14

تکلف سے عاری ایک محبت بھری مجلس : ثاقب خان

ہر مجلس کے کچھ آداب و تکلفات ہوتے ہیں مگر ہماری اس نشست میں نہ رسمی تکلفات ہوں گے نہ آداب کی پابندی یہاں بس بے تکلفی، بلکہ مکمل بے ادبی کی اجازت ہوگی”
مفتی عدنان شہزاد صاحب کے اس چونکا دینے والے، معنی خیز ، ظریفانہ اور خوش طبع فقرے سے ایک نہایت پُرکیف نشست کا آغاز ہوا۔
حضرت نے صوابی یوتھ آرگنائزیشن ٹیم کی مثبت، تعمیری فکر اور تعلیمی و رفاہی اہداف کو سراہتے ہوئے بطورِ استدلال اُمّ المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے وہ سبق آموز کلمات بھی دہرائے جو انہوں نے پہلی وحی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمائے تھے:
“كلا والله ما يخزيك الله أبدا، إنك لتصل الرحم، وتحمل الكل، وتكسب المعدوم، وتقري الضيف، وتعين على نوائب الحق”
یعنی ایسی مثبت سوچ، لوگوں کے کام آنے کا جذبہ، رشتوں کی پاس داری، بے سہاروں کا سہارا بننا، محتاجوں کی دست گیری، مہمان نوازی اور حق کی راہ میں معاونت یہ وہ کام ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ سے ثابت ہیں گویا کسی تعلیمی یا رفاہی ٹرسٹ کا قیام کوئی نہیں چیز نہیں بلکہ عملی طور پر سیرت طیبہ ہی کی اجراء کا نام ہے۔
انہوں نے صوابی یوتھ آرگنائزیشن ٹیم کی اکابر علماء اور دیگر مذہبی و سماجی قائدین سے ملاقاتوں کے سلسلہ وار اور طے شدہ شیڈول کو سراہتے ہوئے فرمایا:
“اس طرح کی سرگرمیاں بظاہر غیر تعلیمی معلوم ہوتی ہیں، لیکن حقیقت میں یہ بھی تعلیمی سلسلے ہی کی ایک اہم کڑی ہیں۔ بس اس بات کا خیال رکھا جائے کہ چھٹیوں کے دوران انہیں اپنے لیے بوجھ نہ بنائیں، بلکہ تفریح اور سیکھنے کا ذریعہ بنائیں۔”
حضرت نے کسی بھی علاقے میں کسی وژن کے اہداف کو کامیابی سے حاصل کرنے کے لیے وہاں کی عمومی فضا اور ماحول سے ہم آہنگی کو نہایت اہم قرار دیا۔ فرمایا کہ جب تک مقامی ماحول اور عمومی فضا کو پیشِ نظر نہ رکھا جائے، کسی کام کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانا مشکل ہوتا ہے۔
اس بات کو ایک دلنشین مثال سے سمجھاتے ہوئے فرمایا:
“نہریں ہمیشہ پانی کے بہاؤ کے رخ کو دیکھ کر کھودی جاتی ہیں اگر پانی کے بہاؤ کے مخالف سمت میں کھودی جائیں تو کامیابی مشکل ہو جاتی ہے۔ البتہ اصولوں پر کوئی سمجھوتا نہیں کرنا چاہیے تاہم جہاں جدت اور تبدیلی کی گنجائش ہو وہاں حکمت و تدریج کے ساتھ قدم آگے بڑھانا چاہیے۔”
حضرت نے ٹیم کے پیپر ورک کو مزید منظم، جامع اور مفصل بنانے کے حوالے سے رہنمائی فرمائی۔ انھوں نے ہدایت دی کہ ہر کام کو مرحلہ وار اور باقاعدہ طریقۂ کار کے مطابق شروع کیا جائے نیز متکلم اور نائب متکلم کے تعین اور ان کی ذمہ داریوں کے طریقۂ کار پر تفصیلی بریفنگ دی۔
الحمدللہ! مجلس کے آغاز سے اختتام تک حضرت نے نہایت مؤثر انداز میں ایک کامیاب تنظیم کا عملی خاکہ پیش کیا اور قدم قدم پر صوابی یوتھ آرگنائزیشن ٹیم کی رہنمائی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار فرمایا۔ پوری ٹیم حضرت کی اس مخلصانہ گفتگو، قیمتی رہنمائی اور خصوصی شفقت پر تہہ دل سے مشکور و ممنون ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں