دنیا بھر میں ہر سال اکیس ستمبر کو عالمی یوم امن منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض ایک رسمی دن نہیں بلکہ انسانیت کو اس بنیادی حقیقت کی یاد دہانی کرانے کا موقع ہے کہ جنگ، نفرت، تشدد، ظلم، استحصال اور ناانصافی کسی معاشرے، کسی قوم اور پوری انسانیت کے مستقبل کو محفوظ نہیں بنا سکتے۔ امن انسان کی بنیادی ضرورت ہے، لیکن امن صرف بندوقوں کی خاموشی یا میدان جنگ میں وقتی جنگ بندی کا نام نہیں۔ حقیقی امن وہاں جنم لیتا ہے جہاں انسان کو جان، عزت، آزادی، انصاف اور اپنے بنیادی حقوق کا تحفظ حاصل ہو۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے تیس نومبر انیس سو اکیاسی کو قرارداد کے ذریعے عالمی یوم امن قائم کیا۔ ابتدا میں یہ دن ستمبر کے تیسرے منگل کو منایا جاتا تھا اور اس کا مقصد اقوام اور انسانوں کے درمیان امن کے تصورات کو مضبوط کرنا تھا۔ پہلی مرتبہ یہ دن ستمبر انیس سو بیاسی میں منایا گیا۔ بعد ازاں سات ستمبر دو ہزار ایک کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے متفقہ طور پر اکیس ستمبر کو عالمی یوم امن کی مستقل تاریخ مقرر کیا اور اسے جنگ بندی اور عدم تشدد کے دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔یہ فیصلہ اس امید کے ساتھ کیا گیا تھا کہ دنیا کی اقوام کم از کم ایک دن کے لیے اپنی بندوقیں خاموش کریں گی، دشمنی کو روکیں گی، مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار کریں گی اور انسانیت کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے مشترکہ کوشش کریں گی۔ اقوام متحدہ کی جانب سے ہر سال اس دن جنگ بندی، عدم تشدد، تعلیم، شعور اور امن کے فروغ پر زور دیا جاتا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد دنیا نے اس عالمی دن سے کیا حاصل کیا؟اس سوال کا جواب نہ مکمل مایوسی ہے اور نہ مکمل کامیابی۔عالمی یوم امن نے دنیا کو ایک ایسا مشترکہ موقع ضرور فراہم کیا ہے جس پر جنگ کے بجائے امن، تصادم کے بجائے مذاکرات، نفرت کے بجائے برداشت اور طاقت کے بجائے انسانی اقدار کی بات کی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ، امن قائم کرنے والے ادارے، سماجی تنظیمیں، تعلیمی ادارے، نوجوان اور دنیا کے مختلف معاشروں میں کام کرنے والے امن کے کارکن اس دن کو شعور اجاگر کرنے، مکالمے کو فروغ دینے اور تنازعات کے پُرامن حل کی اہمیت بیان کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔لیکن اس کے باوجود دنیا آج بھی مختلف جنگوں، مسلح تنازعات، سیاسی کشمکش، معاشی عدم مساوات، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور طاقت کے عدم توازن کا سامنا کر رہی ہے۔ اس حقیقت سے یہ سبق ضرور ملتا ہے کہ صرف ایک دن امن کے نام کر دینا کافی نہیں۔ امن کو مستقل عالمی طرزِ عمل بنانا ہوگا۔امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں،امن کی عام تعریف یہ کی جاتی ہے کہ جہاں جنگ نہ ہو وہاں امن ہے۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔اگر کسی معاشرے میں غربت ہو، بھوک ہو، ناانصافی ہو، بنیادی حقوق سلب ہوں، کسی قوم کو اس کی شناخت سے محروم کیا جائے، کسی علاقے کے لوگوں کی آواز دبائی جائے یا طاقتور کو کمزور کے حقوق پامال کرنے کی آزادی حاصل ہو تو وہاں جنگ نہ ہونے کے باوجود مکمل امن موجود نہیں کہا جا سکتا۔
امن کا تعلق انسان کی روزمرہ زندگی سے ہے۔امن کا مطلب یہ ہے کہ ایک بچہ خوف کے بغیر اسکول جا سکے۔ایک مریض کو علاج میسر ہو۔ایک نوجوان کو روزگار کا موقع ملے۔ایک عورت عزت اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ایک قوم اپنی شناخت اور وقار کے ساتھ زندہ رہ سکے۔اور ایک ملک اپنی خودمختاری کے ساتھ اپنے مستقبل کے فیصلے خود کر سکے۔اقوام متحدہ بھی موجودہ عالمی تصورِ امن کو صرف جنگ کے خاتمے تک محدود نہیں کرتا بلکہ تحفظ، وقار، مواقع، انسانی حقوق، باہمی تعاون اور پائیدار ترقی کو امن کی بنیادوں سے جوڑتا ہے۔دنیا میں امن کے قیام کی سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک طاقت کا غیرمنصفانہ استعمال ہے۔جب طاقتور ممالک اپنے مفادات کے لیے کمزور ممالک پر دباؤ ڈالیں، ان کے وسائل پر نظر رکھیں، جنگیں مسلط کریں یا اپنی مرضی کے فیصلے دوسروں پر نافذ کرنے کی کوشش کریں تو اس سے امن کی بنیاد کمزور ہوتی ہے۔جنگ کسی مسئلے کو ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کرتی۔ بعض اوقات جنگ ایک مسئلے کو مزید پیچیدہ کر دیتی ہے۔ ایک جنگ نئی نفرت کو جنم دیتی ہے، نئی نسل کو محرومی کا شکار کرتی ہے اور مستقبل کے تنازعات کے لیے زمین تیار کرتی ہے۔اس لیے دنیا کو یہ اصول تسلیم کرنا ہوگا کہ کسی ملک کی طاقت اسے دوسرے ملک کے حقوق پامال کرنے کا اختیار نہیں دیتی۔اگر انصاف طاقت کے تابع ہو جائے تو عالمی امن ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے۔
دنیا میں امن کے لیے اقوام کے قومی وجود، خودمختاری، ثقافت، زبان، مذہبی شناخت اور اجتماعی تشخص کا احترام بھی ضروری ہے۔ہر قوم یہ چاہتی ہے کہ اس کی آواز سنی جائے، اس کے حقوق تسلیم کیے جائیں اور اس کے مستقبل کے بارے میں فیصلے اس کے عوام کی خواہشات اور جائز حقوق کو سامنے رکھ کر کیے جائیں۔کسی قوم کو محض اس لیے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ وہ معاشی، سیاسی یا عسکری اعتبار سے کمزور ہے۔دنیا کا امن اسی وقت مضبوط ہوگا جب بین الاقوامی اصول طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے یکساں ہوں گے۔
عدل، امن کی پہلی شرط ہے،عدل اور امن کا تعلق بہت گہرا ہے۔جہاں انصاف ہوتا ہے وہاں تنازع کے حل کی گنجائش پیدا ہوتی ہے، جبکہ ناانصافی انسان کے اندر محرومی، غصہ اور مزاحمت کو جنم دیتی ہے۔اس لیے امن کے عالمی تصور میں انصاف کو مرکزی مقام حاصل ہونا چاہیے۔اگر ایک فریق کو ہر حال میں طاقت کی بنیاد پر برتری حاصل ہو اور دوسرے فریق کو صرف اس لیے نظرانداز کر دیا جائے کہ وہ کمزور ہے تو ایسے نظام میں دیرپا امن قائم نہیں ہو سکتا۔امن کے لیے ضروری ہے کہ اختلاف رکھنے والوں کو سنا جائے، شکایات کا ازالہ کیا جائے، مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے جائیں اور فیصلے انصاف کے اصولوں کے مطابق کیے جائیں۔
آزاد کشمیر کے عوام کے لیے عالمی یوم امن کا تصور ایک خاص معنویت رکھتا ہے کیونکہ خطہ کشمیر کئی دہائیوں سے ایک متنازع مسئلے سے وابستہ ہے اور اس کے اثرات یہاں کے عوام نے مختلف ادوار میں محسوس کیے ہیں۔
کشمیر کے حوالے سے کوئی بھی بات کرتے ہوئے انسانی جان، بنیادی حقوق، عوامی خواہشات اور پرامن سیاسی و سفارتی ذرائع کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
عالمی یوم امن کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ تنازعات کا حل جنگ کے بجائے مذاکرات، مکالمے اور منصفانہ طریقہ کار سے تلاش کیا جائے۔اسی اصول کی روشنی میں کشمیر سمیت دنیا کے تمام دیرینہ تنازعات کے لیے ایسا راستہ تلاش کرنا ضروری ہے جس میں انسانی جانوں کا تحفظ، عوام کے بنیادی حقوق اور متعلقہ فریقوں کی جائز تشویشات کو اہمیت حاصل ہو۔امن اور آزادی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں،امن کا مطلب یہ نہیں کہ لوگوں سے سوال کرنے کا حق چھین لیا جائے۔امن کا مطلب خاموشی نہیں بلکہ ایسا معاشرہ ہے جہاں اختلاف کو تشدد کے بجائے گفتگو سے حل کیا جائے۔امن کا مطلب یہ نہیں کہ مظلوم اپنی تکلیف بیان نہ کرے۔امن کا مطلب یہ ہے کہ اس کی آواز سنی جائے اور اس کے مسئلے کا منصفانہ حل تلاش کیا جائے۔اسی طرح آزادی کا مطلب بھی انتشار نہیں بلکہ ذمہ داری، قانون کی پاسداری اور انسانی وقار کا احترام ہے۔دنیا کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں آزادی اور ذمہ داری، حقوق اور فرائض، طاقت اور انصاف ایک دوسرے کے ساتھ چلیں۔
جنگوں کا سب سے بڑا نقصان عام انسان کوہے،دنیا میں جب جنگ شروع ہوتی ہے تو اس کا سب سے بڑا بوجھ عام انسان اٹھاتا ہے۔گھر اجڑتے ہیں، بچے یتیم ہوتے ہیں، خاندان بچھڑ جاتے ہیں، بستیاں تباہ ہوتی ہیں، تعلیمی ادارے متاثر ہوتے ہیں اور معاشی نظام کمزور پڑ جاتے ہیں۔جنگ ختم ہونے کے بعد بھی اس کے اثرات کئی نسلوں تک باقی رہ سکتے ہیں۔اسی لیے جنگ کو آخری راستہ سمجھنے کے بجائے مذاکرات، ثالثی، سفارت کاری اور مفاہمت کو ترجیح دینا انسانیت کے مفاد میں ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق دنیا کے مختلف حصوں میں امن قائم کرنے والے کارکن اور امن دستے تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں استحکام اور پائیدار امن کی بنیاد رکھنے کے لیے کام کرتے ہیں۔صرف حکمران نہیں، عوام بھی امن کے ذمہ دار ہیں۔امن صرف حکومتوں، سفارت کاروں یا عالمی اداروں کی ذمہ داری نہیں۔ایک استاد اپنے شاگردوں کو برداشت اور احترام سکھا کر امن قائم کرتا ہے۔ایک والد اپنے بچوں کو نفرت کے بجائے انسانیت کا درس دے کر امن کی بنیاد رکھتا ہے۔ایک صحافی سچائی اور ذمہ داری کے ساتھ خبر دے کر معاشرے میں امن کا کردار ادا کرتا ہے۔ایک مذہبی رہنما فرقہ وارانہ نفرت کے بجائے برداشت اور بھائی چارے کا پیغام دے کر امن کو مضبوط کرتا ہے۔ایک نوجوان سوشل ذرائع ابلاغ پر نفرت پھیلانے کے بجائے دلیل، تہذیب اور احترام کا راستہ اختیار کر کے معاشرے کو بہتر بنا سکتا ہے۔یوں امن دراصل گھروں، محلوں، اسکولوں، بازاروں اور معاشروں سے شروع ہوتا ہے۔
دو ہزار چھبیس کے عالمی یوم امن کا موضوع ہے”سب کے لیے، ہر جگہ، ہر روز، امن میں سرمایہ کاری“اس پیغام میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ امن صرف مذاکرات کی میز پر نہیں بنتا بلکہ روزمرہ زندگی میں لوگوں کے باہمی رویوں، اعتماد، تعاون، انسانی حقوق، تعلیم، صحت، سماجی تحفظ اور پائیدار ترقی کے ذریعے بھی تشکیل پاتا ہے۔یہ تصور قابل غور ہے کہ اگر دنیا جنگوں پر بے پناہ وسائل خرچ کرنے کے بجائے تعلیم، صحت، روزگار، غربت کے خاتمے، نوجوانوں کے مستقبل اور انسانی ترقی پر زیادہ توجہ دے تو امن کی بنیاد زیادہ مضبوط ہو سکتی ہے۔
عالمی یوم امن ہمیں کیا عہد یاد دلاتا ہے؟اکیس ستمبر ہمیں یہ عہد یاد دلاتا ہے کہ انسان کی جان کسی بھی سیاسی، معاشی یا عسکری مفاد سے زیادہ قیمتی ہے۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اختلاف دشمنی نہیں ہوتا۔یہ دن ہمیں سکھاتا ہے کہ طاقت کا مقصد کمزور کو دبانا نہیں بلکہ اسے تحفظ دینا ہونا چاہیے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مذاکرات کمزوری نہیں بلکہ تنازعات کے پُرامن حل کا ذریعہ ہیں۔یہ دن ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ امن صرف میدان جنگ میں نہیں بلکہ انسان کے دل، گھر، معاشرے اور ریاست کے نظام میں بھی قائم ہونا چاہیے۔
امن کا راستہ مشکل ضرور ہے، ناممکن نہیں،دنیا کی تاریخ میں جنگوں کے ساتھ امن کے معاہدے بھی موجود ہیں۔ دشمنی کے ساتھ مفاہمت کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ تباہی کے بعد تعمیر اور نفرت کے بعد مصالحت کے واقعات بھی انسانی تاریخ کا حصہ ہیں۔اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ دنیا کبھی امن حاصل نہیں کر سکتی۔لیکن یہ ضرور حقیقت ہے کہ امن کے لیے ارادہ، انصاف، برداشت، مسلسل مکالمہ اور عملی اقدامات درکار ہیں۔دنیا اگر واقعی امن چاہتی ہے تو اسے جنگ کے اسباب پر بھی بات کرنا ہوگی۔غربت، ناانصافی، محرومی، امتیاز، وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور سیاسی تنازعات کو نظرانداز کرکے صرف جنگ بندی کی اپیل پائیدار امن پیدا نہیں کر سکتی۔
عالمی یوم امن کا سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ امن صرف تقریروں، نعروں اور قراردادوں سے قائم نہیں ہوتا۔امن انصاف سے پیدا ہوتا ہے۔امن مساوات سے مضبوط ہوتا ہے۔امن انسانی وقار کے احترام سے قائم رہتا ہے۔امن مکالمے سے آگے بڑھتا ہے۔امن اعتماد سے مستحکم ہوتا ہے۔اور امن اسی وقت پائیدار بنتا ہے جب طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے انصاف کا ایک ہی معیار ہو۔دنیا کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ آنے والی نسلوں کے لیے جنگوں کی میراث چھوڑنا چاہتی ہے یا امن کی۔اگر انسانیت واقعی محفوظ مستقبل چاہتی ہے تو اسے طاقت کی زبان کے بجائے انصاف کی زبان، نفرت کے بجائے مکالمے، انتقام کے بجائے قانون اور استحصال کے بجائے مساوات کو اختیار کرنا ہوگا۔کیونکہ جنگ چند لمحوں میں شروع ہو سکتی ہے، مگر اس کے زخم نسلوں تک رہتے ہیں؛ جبکہ امن وقت لیتا ہے، لیکن جب انصاف کی بنیاد پر قائم ہو تو نسلوں کو محفوظ مستقبل عطا کرتا ہے۔
عالمی یوم امن ہمیں صرف ایک دن امن منانے کا نہیں بلکہ ہر دن امن کے لیے کردار ادا کرنے کا عہد یاد دلاتا ہے۔پاکستان کا عالمی امن میں کردار صرف سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کی مسلح افواج نے کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں عملی خدمات انجام دی ہیں۔ پاکستان نے 1960ء میں کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن سے اپنا سفر شروع کیا اور بعد ازاں دنیا کے مختلف تنازع زدہ علاقوں میں پاکستانی فوجی دستوں نے شہریوں کے تحفظ، طبی امداد، بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور امن کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں خدمات انجام دیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان آج بھی بڑے امن دستہ فراہم کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس کے 170 سے زائد اہلکار اقوام متحدہ کے پرچم تلے فرائض انجام دیتے ہوئے اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں۔
پاکستانی فوج کا یہ کردار اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ امن قائم کرنا صرف ہتھیار اٹھانے کا نام نہیں بلکہ مشکل حالات میں عام انسانوں کی حفاظت، طبی سہولت کی فراہمی، قدرتی آفات میں مدد اور جنگ سے متاثرہ معاشروں کو دوبارہ کھڑا کرنے کی کوشش بھی امن کاری کا حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی امن دستوں کی خدمات کو عالمی سطح پر اقوام متحدہ کے امن کے مقصد سے جوڑا جاتا ہے۔
حالیہ عالمی حالات میں پاکستان کا سفارتی کردار بھی عالمی امن کے حوالے سے خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان 2026ء میں پیدا ہونے والے شدید تنازع اور اس کے وسیع تر علاقائی و عالمی اثرات کے دوران پاکستان نے دونوں جانب سے رابطے برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات، جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے لیے کوششیں کیں۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت پاکستانی قیادت نے اس سفارتی عمل میں کردار ادا کیا، جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی بھی مختلف رابطوں اور سفارتی کوششوں کا حصہ رہے۔
پاکستان کی اس کوشش کا ایک نمایاں مرحلہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت تھا، جس کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو آگے بڑھانے اور مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے کی کوشش کی گئی۔ صدر مملکت کی جانب سے جاری بیان میں وزیراعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور محسن نقوی کی ان سفارتی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہا گیا۔ قومی اسمبلی کے سرکاری بیان میں بھی ان شخصیات اور وزارت خارجہ کے حکام کی کوششوں کو اس پیش رفت سے منسلک کیا گیا۔ اس پورے عمل کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ پاکستان کے امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ اپنے اپنے سفارتی تعلقات موجود ہیں۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو ایک دوسرے کے مقابلے کے تناظر میں نہیں دیکھا جاتا اور یہی باہمی اعتماد پاکستان کو ثالثی اور مفاہمت کے لیے ایک قابلِ قبول رابطہ کار کا کردار ادا کرنے کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ اگست 2026ء میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ایران کے دورے کو بھی پاکستانی دفتر خارجہ نے کشیدگی کم کرنے، فوجی تعطل توڑنے اور مذاکراتی حل کی کوششوں کا حصہ قرار دیا۔
عالمی یوم امن کے تناظر میں پاکستان کا یہ سفر ایک اہم پہلو سامنے لاتا ہے: پاکستان نے امن کی بات صرف اپنے لیے نہیں کی بلکہ اپنی مسلح افواج کے ذریعے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں جان و مال کی قربانیاں دے کر اور حالیہ علاقائی بحران میں مذاکرات و سفارت کاری کے ذریعے بھی امن کے قیام میں حصہ لیا ہے۔ یہی وہ کردار ہے جسے عالمی یوم امن کے موقع پر دنیا کے سامنے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کے طور پر اجاگر کیا جا سکتا ہے۔البتہ حالیہ امریکہ۔ایران تنازع کے بارے میں یہ بات خبر میں محتاط انداز سے لکھی جانی چاہیے کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی راستہ نکالنے میں کردار ادا کیا؛ اسے یہ کہنا کہ پاکستان نے تنہا دنیا کو جنگ سے بچا لیا، دستیاب سرکاری شواہد سے زیادہ بڑا دعویٰ ہوگا۔ موجودہ سرکاری بیانات اور دیگر رپورٹوں میں بھی پاکستان کے کردار کو وسیع تر علاقائی سفارتی کوششوں کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عالمی امن محض طاقت کے توازن، وقتی جنگ بندیوں یا سیاسی بیانات سے قائم نہیں ہو سکتا۔ پائیدار امن کے لیے عدل، انصاف، مساوات، باہمی احترام اور اقوام کے جائز حقوق کی پاسداری بنیادی شرط ہے۔ کوئی طاقتور ملک اگر اپنی بالادستی قائم کرنے، دوسرے ممالک کے وسائل پر قبضہ کرنے، ان کی خودمختاری اور قومی تشخص کو مجروح کرنے یا اپنے مفادات کے لیے دوسروں کی زندگیوں کو مسلسل اضطراب میں مبتلا کرنے کی پالیسی اختیار کرے تو ایسی صورتحال میں امن کا خواب شرمند? تعبیر نہیں ہو سکتا۔ دنیا کو یہ اصول تسلیم کرنا ہوگا کہ امن کسی ایک قوم یا طاقت کا خصوصی حق نہیں بلکہ ہر انسان اور ہر قوم کا یکساں حق ہے۔ جس عالمی نظام میں انصاف سب کے لیے یکساں نہ ہو، وہاں امن کی بنیاد ہمیشہ کمزور رہے گی۔اس تناظر میں پاکستان کا عالمی امن کے لیے کردار قابلِ ذکر ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں اپنی مسلح افواج کے جوانوں کو دنیا کے مختلف تنازعات زدہ علاقوں میں بھیج کر امن کے قیام، شہریوں کے تحفظ اور انسانی خدمت کے لیے عملی قربانیاں دی ہیں۔ حالیہ عالمی کشیدگی میں بھی پاکستان نے طاقت کے بجائے مذاکرات، تصادم کے بجائے مفاہمت اور جنگ کے بجائے سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی سمیت پاکستانی قیادت کی سفارتی کوششوں کو اسی وسیع تر امن کے تصور کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ عالمی یوم امن کا اصل تقاضا بھی یہی ہے کہ پاکستان سمیت دنیا کی تمام ریاستیں طاقت کے استعمال کے بجائے انصاف، مساوات، مذاکرات اور باہمی احترام کو عالمی تعلقات کی بنیاد بنائیں، کیونکہ دنیا کو محفوظ بنانے کا راستہ جنگ کی فتح سے نہیں، انصاف کی فتح سے نکلتا ہے۔جسکے لئے سب کا کرداراہم ہے۔
22











