2

سجدے کا سکون، تین سائنسوں کا معجزہ: احمدخان اچکزئی

محترم قارئین، سجدے میں جو سکون اور اطمینان ملتا ہے وہ محض ایک اتفاقی عمل نہیں، بلکہ اس کے پسِ پردہ تین سائنسیں بیک وقت کام کر رہی ہیں، جسمانی، طبعی اور نفسیاتی۔ قدرت نے نماز اور بالخصوص سجدے کی حالت کو ایک ایسا جامع نظام بنایا ہے جو انسانی جسم، ذہن اور روح کو ایک ساتھ تروتازہ کر دیتا ہے۔ ہم جدید دور میں صبح سے رات تک مصنوعی ماحول میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ ربڑ کے تلوے والے جوتے، موبائل فون، لیپ ٹاپ، دیگر برقی آلات اور مسلسل ذہنی تناؤ ہمارے جسم میں مثبت الیکٹرک چارج اور فری ریڈیکلز کا ذخیرہ جمع کر دیتے ہیں۔ یہی فالتو مثبت چارج جسم کے اندرونی اعضا میں سوزش، بے چینی، جسمانی تھکاوٹ اور نیند میں خلل کا بنیادی سبب بنتا ہے۔ دوسری جانب، ہماری زمین کا قدرتی چارج منفی ہے۔ قدرت نے اس کرہ ارض کو ایک بہت بڑی بیٹری اور تسکین کا ذریعہ بنایا ہے۔ جب انسان سجدے کی حالت میں جاتا ہے تو اس کے جسم کی سات اہم ہڈیاں پیشانی بمع ناک، دونوں ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کے پنجے براہِ راست زمین یا زمین سے جڑے ہوئے فرش سے لمس کرتی ہیں۔ اس لمس سے ایک مکمل برقی سرکٹ تشکیل پاتا ہے۔ یہ بالکل اسی طرح کام کرتا ہے جیسے کسی برقی پلگ میں تیسرا تار ارتھ کا ہوتا ہے، جو آلے کے فالتو اور خطرناک کرنٹ کو زمین میں منتقل کر کے اس آلے کو محفوظ بنا دیتا ہے۔ جدید طب اور سائنس میں اس عمل کو ارتھنگ یا گراؤنڈنگ کا نام دیا گیا ہے۔ متعدد تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ پیشانی اور اعضا کو زمین پر رکھنے یا ننگے پاؤں گھاس پر چلنے سے جسم میں تناؤ پیدا کرنے والے ہارمون کورٹیسول کی مقدار تیزی سے کم ہوتی ہے، اندرونی سوزش میں کمی آتی ہے اور نیند کی کیفیت گہری اور پرسکون ہو جاتی ہے۔ نماز پڑھنے والے مسلمان دن میں کم از کم چونتیس بار اس قدرتی ارتھنگ کے عمل سے گزرتے ہیں، جو دنیا کی کوئی ورزش یا یوگا فراہم نہیں کر سکتا۔ دوسری سائنس کا تعلق ہمارے دورِ خون سے ہے۔ جب انسان کھڑا یا بیٹھا ہوتا ہے تو دل کو کششِ ثقل کے خلاف اضافی زور لگا کر خون کو اوپر دماغ کی طرف پمپ کرنا پڑتا ہے۔ لیکن جیسے ہی انسان سجدے میں جاتا ہے، خون کی گردش کا پورا نظام ایک مثبت تبدیلی سے گزرتا ہے۔ سجدے میں دل اور دماغ ایک ہی سطح پر آ جاتے ہیں، بلکہ دماغ دل کی نسبت کچھ نیچے چلا جاتا ہے۔ اس حالت میں دل کو کوئی غیر معمولی زور نہیں لگانا پڑتا اور آکسیجن سے بھرپور تازہ خون کسی رکاوٹ کے بغیر براہِ راست دماغ کی طرف بہنے لگتا ہے۔ دماغ کے جن دو مرکزی حصوں کو اس تازہ اور وافر خون کا سب سے زیادہ فائدہ ملتا ہے، انہیں میڈولا آبلونگاٹا اور پونز کہا جاتا ہے۔ یہ دونوں حصے انسانی جسم کا مرکزی کنٹرول روم ہیں، جو ہماری سانس کی آمدورفت، دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر اور سکون کے احساس کو معتدل رکھتے ہیں۔ جب ان اعصابی مراکز میں وافر مقدار میں آکسیجن پہنچتی ہے، تو وہ جسم کے پیراسیمپیتھیٹک نروس سسٹم کو فعال کر دیتے ہیں۔ یہ وہی نظام ہے جو جسم کو مکمل طور پر ریلیکس کرنے اور آرام پہنچانے کا ذمہ دار ہے۔ اسی لیے ماہرینِ قلب کا کہنا ہے کہ اطمینان کے ساتھ لمبا سجدہ کرنا بلڈ پریشر کو قدرتی طور پر متوازن رکھنے، ذہن کو تروتازہ کرنے اور سر کے درد سے نجات دلانے میں حیرت انگیز کردار ادا کرتا ہے۔ تیسری اور سب سے اہم سائنس نفسیاتی و روحانی ہے۔ مشہور مفکر امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انسان کا سب سے بھاری بوجھ اس کی اپنی ذات، اس کا تکبر اور اس کی انا ہے۔ میں بڑا ہوں، میرا عہدہ بڑا ہے، میری دولت اور میرا نام ہے یہ تمام خیالات انسان کو دن رات ذہنی طور پر تھکاتے ہیں۔ سجدہ دنیا کی واحد ایسی حالت ہے جس میں انسان اپنی سب سے معزز اور قیمتی چیز، یعنی اپنی پیشانی کو مٹی پر رکھ دیتا ہے اور دل کی گہرائیوں سے اقرار کرتا ہے۔ “سبحان ربی الاعلیٰ” (پاک ہے میرا رب جو سب سے بلند ہے، اور میں سب سے پست ہوں)۔ یہ صرف چند الفاظ کا ادراک نہیں، بلکہ یہ انسان کی انا کا جنازہ ہے۔ جب آپ دس سے بیس سیکنڈ تک عاجزی اور سچائی کی اس کیفیت میں رہتے ہیں، تو آپ کا اعصابی نظام فوری طور پر اپنا موڈ بدل لیتا ہے۔ خوف، غصے اور تناؤ کو جنم دینے والا فائٹ اینڈ فلائٹ نظام بند ہو جاتا ہے اور سکون و راحت دینے والا ریسٹ اینڈ ڈائجسٹ نظام روشن ہو جاتا ہے۔ دل کی رفتار دھیمی ہو جاتی ہے، سانسیں گہری اور متوازن ہو جاتی ہیں اور دماغ پر چھایا ہوا تمام دباؤ تحلیل ہونے لگتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی معمولِ مبارک تھا کہ آپ سجدے میں اتنا طویل قیام فرماتے کہ صحابہ کرام کو گمان ہونے لگتا کہ شاید آپ بھول گئے ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ (اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھ)۔ اگر آپ بھی اس بے مثال جسمانی اور روحانی سکون کو خود آزمانا چاہتے ہیں تو ایک چھوٹا سا نسخہ اختیار کریں۔ جب بھی دل شدید بوجھل ہو، وضو کریں، کسی تنہا جگہ پر جائیں اور محض ایک منٹ کا ایک پرسکون سجدہ کریں۔ اس سجدے میں دنیا کی کوئی چیز نہ مانگیں، صرف پیشانی زمین پر رکھ کر گہری سانسیں لیتے رہیں اور آہستہ آہستہ “سبحان ربی الاعلیٰ” دہراتے رہیں۔ آپ خود محسوس کریں گے کہ جیسے کسی نے آپ کے سر کا تمام تر بوجھ اتار کر زمین کے اندر دفن کر دیا ہو۔ یہی وہ حقیقی جسمانی، طبعی اور روحانی ارتھنگ ہے جس کا تحفہ ہمیں نماز کے سجدے میں عطا کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں