سرمائے کو معیاری اردو ترجموں کے ذریعے عام قاری تک پہنچایا جائے۔ اس عمل سے نہ صرف ہماری زبان کا دامن وسیع ہوگا، بل کہ ہماری نئی نسل عالمی علم و ادب سے زیادہ مضبوط انداز میں جڑ سکے گی۔
زبانیں دیواریں نہیں، دروازے بھی ہو سکتی ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ ان دروازوں کے درمیان ترجمے کا راستہ کھلا رہے۔ ایک مترجم جب کسی کتاب، خیال یا احساس کو دوسری زبان میں منتقل کرتا ہے تو وہ صرف الفاظ منتقل نہیں کرتا، دو ذہنوں، دو تہذیبوں اور کبھی کبھی دو قوموں کے درمیان تعلق کی ایک نئی بنیاد رکھتا ہے۔ دنیا کو آج جس مکالمے، مفاہمت اور باہمی سمجھ کی ضرورت ہے، اس میں زبان کے ان خاموش معماروں کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ ترجمہ واقعی زبانوں کا پل ہے؛ اور جب پل مضبوط ہوں تو فاصلے خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں، انسان ایک دوسرے تک پہنچنے کا راستہ ضرور تلاش کر لیتے ہیں۔











