صدر آصف علی زرداری کے نام کے ساتھ گورنر راج کی تاریخ کا ایک اور باب جوڑ دیا گیا ہے۔ 25فروری 2009ء کو پنجاب میں گورنر راج نافذ کرنے کی منظوری دی گئی تو ایوانِ صدر میں آصف علی زرداری موجود تھے۔ 14جنوری 2013ء کو بلوچستان میں گورنر راج نافذ ہوا تو صدرِ مملکت بھی آصف علی زرداری ہی تھے۔ اب 11اکتوبر 2026ء کو خیبر پختون خواہ میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق معاملے نے ایک مرتبہ پھر اس بحث کو جنم دیا ہے۔ تین مختلف صوبے، تین مختلف سیاسی حالات اور ایک ہی صدر؛ سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض اتفاق ہے یا جمہوری اصولوں اور سیاسی مصلحتوں کے درمیان موجود کشمکش کی عکاسی کرتا ہے؟
پیپلز پارٹی کی سیاسی شناخت جمہوری جدوجہد، عوامی حقوق اور آمریت کے خلاف مزاحمت سے وابستہ رہی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، شاہنواز بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کی المناک اموات اور بے نظیر بھٹو کی جدوجہد و شہادت اس تاریخ کے اہم ابواب ہیں۔ بے نظیر بھٹو نے قید، جلاوطنی اور سیاسی مشکلات کے باوجود جمہوریت اور عوامی نمائندگی کے حق میں آواز بلند کی۔ یہی تاریخی پس منظر اس جماعت سے یہ توقع پیدا کرتا ہے کہ وہ اپنے سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر آئین کی بالادستی اور عوامی مینڈیٹ کے احترام کو مقدم رکھے گی۔
بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری کا نعرہ ’’جمہوریت بہترین انتقام ہے‘‘ پاکستانی سیاست میں ایک نمایاں علامت بن گیا۔ اس نعرے میں یہ پیغام پوشیدہ تھا کہ ماضی کے مظالم کا جواب سیاسی انتقام سے نہیں، بل کہ جمہوری اداروں کے استحکام، آئینی بالادستی اور عوامی اختیار کے احترام سے دیا جائے گا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہوتا گیا کہ اس نعرے کو عملی سیاست میں کس حد تک رہنمائی کا اصول بنایا گیا۔
آصف علی زرداری کی مفاہمتی سیاست کے مثبت پہلوؤں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستانی سیاست میں سیاسی تصادم، اداروں کے درمیان کشمکش اور عدم استحکام کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ ایسے ماحول میں مذاکرات، مفاہمت اور مختلف سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوششیں جمہوری نظام کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔ لیکن مفاہمت کی اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب اس کے ذریعے آئینی ادارے مضبوط ہوں اور عوام کے حقِ حکمرانی پر کوئی سمجھوتا نہ کیا جائے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں پیپلز پارٹی کی سیاست پر تنقیدی سوالات اٹھتے ہیں۔ کیا مفاہمت ہمیشہ جمہوری استحکام کا ذریعہ بنتی ہے یا بعض حالات میں سیاسی مصلحتیں اصولی مؤقف کو کم زور بھی کردیتی ہیں؟ اگر کسی جماعت کو اپنے سیاسی مفاد کے لیے مفاہمت کا حق حاصل ہے تو اسے دوسری جماعتوں کے عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کو بھی اتنی ہی اہمیت دینی چاہیے۔ جمہوریت کا معیار صرف اپنے اقتدار کا دفاع نہیں، بل کہ مخالفین کے آئینی حقوق کا احترام بھی ہے۔
کچھ دوستوں کو توقع تھی کہ پاکستان پیپلز پارٹی، جو خود کو جمہوریت کی سب سے بڑی علم بردار جماعت قرار دیتی ہے، خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی بھرپور مخالفت کرے گی۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ جس جماعت نے آمریت کے خلاف جدوجہد کی، جس کی قیادت نے جمہوریت کی بحالی کے لیے قربانیاں دیں اور جس کی سابق چیئرپرسن بے نظیر بھٹو نے اپنی جان تک گنوائی، وہ کسی صوبے میں منتخب حکومت کے اختیارات محدود کرنے کے اقدام کی حمایت کیسے کرسکتی ہے؟
بلاول بھٹو زرداری کے لیے بھی اپنی جماعت کی تاریخی میراث کو آگے بڑھانے کا اہم تقاضا یہی ہے کہ جمہوری اصولوں کو سیاسی وابستگیوں سے بلند رکھا جائے۔ بے نظیر بھٹو کی میراث صرف ان کے نام، تصویروں اور نعروں سے محفوظ نہیں رہ سکتی؛ اس کا حقیقی تحفظ آئین کی بالادستی، عوامی نمائندگی اور سیاسی رواداری کے ذریعے ممکن ہے۔ ماضی کی قربانیاں قابلِ احترام ہیں، لیکن وہ موجودہ قیادت کے ہر فیصلے کو تنقید سے بالاتر نہیں بناتیں۔
’’جمہوریت بہترین انتقام ہے‘‘ کی معنویت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب جمہوری اصول سیاسی مفادات کے تابع نہ ہوں۔ تاریخ سیاسی قیادتوں کو صرف ان کی قربانیوں سے نہیں، بل کہ اقتدار میں کیے گئے فیصلوں سے بھی پرکھتی ہے۔ پیپلز پارٹی کی تاریخی جدوجہد اپنی جگہ اہم ہے اور آصف علی زرداری کی مفاہمتی سیاست کو بھی اس کے پس منظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا مفاہمت آئینی بالادستی کو مضبوط بناتی ہے یا بعض مواقع پر اس کے بارے میں نئے سوالات پیدا کرتی ہے؟
اگر ’’جمہوریت بہترین انتقام ہے‘‘ محض ایک نعرہ نہیں، بل کہ ایک زندہ سیاسی اصول ہے تو اس کی اصل آزمائش اسی وقت ہوتی ہے جب جمہوری اقدار اور سیاسی مصلحتیں آمنے سامنے ہوں۔ جمہوریت کا حسن یہ نہیں کہ سیاسی اختلافات ختم ہوجائیں، بل کہ یہ ہے کہ اختلافات کے باوجود آئین، قانون اور عوامی مینڈیٹ کا احترام برقرار رہے۔ یہی وہ معیار ہے جس پر پیپلز پارٹی سمیت ہر سیاسی جماعت کے ماضی، حال اور مستقبل کو پرکھا جانا چاہیے۔











