34

آزاد کشمیر کے ہنرمند نوجوانوں کیلئے بلاسود قرضوں کا بڑا اقدام، ڈیڑھ لاکھ روپے تک مالی معاونت

مظفرآباد (خبرنگار) آزاد کشمیر ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (اے جے کے ٹیوٹا) کے چیئرمین/ایکس آفیشو سیکریٹری عامر محمود کی زیرِ صدارت آفس چیمبر میں آزاد کشمیر سمال انڈسٹریز کارپوریشن (اے کے ایس آئی سی) کے تعاون سے اے جے کے ٹیوٹا سے فنی و تکنیکی تربیت مکمل کرنے والے پاس آؤٹ ٹرینیز کو بلاسود قرضہ جات کی فراہمی کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا وزیر اعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کے ویژن کے مطابق جلاس میں ہنر مند نوجوانوں بالخصوص خواتین کو اپنے کاروبار کے آغاز اور انہیں روزگار سے منسلک کرنے کے لیے بلاسود قرضوں کی فراہمی کے طریقہ کار، دائرہ کار اور دیگر امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سیکریٹری اے جے کے ٹیوٹا ارشد محمود جرال، مینیجنگ ڈائریکٹر آزاد کشمیر سمال انڈسٹریز کارپوریشن ذیشان عارف، ڈائریکٹر اے کے ایس آئی سی عبدالخالق عباسی، ڈپٹی ڈائریکٹر (اکاؤنٹس) محمد شفیق خان ترین، ڈپٹی ڈائریکٹر (ایڈمن) محمد سعید خان، اسسٹنٹ ڈائریکٹر (پبلسٹی) محمد اعجاز خان اسسٹنٹ ڈائریکٹر (آپریشن) محمد ساجد عباسی نے شرکت کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آزاد کشمیر میں اخوت اور اے جے کے ٹیوٹا کے اشتراک سے ہنر مند افراد کے لیے بلاسود قرضوں کی سکیم شروع کر دی ہے جس کا بنیادی مقصد فنی تربیت حاصل کرنے والے نوجوانوں کو صرف ہنر سکھانے تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں اپنے کاروبار کے قیام اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس سکیم کے ذریعے ایسے نوجوانوں اور خواتین کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی جو اے جے کے ٹیوٹا کے کسی بھی ذیلی ادارے، خواہ وہ سرکاری ہو یا نجی، سے فنی یا پیشہ ورانہ تربیت مکمل کر چکے ہوں اور اپنا کاروبار شروع کرنے کے خواہش مند ہوں۔سکیم کے تحت اہل ہنر مند افراد کو ڈیڑھ لاکھ روپے تک بلاسود قرض فراہم کیا جائے گا، تاکہ وہ اپنی فنی مہارت اور دلچسپی کے مطابق چھوٹے پیمانے پر کاروبار شروع کر سکیں اس اقدام سے نوجوانوں کو خود روزگار کے مواقع میسر آئیں گے اور وہ نہ صرف اپنے لیے آمدن کا ذریعہ پیدا کر سکیں گے بلکہ مستقبل میں دیگر افراد کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے قابل ہو سکیں گے قرض کے حصول کے لیے شرائط و ضوابط، درخواست کے طریقہ کار اور دیگر ضروری معلومات اخوت کے دفاتر اور اے جے کے ٹیوٹا کے ضلعی دفاتر سے حاصل کی جا سکیں گی، جہاں ہنر مند نوجوانوں کی رہنمائی بھی کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد قرض کے حصول کے عمل کو آسان بنانا اور تربیت یافتہ نوجوانوں کو ان کے متعلقہ اضلاع میں سہولت فراہم کرنا ہے۔بلاسود قرضوں کی اس سکیم کے ذریعے مختلف شعبوں میں تربیت حاصل کرنے والے نوجوان اپنی مہارت کو عملی کاروبار میں تبدیل کر سکیں گے۔ موبائل ریپئرنگ، الیکٹرانکس، آٹو مکینک، پلمبنگ، الیکٹریکل ورک، ٹیکنیکل ٹول کٹس کی خریداری، لیپ ٹاپ سے متعلق کاروباری سرگرمیوں، آئی ٹی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور فری لانسنگ سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔اسی طرح خواتین کے لیے بھی اس سکیم کے تحت خصوصی مواقع موجود ہوں گے۔ خواتین سلائی کڑھائی، بیوٹیشن، فیشن و ڈیزائننگ، گھریلو سطح پر مختلف مصنوعات کی تیاری، آئی ٹی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، فری لانسنگ اور دیگر مناسب کاروباری سرگرمیوں کے لیے بلاسود قرض حاصل کرکے اپنے کاروبار کا آغاز کر سکیں گی۔ اس طرح یہ سکیم خواتین کو معاشی سرگرمیوں میں شریک کرنے اور انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے مواقع فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوگی فنی و تکنیکی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان ملک اور ریاست کا قیمتی سرمایہ ہیں انہیں جدید ہنر فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اگر کاروبار شروع کرنے کے لیے مناسب مالی معاونت بھی فراہم کی جائے تو وہ نہ صرف اپنی معاشی ضروریات پوری کر سکتے ہیں بلکہ ریاست کی معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔اس موقع پر چیئرمین/ایکس آفیشو سیکریٹری اے جے کے ٹیوٹا عامر محمود نے کہا کہ محکمہ ٹیوٹا ریاست کشمیر سے بے روزگاری کے خاتمے اور نوجوانوں کو باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو فنی اور تکنیکی تربیت فراہم کرنے کے بعد انہیں روزگار اور کاروبار سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اسی مقصد کے تحت بلاسود قرضوں کی فراہمی کا یہ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔عامر محمود نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کا مقصد نوجوانوں کو صرف سرٹیفکیٹ فراہم کرنا نہیں بلکہ انہیں ایسا ہنر دینا ہے جسے وہ عملی زندگی میں استعمال کرتے ہوئے اپنے لیے مستقل ذریعہ آمدن پیدا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہنر مند نوجوان کسی بھی معاشرے کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں اور فنی تعلیم کے فروغ سے بے روزگاری میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اے جے کے ٹیوٹا جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق فنی و پیشہ ورانہ تربیت فراہم کر رہا ہے۔ نوجوانوں کو آئی ٹی، ڈیجیٹل مہارتوں، فری لانسنگ، ٹیکنیکل ٹریڈز اور دیگر جدید شعبوں میں تربیت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ مقامی سطح کے ساتھ ساتھ آن لائن اور عالمی سطح پر بھی روزگار کے مواقع حاصل کر سکیں انہوں نے کہا کہ اے جے کے ٹیوٹا نوجوانوں کو ہنر مند بنانے، ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور انہیں کاروبار و روزگار سے منسلک کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے گا۔ اخوت کے اشتراک سے بلاسود قرضوں کی فراہمی بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس سے تربیت یافتہ نوجوانوں کو اپنے ہنر کو کاروباری سرگرمی میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں