8 اکتوبر 2005ء کی صبح پاکستان کے لیے ایک عام صبح نہیں تھی۔ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ تھا اور لوگ سحری کے بعد روزے کی حالت میں اپنے معمولاتِ زندگی میں مصروف تھے۔ کسی کو خبر نہیں تھی کہ چند لمحوں بعد زمین کے سینے میں ایسی لرزش اٹھے گی جو ہزاروں گھروں کے چراغ بجھا دے گی۔ صبح تقریباً 8 بج کر 50 منٹ پر آنے والے شدید زلزلے نے آزاد کشمیر اور شمالی علاقوں میں تباہی کی ایک ایسی داستان رقم کی جسے اکیس برس گزرنے کے باوجود بھلایا نہیں جا سکا۔
7.6 ریکٹر اسکیل کی شدت سے آنے والے اس زلزلے کا مرکز آزاد کشمیر کے قریب تھا۔ مظفرآباد اور بالاکوٹ سمیت کئی علاقے شدید متاثر ہوئے۔ بلند عمارتیں زمین بوس ہوئیں۔ گھر ملبے میں بدل گئے۔ سڑکیں ٹوٹ گئیں اور پہاڑوں سے چٹانیں نیچے آ گریں۔ چند لمحوں میں وہ بستیاں جہاں زندگی اپنے معمول کے ساتھ رواں تھی آہ و بکا کا منظر بن گئیں۔ ہر طرف گرد و غبار تھا اور اس گرد میں اپنے پیاروں کو تلاش کرتی ہوئی بے شمار آنکھیں تھیں۔
زلزلے کی شدت کو اعداد میں بیان کیا جا سکتا ہے مگر اس کے درد کو اعداد میں نہیں سمیٹا جا سکتا۔ ستر ہزار سے زائد انسان اس سانحے میں جان سے گئے اور لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔ لیکن ہر مرنے والا ایک عدد نہیں تھا۔ کوئی کسی کا بیٹا تھا۔ کوئی کسی کی بیٹی تھی۔ کوئی ماں کا سہارا تھا اور کوئی باپ کی آخری امید۔ ایک شخص کے جانے سے صرف ایک زندگی ختم نہیں ہوتی بلکہ کئی زندگیوں کا راستہ بدل جاتا ہے۔ بعض اوقات ایک موت پورے خاندان کی دنیا بدل دیتی ہے۔
سب سے زیادہ دردناک منظر شاید وہ تھا جب ملبے کے ڈھیر سے اپنے پیاروں کو تلاش کیا جا رہا تھا۔ کسی ماں کی آواز اپنے بچے کو پکار رہی تھی۔ کوئی باپ اپنے بیٹے کے لیے بے قرار تھا اور کوئی بچہ اس شخص کو ڈھونڈ رہا تھا جس کی انگلی پکڑ کر وہ دنیا کو سمجھتا تھا۔ کہیں کسی گھر کا پورا خاندان ختم ہو گیا اور کہیں ایک فرد زندہ بچا تو اس کے پاس یادوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ ایسے زخموں کا علاج وقت کے پاس بھی نہیں ہوتا۔ بعض دکھ زندگی بھر انسان کے ساتھ چلتے ہیں۔
اکیس برس گزر گئے ہیں مگر اس سانحے کی یاد آج بھی بہت سے گھروں میں زندہ ہے۔ کچھ تصویریں آج بھی دیواروں پر لگی ہیں۔ کچھ نام آج بھی دعاؤں میں لیے جاتے ہیں اور کچھ آوازیں آج بھی یادوں میں سنائی دیتی ہیں۔ زندگی آگے بڑھتی رہی مگر ہر خاندان آگے نہیں بڑھ سکا۔ بعض لوگ وقت کے ساتھ جینا سیکھ لیتے ہیں مگر اپنے بچھڑنے والوں کو بھول نہیں پاتے۔ یہی محبت کی وہ طاقت ہے جو موت کے بعد بھی انسان کو یادوں میں زندہ رکھتی ہے۔
لیکن 8 اکتوبر صرف غم کی تاریخ نہیں۔ یہ پاکستانی قوم کے جذبۂ انسانیت کی بھی ایک روشن مثال ہے۔ زلزلے کے بعد ملک کے مختلف حصوں سے لوگ متاثرہ علاقوں کی طرف روانہ ہوئے۔ فوج کے جوانوں نے ملبے تلے دبے لوگوں کو نکالا۔ ڈاکٹر اور طبی عملہ زخمیوں کے علاج میں مصروف ہو گیا۔ رضاکاروں نے خوراک اور ادویات پہنچائیں۔ عام لوگوں نے اپنی استطاعت کے مطابق مدد کی۔ اس قیامت میں انسان نے انسان کا ہاتھ تھاما اور یہی منظر اس اندھیرے میں امید کی سب سے روشن کرن تھا۔
رمضان المبارک کا وہ مقدس پس منظر بھی اس سانحے کو ایک خاص کیفیت دیتا ہے۔ روزے کی حالت میں لوگ اپنے ان بھائیوں کے لیے دعائیں کر رہے تھے جو اچانک دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔ مساجد میں دعائیں ہوئیں اور گھروں میں قرآن خوانی کی گئی۔ ماؤں نے اپنے بچوں کے لیے اور بچوں نے اپنے والدین کے لیے دعا کی۔ ہر دل سے ایک ہی صدا بلند ہوئی کہ اللہ تعالیٰ اس آزمائش میں جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبر عطا کرے۔
قدرتی آفات انسان کو اس کی حقیقت یاد دلاتی ہیں۔ انسان نے پہاڑ کاٹ کر راستے بنائے۔ بلند عمارتیں تعمیر کیں اور سائنس کی مدد سے دنیا کو اپنے لیے آسان بنایا۔ مگر چند لمحوں کی لرزش نے بتا دیا کہ قدرت کے سامنے انسان کتنا کمزور ہے۔ اس احساس کے باوجود انسان نے شکست قبول نہیں کی۔ ملبے سے زندگی نکالی گئی۔ خیمے آباد ہوئے۔ گھر دوبارہ بنے اور لوگوں نے اپنے زخموں کے ساتھ زندگی کا سفر پھر شروع کیا۔ یہی انسانی حوصلہ ہر تباہی کے بعد امید کا نیا چراغ روشن کرتا ہے۔
8 اکتوبر ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ زندگی کی اصل قدر اس وقت سمجھ آتی ہے جب ہم اسے کھونے کا منظر دیکھتے ہیں۔ ہمیں اپنے رشتوں کی قدر کرنی چاہیے۔ اپنے والدین کو وقت دینا چاہیے۔ اپنے بچوں کو محبت دینی چاہیے اور مشکل میں دوسروں کا سہارا بننا چاہیے۔ زندگی کا کوئی لمحہ آخری لمحہ بن سکتا ہے۔ اس لیے محبت کو مؤخر نہیں کرنا چاہیے اور کسی کے لیے اپنے دل کی بات کہنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ شاید یہی وہ سبق ہے جو کسی بھی سانحے کے بعد انسان کو اپنے رویوں پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
کچھ تاریخیں کیلنڈر کے صفحات پر گزر جاتی ہیں مگر کچھ تاریخیں دل پر لکھی جاتی ہیں۔ 8 اکتوبر 2005ء بھی ایسی ہی ایک تاریخ ہے۔ یہ تاریخ ہمیں اُن لوگوں کی یاد دلاتی ہے جو ہمارے درمیان نہیں رہے۔ یہ اُن خاندانوں کے صبر کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے ناقابلِ تلافی نقصان برداشت کیا۔ یہ اُن لوگوں کی قربانی کو بھی یاد کرتی ہے جنہوں نے دوسروں کی جان بچانے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالی۔ یہ یاد دلاتی ہے کہ آزمائش کی گھڑی میں انسانیت ہی انسان کا سب سے بڑا سہارا بنتی ہے۔
آج اکیس برس بعد بھی جب 8 اکتوبر آتا ہے تو ماضی کی وہ صبح جیسے پھر سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔ آنکھوں کے سامنے ملبے کے ڈھیر آتے ہیں۔ کانوں میں مدد کے لیے پکاریں سنائی دیتی ہیں اور دل ان لوگوں کے لیے دعا کرنے لگتا ہے جو اس دنیا سے چلے گئے۔ وقت گزر گیا مگر یاد باقی ہے۔ عمارتیں دوبارہ بن گئیں مگر کچھ دلوں کے اندر جو خلا پیدا ہوا تھا وہ آج بھی ویسا ہی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے کوئی تعمیر کوئی وقت اور کوئی فاصلہ مٹا نہیں سکتا۔
اللہ تعالیٰ 8 اکتوبر 2005ء کے سانحے میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد کی مغفرت فرمائے۔ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ ہمیں یہ توفیق دے کہ ہم اپنے اردگرد موجود انسانوں کی قدر کریں اور کسی بھی مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام سکیں۔ کیوں کہ زندگی کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے کہ زلزلے زمین کو ہلاتے ہیں مگر انسانیت دلوں کو جوڑتی ہے۔











