12

راولاکوٹ دھرنا ، عوام کا صبر اور مشکلات، محاذ آرائی ایم ڈی طاہر جرال صدر آزاد کشمیر کالمسٹ ایسوسی ایشن

4 جون سے 4 اکتوبر تک راولاکوٹ میں جاری دھرنے کو پورے چار ماہ ہو گئے ہیں اب اس دھرنے میں شرکاء کی تعداد کا سوال نہیں ہے کیونکہ تعداد سینکڑوں ہو یا ہزاروں، اس سے ہر خاص و عام اشخاص کے معاملات زندگی بری طرح متاثر ہوتے ہیں اور پھر دیگر سرکاری امور میں پیدا ہونے والا خلل بھی بہت سارے نقصانات کا سبب بنتا ہے، راولاکوٹ، پونچھ ڈویژن کا دل ہے،یہاں پر میرپور ڈویژن میں سے ؤ دیگر اضلاع سے بھی لوگ دھرنے میں بیھٹے ہیں آزاد کشمیر میں عام طور پر شروع ہونے والی تحریک سستی بجلی سستا آٹا اور دیگر بنیادی حقوق ہی اس تحریک کے مقاصد میں سب سے زیادہ نمایاں تھے ارباب اختیار نے دو بڑے مطالبات تسلیم کر کے بجلی اور آٹے پر سبسڈی دے دی مگر باقی مطالبات میں سے بھی اہم پر پیش رفت ہوئی اور کچھ مزید بھی تسلیم کر لیے گئے آزاد کشمیر بھر کے تاجروں کی بنائی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ذمہ داران سے مذاکرات بھی کیے مگر 9 جون کی لانگ مارچ کی کال حکومت کے مطالبے پر ختم یا موخر نہ کی جہاں سے حالات خراب ہوئے اس کمیٹی کے ساتھ عام آدمی کی ہمدردی اور دلچسپی بھی تھی کیونکہ سستی بجلی سستا آٹا انہیں مل رہا تھا پھر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا کہ 4 جون کو تمام اطراف سے آنے والے قافلوں نے راولاکوٹ دھرنے کی صورت میں پڑاؤ ڈالا کہ یہاں سے مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے مگر اس دوران انسانی جانوں کا نقصان ہوا اور کمیٹی کے کچھ لوگوں نے ریاست مخالف بیانیہ بنا کر اس تحریک کو شدید نقصان پہنچا کر اسے کالعدم قرار دینے کی طرف دھکیل دیا جب حکومت نے اسے کالعدم قرار دے دیا تو بہت سارے فرنٹ لائن کے سرکردہ لوگوں نے اس سے الگ ہونے میں عافیت سمجھی،لیکن تب تک دیر ہو چکی تھی کیونکہ اب دھرنا مظاہرین نے تشدد کا راستہ اختیار کر کے بھی حکومت وقت کو مذاکرات کی میز سے دور کر دیا،
آج بھی ان دھرنوں، ناکوں روڈز کی بندش سے پوری ریاست غیر یقینی کی کیفیت میں ہے۔
جیسا کہ پہلے ذکر کیا ہے کہ جو احتجاج عوامی حقوق، مہنگی بجلی اور 12 مہاجر نشستوں کے سوال سے شروع ہوا تھا، آج ایک سنگین انسانی، معاشی اور تعلیمی بحران میں بدل چکا ہے۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ راولاکوٹ کے عوام اس وقت دوہری اذیت میں ہیں۔ ایک طرف اپنے بنیادی مطالبات کے لیے وہ پرامن احتجاج کا حق سمجھتے ہیں، دوسری طرف اس طویل دھرنے کی قیمت بھی وہی عوام ادا کر رہے ہیں۔ پونچھ ڈویژن کے سات حلقوں میں عوام اپنا حق رائے دہی بھی استعمال نہیں کر سکے اب پونچھ ڈویژن سے ڈاکٹر نجیب نقی خان صدر ریاست کے منصب پر فائز ہو چکے ہیں ان سے بھی اچھی توقعات وابستہ ہیں لیکن تاحال صورت حال سنگین ہے
عوام کی مشکلات کیا ہیں؟

1۔ راستے بند، زندگی بند،کچھ علاقوں جن میں
دریک، گوئیں نالہ، سنگولہ، شجاع آباد، پانیولہ اور مجاہد آباد ، راولاکوٹ کے چاروں داخلی راستوں پر دھرنے ہیں۔ گزشتہ 4 ماہ سے پونچھ کو اسلام آباد، باغ اور مظفرآباد سے ملانے والی شاہراہیں کئی کئی روز بند رہتی ہیں۔ مریض راولاکوٹ سی ایم ایچ نہیں پہنچ پاتے، طلبہ یونیورسٹی نہیں جا پاتے۔ تاجروں کا مال منڈی تک نہیں جاتا۔ ایک ایمبولینس کو راستہ ملنے میں گھنٹے لگ جاتے ہیں۔

2۔ تعلیم کا نقصان:
راولاکوٹ یونیورسٹی آف پونچھ، سکولز اور کالجز کا تعلیمی کیلنڈر بری طرح متاثر ہوا ہے۔ بلکہ آزاد جموں و کشمیر بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے امتحانات بھی شدید متاثر ہوئے جس کی وجہ سے طلباء کو اگلی جماعت میں ترقیاب کرنا پڑا،انٹرنیٹ کی طویل شٹ ڈاؤن 5 جون سے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بنا اب وقفے وقفے سے انٹر نیٹ کی بحالی جاری ہے، آن لائن کلاسز، فری لانسنگ کرنے والے نوجوان اور بیرون ملک مقیم خاندانوں سے رابطہ سب متاثر۔ وفاقی وزیر امور کشمیر انجنیئر امیر مقام صاحب نے خود کہا ہے کہ “دھرنوں سے سب سے زیادہ نقصان طلبہ کا ہو رہا ہے”۔

3۔ معیشت اور کاروبار:
تتہ پانی کے گرم چشموں پر جانے والے سیاحوں کی تعداد 70 فیصد کم ہو گئی ہے۔ ہوٹل خالی، ٹرانسپورٹ بند، مزدور بے روزگار۔ ایک مقامی دکاندار نے بتایا کہ “ہم احتجاج کے خلاف نہیں، لیکن 4 ماہ سے کاروبار بند ہے تو گھر کا چولہا کیسے جلے اور روز مرہ کی تجارت کیسے ہو

4۔ صحت اور کرفیو کی فضا:
جون کے ہنگاموں، جھڑپوں اور اس کے بعد کرفیو جیسی صورتحال نے عوام میں خوف و ہراس پیدا کیا ہے۔
پاک فوج کی جانب سے راولاکوٹ میں لگائے گئے مفت میڈیکل کیمپس میں 555 سے زائد مریضوں کا علاج اس بات کا ثبوت ہے کہ عام آدمی کو علاج کی شدید مشکل کا سامنا ہے

حل کیا ہے

راولاکوٹ دھرنے کا مسئلہ لاٹھی یا سڑک بند کر کے حل نہیں ہوگا۔ اس کی دو بڑی جہتیں ہیں:

ایک، آئینی حقیقت: آزاد کشمیر سپریم کورٹ نے جون 2026 میں واضح کیا ہے کہ 12 مہاجر نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں، ان کا خاتمہ صرف آئینی ترمیم سے ممکن ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے خود 30 مئی کو دو متبادل تجاویز بھی دی تھیں ،انہیں علامتی رکھا جائے یا کونسل میں منتقل کیا جائے۔ اس کا مطلب ہے کہ بات چیت کی گنجائش موجود تھی۔

دوسرا، عوامی اعتماد: علماء و مشائخ کے اجلاس میں جو قرارداد منظور ہوئی، اس میں بڑی معقول بات کہی گئی — کرفیو ختم کیا جائے، انٹرنیٹ بحال کیا جائے، راستوں کی رکاوٹیں ختم کی جائیں اور مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ راولاکوٹ میں بیٹھے مظاہرین کو دشمن نہ سمجھے، وہ اسی ریاست کے شہری ہیں۔ اور ایکشن کمیٹی کو بھی سوچنا ہوگا کہ 4 ماہ کے طویل دھرنے سے عام آدمی کی ہمدردی متاثر ہو رہی ہے۔ ہڑتال سے حکمران نہیں، غریب طبقہ متاثر ہوتا ہے۔

تجویز ہے:
1۔ فوری طور پر پونچھ میں غیر جانبدار جرگہ / معتبر مذاکراتی کمیٹی بنائی جائے جس میں علماء، تاجر، صحافی اور سابق ججز شامل ہوں۔
2۔ راولاکوٹ سے کرفیو، ناکہ بندی اور انٹرنیٹ کی بندش فوری ختم کی جائے۔
3۔ 12 نشستوں کے معاملے کو قانون ساز اسمبلی اور کشمیر کونسل میں آئینی ترمیم کے ذریعے حل کرنے کا ٹائم فریم دیا جائے۔
4۔ 4 جون سے اب تک کی ہلاکتوں کی شفاف عدالتی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ اعتماد بحال ہو۔

راولاکوٹ جل رہا ہے تو پورا آزاد کشمیر تکلیف میں ہے۔ یہ تتہ پانی، پلندری، باغ، مظفرآباد سب کا مسئلہ ہے۔ دھرنا 4 دن کا ہو تو احتجاج ہوتا ہے، 4 ماہ کا ہو تو عذاب سے کم نہیں
لہذا ھم ریاست کے نئے صدر اور وزیر اعظم سے بھی توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس مسلے کو حل کر کے اپنی حکومت کی ترجیحات کی جانب تیزی سے قدم بڑھا کر اپنے سو روزہ پروگرام کی تکمیل کے اسباب پیدا کرے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں