آخر کار ریاست پاکستان نے پاکستان کی سالمیت کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کا آغاز کر دیا ہے اور آہین پاکستان کے مطابق خیر پختون خواہ میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا ہے۔ جس میں تاخیر کی وجہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو ریاست پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف دہشت گردوں اور تخریب کاروں
کے خلاف کارروائی پر آمادہ کرنے کی کوششیں تھیں جن پر ناکامی کے بعد یہ اقدام آٹھایا گیا ہے۔ اس کے تناظر کو سمجھنے کے لیے میں اپنے مضمون ” پاکستان کی سالمیت- فیصلہ کن اقدامات کا وقت ” جو ستمبر 28، 2026 کو تحریر کیا تھا اس کا کچھ حصہ پیش کر رہا ہوں:
“اس دوران پی ٹی آئی میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے لاے ہوے افراد الگ ہوتے چلے گئے اور پاکستان دشمن عناصر اپنے عدلیہ و دیگر اداروں میں موجود سہولت کاروں کی مدد سے پاکستان سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور پاکستان سے باہر بیٹھ کر پاکستان میں بغاوت کی کوششیں کرنے لگے۔ اس کے منفی اثرات پاکستان پر مرتب ہوے اور پاکستان میں دہشتگردی کی وارداتوں میں نمایاں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ افغانستان میں قائم دہشت گرد گروپوں کے کیمپوں کو افغانستان میں قائم حکومتی سطح پر مکمل سرپرستی حاصل ہے اور یہ اسرائیل و بھارت کے اشاروں پر اور ان کے مادی و فوجی وسائل سے ان دہشت گردی کی کارروائیوں کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ پاکستان ے سفارتی سطح پر اس مسلئہ کو عالمی سطح پر اٹھایا اور پوری دنیا نے پاکستانی موقف کی حمایت کی۔ اس کے علاوہ پاکستان نے فوجی کارروائی کرتے ہوئے ان دہشت گردی کے لی استعمال ہونے والے کیمپوں کو تباہ بھی کیا ہے۔ مگر کے پی کے کے طویل بارڈر پر ان دہشت گردوں کی دراندازی روکنا ایک مشکل کام ہے اور اس صورتحال میں جب صوبائی حکومت میں شامل لوگ ان دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں تو یہ ناممکن ہے۔ ان حالات میں ان دہشت گردوں کا کنٹرول صوبے کے مختلف علاقوں میں مضبوط ہوتا جا رہا ہے اور عملی طور پر رات کو صوبے کے بیشتر اضلاع ان کے کنٹرول میں ہوتے ہیں اور وہ نہ صرف عوام سے بھتہ/ ٹیکس وصول کرتے ہیں بلکہ اہم صوبائی وزراء بھی ان کو یہ بھتہ دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے پولیس جو کہ عوام کو تحفظ فراہم کرنے والی پہلی ڈیفنس لاہن ہوتی ہے وہ مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہے اور رات کو تھانوں کے اندر محصور ہو کر رہ جاتی ہے
اس نازک صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے ہوئے اب وفاق کو فوری طور پر سخت ترین اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اب مزید ایک لمحہ بھی تاخیر کی گنجائش موجود نہیں ہے۔
اس لیے وفاق کو آہین کے تحت حاصل اختیارات کے تحت صوبے میں فوری طور پر ایمرجنسی لگا کر صوبے کا کنٹرول سنبھال لینا چاہیے اور صوبائی حکومت کو معطل کر دیا جائے۔ صوبے کو آئین کے تحت گورنر راج کے تحت چلانے کے لیے مختلف پوزیشنوں پر اہل اور محب وطن افراد کی تعیناتی کی جائے۔ پولیس کا اعتماد بحال کرنے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ایک مربوط اور منظم لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔ اس طرح سے نہ صرف عوام بلکہ اداروں کا اعتماد بھی بحال ہو جائے گا جو دہشت گردی پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کرئے گا۔
امید ہے کہ اب مزید وقت کو ضائع کئے بغیر ان تجاویز پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے گا اور ادارے اپنی تمام تر توانائیاں کو پاکستان میں انتشا و افراتفری پیدا کرنے والے عناصر کی سرکوبی کے لیے مختص کریں گئے ۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر پاکستان دشمن جھوٹ پھیلانے کے ایجنڈے پر کام کرنے والے عناصر کے خلاف قوانین کے مطابق سخت ترین کاروائی عمل میں لائی جائے گی اور ٹیکنالوجی کا بہتر استعمال کرتے ہوئے ان جھوٹے پراپگنڈہ کو بے نقاب کرنے کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔
سیاسی قوتوں کو بھی اس نازل صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے اپنے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان پاکستان دشمن ایجنڈے پر کام کرنے والوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے وفاق کے اقدامات کی مکمل حمایت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف کامیابی حاصل کی جا سکے ۔
واضح رہے کہ آنے والے دنوں دن پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور ان سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے تمام محب وطن پاکستانیوں کو اہم کردار ادا کرنا ہو گا اور ریاستی اداروں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر کھڑا ہونا پڑے گا تاکہ پاکستان دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا لیے جا سکے ۔ اللہ سبحانہ و تعالٰی اپنی رحمت سے ان پاکستان دشمن ایجنڈے پر کام کرنے والوں کو ناکامی سے دوچار کرئے گا۔ ان شاءاللہ۔”
اس موقع پر چند موقع پرست اور مفاد پرست حلقوں اس آئینی اقدام کو جو ریاست پاکستان کی سالمیت اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے انتہائی ضروری تھے اس کی مخالفت کرتے ہوئے نظر آئیں گے جو صرف اپنے ذاتی مفادات اور ایجنڈے کو پاکستان کی سالمیت پر ترجیح دیتے ہیں اسلئے اس وقت کا تقاضا ہے کہ ان موقع پرست، مفاد پرست اور پاکستان دشمن ایجنڈے پر کام کرنے والوں کی حمایت اور ان سے ہمدردی رکھنے والوں پر کڑی نظر رکھی جائے اور ملکی قوانین کے مطابق ایسے عناصر جو ملک میں انتشار و افراتفری پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش کا حصہ بنیں ان کے خلاف فوری اور سخت ترین اقدامات کرنا ہوں گے۔ واضح رہے کہ دنیا میں ہر ب ملک اس قسم کے حالات میں غیر معمولی اقدامات کرتے ہیں کیونکہ ملکی سالمیت اور خودمختاری سب سے بڑھ کر ہے سیاسی اختلافات اور دیگر مسائل کو پس پشت ڈال کر تمام محب وطن پاکستانیوں کا فریضہ ہے کہ وہ پاکستان کی بقاء و سالمیت کے لئے ریاست پاکستان کے ساتھ مکمل طور پر یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان و اسلام دشمن قوتوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس بات کا یقین کامل ہے کہ اللہ کی رحمت سے پاکستان دشمن قوتوں کو عبرت ناک شکست دی جائے گی اور پاکستان دنیا میں ایک مضبوط اور مستحکم قوت کے طور پر سامنے آئے گا۔ ان شاءاللہ۔











