مظفرآباد(خبرنگار) سابق وزیراعظم آزاد جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ مہاجرین جموں و کشمیر کی 12 نشستیں سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق ہیں ان کو حکومت پاکستان تحفظ دینے کی پابند ہے، تقسیم کشمیر کرنی ہے تو پھر کشمیر کو صوبہ بنائیں پھر اقوام متحدہ سے کیس بھی واپس لیں، جی بی کی اسمبلی کی قرارداد ٹھیک ہے تو پھر ہری سنگھ کا الحاق بھی درست تھا،سابق وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف سے کہا تھا کہ آپ اور وزیراعظم ملکر آزادکشمیر کے حالات کو معمول پر لانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں، پونچھ تحریک آزادی کا مرکز رہا جو صورتحال ہے وہ باعث تشویش ہے، نومنتخب صدر کے انتخاب کے بعد وزیراعظم کو لیکر دھرنے والوں سے بات کریں کہ وہ کیا چاہتے ہیں، میرا اپنا اختلاف موجود ہے دھرنے والوں سے جس کا اظہار بھی کیا ہے لیکن ان سے گزارش ہے کہ یہ نظام جو موجود ہے کہیں یہ بیٹھ نہ جائے، پونچھ کے بغیر ایوان مکمل نہیں،آگے جانے کے لیے کچھ اقدامات اٹھائے جانے ضروری ہے، قومی سلامتی کے ادارے ذمہ داران اس معاملے کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں، ان خیالات کا اظہار راجہ محمد فاروق حیدر خا ن نے میڈیا سے گفت گو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہاکہ وزیراعظم پر منحصر ہے کہ وہ اب کیسے 100روزہ منصوبہ بندی پر کیسے عملدرآمد کرتے ہیں، ریاست کے موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر موثر انتظامی کنٹرول یقینی بنائیں، اس معاملے پر ان سے بات کی ہے اور مجھے یقین ہے کہ اب بہتری ہوگی،، انہوں نے کہا کہ نومنتخب صدر ریاست ڈاکٹر نجیب نقی نسل درنسل سیاست دان ہیں اور پونچھ کے بڑے قبیلے سے ہیں، ڈاکٹر نجیب کی صدارت سے امید ہے کہ وہ معاملات کو سلجھانے میں اپنا کردار ادا کریں گے، ٹھنڈے دھیمے مزاج کے آدمی ہیں، راجہ فاروق حیدر خان کا مزید کہنا تھا کہ سینئرسیاستدانوں کے پاس بات چیت کرنے کا مینڈیٹ نہیں،سیاسی جماعتوں کو غیر موثر کیا گیا، مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت مستحکم حکومت ہے اس کی بھرپور حمایت کی ہے اور کریں گے، موجودہ صورتحال میں انٹرنیٹ کا مثبت استعمال ضروری ہے بند کرنا جاہلانہ اقدام ہوگا۔
31











