16

بھارت کا کھیل کے ساتھ کھلواڑ :حمید علی

کھیل کے میدان میں شکست اور فتح معمول کی بات ہے، مگر کھیل کی روح کو شکست دینا کسی بھی کامیابی سے کہیں زیادہ افسوس ناک ہے۔ ایشیا کپ ویمنز کرکٹ کے فائنل میں بھارتی ٹیم نے سری لنکا کو شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کی، جو یقیناً اس کی میدان میں کارکردگی کا نتیجہ تھا، لیکن کامیابی کے بعد ٹرافی وصول کرنے کے معاملے نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال کھڑا کر دیا کہ کیا بھارت کرکٹ کو بھی اپنی سیاسی پالیسیوں کا حصہ بنا چکا ہے؟ ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی سے وننگ ٹرافی وصول نہ کرنے کا رویہ محض ایک رسمی انکار نہیں، بل کہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس میں سیاسی اختلافات کو کھیل کے میدان تک گھسیٹ لایا جاتا ہے۔

بھارتی ٹیم کی یہ طرزِ عمل کوئی نیا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل 2025 کے ایشیا کپ کے مردوں کے فائنل میں بھی بھارتی ٹیم نے محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنے سے انکار کیا تھا۔ ایک مرتبہ اسے اتفاق یا مخصوص سیاسی حالات کا ردِعمل قرار دیا جا سکتا تھا، مگر ایک ہی نوعیت کا رویہ دوبارہ سامنے آئے تو سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر کھیل کے میدان کو سیاسی محاذ بنانے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ کیا ایک ٹرافی وصول کرنا کسی سیاسی مؤقف سے دست برداری کے مترادف ہے؟ یا پھر بھارت اب کھیل کی تقریبات کو بھی اپنے سیاسی پیغام کی تشہیر کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے؟

یہاں اصل مسئلہ محسن نقوی کی ذات نہیں، اصول کا ہے۔ آج محسن نقوی ہیں، کل کوئی اور عہدیدار ہو سکتا ہے۔ اگر ہر کھلاڑی یا ٹیم اپنی سیاسی پسند، ناپسند اور ریاستی اختلافات کی بنیاد پر کھیل کی عالمی یا علاقائی تقریبات میں مخصوص شخصیات کا بائیکاٹ شروع کر دے تو کھیل کی غیر جانب داری کہاں باقی رہے گی؟ کھیل کے ادارے شخصیات سے بڑے ہوتے ہیں اور ان کے عہدے انفرادی سیاسی اختلافات سے بالاتر سمجھے جاتے ہیں۔ اگر کسی عہدیدار سے سیاسی اختلاف ہے تو اس کا جواب سیاسی فورم پر دیا جائے، کھیل کے میدان میں نہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں تلخی کوئی ڈھکی چھپی حقیقت نہیں۔ سرحدی تنازعات، جنگیں، سفارتی کشیدگیاں اور سیاسی اختلافات دونوں ملکوں کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ دونوں ریاستیں اپنے اپنے قومی مفادات کے دفاع کا حق رکھتی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر سیاسی تنازع کو کرکٹ کی پچ تک لانا بھی قومی مفاد ہے؟ کیا مخالف ملک کے کھلاڑی سے ہاتھ ملانے، عہدیدار سے ٹرافی لینے یا کھیل کی تقریب میں رسمی احترام کا مظاہرہ کرنے سے کوئی ریاست کم زور ہو جاتی ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر یہ ضد کس لیے؟

بھارت کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ کرکٹ کسی ایک حکومت، کسی ایک سیاسی جماعت یا کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں۔ ایشیا کپ ایک علاقائی مقابلہ ہے، جس میں مختلف ممالک کے کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہاں کامیابی کھیل کی بنیاد پر ہونی چاہیے اور تقریبات بھی کھیل کی روایات کے مطابق ہونی چاہییں۔ اگر سیاسی اختلافات کو بنیاد بنا کر ٹرافی لینے سے انکار کیا جائے گا تو پھر کل کوئی دوسرا ملک بھی کسی بھارتی عہدیدار سے ٹرافی لینے سے انکار کر سکتا ہے۔ کیا بھارت اس طرزِ عمل کو بھی درست قرار دے گا؟

اصل خطرہ یہی ہے کہ آج اگر کھیل میں سیاسی ضد کو معمول بنا دیا گیا تو کل کھیل کے ہر بڑے مقابلے کے ساتھ ایک سیاسی پیغام بھی وابستہ ہوگا۔ کھلاڑی میدان میں کھیلنے کے بجائے ریاستی مؤقف کے غیر رسمی سفیر بن جائیں گے۔ تماشائی کھیل دیکھنے کے بجائے سیاسی اشارے تلاش کریں گے اور ٹرافی کی تقریب کھیل کی خوشی کے بجائے سفارتی کشمکش کا منظر بن جائے گی۔ یہ صورتِ حال کرکٹ کے لیے تباہ کن ہو سکتی ہے۔

کھیل کی خوب صورتی ہی یہ ہے کہ اس میں دشمن ملک کے کھلاڑی بھی ایک دوسرے کے احترام کے پابند ہوتے ہیں۔ مقابلہ سخت ہو سکتا ہے، جذبات شدید ہو سکتے ہیں، شکست کا دکھ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے، لیکن میچ ختم ہونے کے بعد ایک دوسرے کا احترام کھیل کی بنیادی تہذیب ہے۔ دنیا کی تاریخ میں ایسے کئی مواقع موجود ہیں جب سیاسی طور پر مخالف ممالک کے کھلاڑیوں نے میدان میں ایک دوسرے کا مقابلہ کیا، مگر کھیل کے آداب کو سیاست کی نذر نہیں ہونے دیا۔ یہی رویہ کھیل کو کھیل بناتا ہے۔

بھارتی کرکٹ کی انتظامیہ اور کھلاڑیوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ وہ دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ اگر پیغام یہ ہے کہ بھارت کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا چاہتا ہے تو پھر اس کے عملی رویے بھی اسی دعوے کی تصدیق کرنے چاہییں۔ لیکن اگر ہر دوسرے موقع پر سیاسی اختلافات کرکٹ کی تقریبات میں نمایاں ہوں گے تو پھر یہ دعویٰ محض الفاظ بن کر رہ جائے گا۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ کرکٹ کے میدان میں کون کھیل کو ترجیح دیتا ہے اور کون سیاسی علامتوں کو۔

پاکستان کے لیے بھی اس معاملے میں جذبات کے بجائے اصولی مؤقف زیادہ مؤثر ہے۔ ہمیں کسی بھی اشتعال انگیز طرزِ عمل کا جواب اسی زبان میں دینے کے بجائے یہ واضح کرنا چاہیے کہ کھیل کے اداروں، عہدیداروں اور روایات کا احترام ہونا چاہیے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی مسائل اپنی جگہ، مگر کھیل کو ان مسائل سے الگ رکھنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ ہم اگر کھیل کو سیاست سے نکالنے کی بات کرتے ہیں تو ہمیں خود بھی اس اصول پر ثابت قدم رہنا ہوگا۔

محسن نقوی سے ٹرافی لینے یا نہ لینے کا فیصلہ بظاہر چند لمحوں کا واقعہ ہے، مگر اس کے پیچھے موجود ذہنیت ایک بڑے مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اگر کھیل بھی سفارتی محاذ آرائی کا میدان بن گیا تو پھر کھلاڑیوں کی برسوں کی محنت، شائقین کا جذبہ اور کھیل کی عالمی روح سب سیاسی نعروں کے نیچے دب جائیں گے۔ کرکٹ کی جیت کا جشن سیاسی دشمنی کی تلخی میں بدل جائے تو فاتح بھی دراصل کھیل کو کچھ نہ کچھ ہرا دیتا ہے۔

بھارت کو اپنی سیاسی طاقت، معاشی اثر و رسوخ اور کرکٹ میں عالمی مقام پر یقین ہے تو اسے اپنے رویے میں بھی بڑے پن کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ طاقت کا اصل اظہار دوسروں کو نیچا دکھانے میں نہیں، بل کہ اختلاف کے باوجود وقار برقرار رکھنے میں ہوتا ہے۔ ایک عظیم ٹیم صرف ٹرافیاں نہیں جیتتی، وہ کھیل کی روایات بھی زندہ رکھتی ہے۔ میدان میں بہترین کارکردگی اور میدان سے باہر بہترین رویہ ہی کسی ٹیم کو حقیقی معنوں میں بڑا بناتا ہے۔

دشمنیاں ریاستوں کے درمیان ہو سکتی ہیں، اختلافات حکومتوں کے درمیان ہو سکتے ہیں، سرحدیں ملکوں کو تقسیم کر سکتی ہیں، مگر کھیل کو ان سب کا یرغمال نہیں بننا چاہیے۔ کرکٹ کی پچ کو سیاسی جنگ کا نیا محاذ بنانے کے بجائے اسے وہی رہنے دیا جائے جس کے لیے یہ بنی ہے: مقابلے، صلاحیت، جذبے اور کھیل کی روح کا میدان۔ ٹرافی جیتنا کامیابی ہے، مگر کھیل کے وقار کو زندہ رکھنا اس سے بڑی فتح ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں