پاکستان اس وقت ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کے ایک ایسے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے جس کی جڑیں صرف داخلی حالات تک محدود نہیں بلکہ اس کے تانے بانے علاقائی سیاست اور بیرونی مداخلت سے بھی جڑے دکھائی دیتے ہیں۔ بھارت نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے اپنے دیرینہ ایجنڈے کے تحت پاکستان میں موجود اپنے مبینہ پراکسی عناصر کو متحرک کر رکھا ہے، جن کے ذریعے بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسلام آباد کا موقف ہے کہ ان عناصر کو افغان طالبان حکومت کی جانب سے بھی معاونت اور سہولت کاری حاصل ہے، جس کے باعث پاکستان کی سلامتی اور خطے کے امن کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
بلوچستان اور خیبر پختونخوا کا جغرافیہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے نہایت اہم ہے۔ ایک طرف یہ علاقے پاکستان کی سرحدی سلامتی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں تو دوسری جانب یہی جغرافیہ دشمن عناصر کو اپنی کارروائیوں کے لیے مواقع فراہم کرتا ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں اسی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ریاستی اداروں، سکیورٹی اہلکاروں اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد صرف انسانی جانوں کا نقصان نہیں بلکہ عوام میں خوف پیدا کرنا، ریاستی اداروں پر اعتماد کم کرنا اور ملک کے اندر انتشار کو ہوا دینا بھی ہوتا ہے۔
دہشت گردی کی یہ جنگ کسی ایک علاقے یا ایک طبقے کی جنگ نہیں، بلکہ پورے پاکستان کے مستقبل کا سوال ہے۔ جب کسی شہر، بازار، سڑک، تعلیمی ادارے یا سکیورٹی مرکز کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کا اثر صرف متاثرہ خاندان تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پورا معاشرہ خوف اور بے یقینی کی کیفیت سے دوچار ہوتا ہے۔ دہشت گرد عناصر دراصل ریاست کی رٹ اور قومی یکجہتی کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ عوام کو یہ باور کرایا جائے کہ ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے، اسی لیے ان کے عزائم کو ناکام بنانا قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ قومی اعتماد کا بھی معاملہ ہے۔
پاکستانی سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف طویل عرصے سے قربانیاں دی ہیں۔ پاک فوج، پولیس، فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔ مختلف آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے ٹھکانوں، نیٹ ورکس اور سہولت کاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کارروائیوں میں سکیورٹی اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، لیکن قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے یہ قربانیاں اس عزم کی علامت ہیں کہ ریاست دہشت گردی کے سامنے سر نہیں جھکائے گی۔
تاہم دہشت گردی کا مقابلہ صرف عسکری کارروائیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے لیے ایک جامع قومی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے، جس میں انٹیلی جنس نظام کو مزید مؤثر بنانا، سرحدی نگرانی مضبوط کرنا، دہشت گردوں کی مالی معاونت کے ذرائع روکنا اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی شامل ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر بھی پاکستان کو اپنا مؤقف مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوگا، تاکہ دہشت گردی کی سرپرستی اور سہولت کاری سے متعلق شواہد اور خدشات کو عالمی سطح پر سنجیدگی سے لیا جائے۔
افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بھی اس پورے معاملے میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان بارہا اس مؤقف کا اظہار کر چکا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ ایک پُرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے اپنے مفاد میں بھی ہے، کیوں کہ دونوں ممالک تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور جغرافیائی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ تاہم دو طرفہ تعلقات اسی وقت مضبوط ہو سکتے ہیں جب ایک دوسرے کی خود مختاری اور سلامتی کے تقاضوں کا احترام کیا جائے اور کسی بھی مسلح گروہ کو دوسرے ملک کے خلاف کارروائی کے لیے جگہ نہ ملے۔
اسی طرح بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں پائیدار امن کے لیے صرف سکیورٹی اقدامات کافی نہیں۔ ان علاقوں کے عوام کو ترقی، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی قومی ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔ عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد جتنا مضبوط ہوگا، دہشت گرد عناصر کے لیے اپنی جگہ بنانا اتنا ہی مشکل ہوگا۔ محرومیوں اور شکایات کا ازالہ بھی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی کا حصہ ہونا چاہیے، کیوں کہ مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جس کے شہری خود کو ریاستی نظام کا مؤثر حصہ سمجھتے ہوں۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام کا کردار بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات، افواہیں اور اشتعال انگیز مواد دہشت گرد عناصر کے بیانیے کو تقویت دے سکتے ہیں۔ اس لیے میڈیا، سیاسی قیادت، مذہبی رہنماؤں اور معاشرے کے تمام طبقات کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ اختلافِ رائے جمہوری معاشرے کا حسن ہے، لیکن قومی سلامتی کے معاملات میں انتشار اور نفرت کو فروغ دینا کسی کے مفاد میں نہیں۔
آج پاکستان کو ایک ایسی قومی یکجہتی کی ضرورت ہے جو دہشت گردی کے ہر منصوبے کو ناکام بنا سکے۔ دشمن کی حکمتِ عملی خواہ کتنی ہی پیچیدہ کیوں نہ ہو، مضبوط ریاستی ادارے، باشعور عوام، مؤثر سفارت کاری اور مربوط سکیورٹی پالیسی اس کا توڑ بن سکتے ہیں۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف میدان میں موجود ہیں اور قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان قربانیوں کی قدر کرتے ہوئے قومی اتحاد کو مضبوط بنائے۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ صرف سرحدوں کی حفاظت کی جنگ نہیں، بلکہ پاکستان کے امن، استحکام، ترقی اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی جنگ ہے۔











