آزاد کشمیر وطن عزیز پاکستان کا آخری کونے میں ایک ایسا منفرد حصہ ہے جسکی ستر سالہ سالہ تاریخ کے اتار چڑھاو کی اپنی شیریں و تلخ کہانی ہے اس کہانی کے سیاسی ادوار کے سلسلوں میں بدلتے رنگوں کا مزاج بھی یہاں کے موسم کی طرح کب کیا رخ اختیار کر جائے اسکے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا مشکل کام رہا ہے اور گذشتہ ایک عشرے خصوصا 3 سالوں میں بدلتی طبعیت تشویشناک شکل اختیار کر گئی یہاں قائم نظام فالج زدہ جسم کی کفیت سے دوچار تھا تو انتخابات کا انعقاد بھی ممکن دکھائی نہیں دے رہا تھا تاہم فیصلہ سازوں کی فیصلوں کی پالیسی کے نتیجہ میں عام انتخابات 3 مرحلوں میں ممکن بنانے کی سعی کی گئی اور پھر پہلے مرحلے میں سپیکر اسمبلی دوسرے میں وزیراعظم کا انتخاب کیا گیا اور اب تیسرے مرحلے میں صدر ازاد کشمیر کا انتخاب کی تیاری کی جاچکی ہے ازاد کشمیر کے تین ڈویثزن ہیں تینوں بڑے منصب میں ایک ایک منصب تینوں ڈویثزن کے حصہ بن گیا ہے ماضی قریب میں اخبار جہاں سمیت مختلف رسالہ جات مقبول ہوا کرتے تھے تو ان میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا سلسلہ تین کہانیاں ہوتا تھا جسکا عکس یہاں اس بار تین دوست ایک حکومت بن کر جلوہ پزیر ہوا ہے سئنیر پارلیمنٹرین چوہدری طارق فاروق سب اداروں نظام کی ماں قانون ساز اسمبلی کے بطور سپیکر سربراہ منتخب ہوکر فرائض کا اغاز کرچکے ہیں نوجوان بیرسٹر افتخار گیلانی بطور وزیر اعظم سربراہ حکومت کی حثیت سے کام کام اور کام کی سعی میں مصروف عمل ہیں اور 24 ستمبر کو ڈاکٹر نجیب نقی صدر ازاد کشمیر منتخب ہوکر ائینی سربراہ کی حثیت سے سپیکر وزیر اعظم کے ساتھ ایک تکون کا چہرہ اختیار کر لیں گے یعنی یہ تینوں مزاج طبعیت عادات خصائل کے اعتبار سے ایک دوسرے سے تکون کی صورت جڑے دوست ہیں سیاست سے لے کر سیرو سیاحت تک انکا سفر مسلم لیگ کے سفر میں ایک حکومت تین ستون بن کر طلوع ہوچکے ہیں جو اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ ناصرف اندرون ملک تجربات بلکہ بیرون ملک مشاہدات بھی رکھتے ہیں قدرت نے ان تینوں ہم مزاج دوستوں کو جسطرح ایک کرکے ایک مختصر ابادی کی فلاح بہبود کا سنہری موقع فراہم کیا ہے انکا فرض بنتا ہے کہ وہ یک قالب یک جان ہو کر ناصرف شہروں علاقوں کو خوبصورت بنانے کے ہدف کو کامیابی سے ہمکنار کریں بلکہ خود اپنی طرح عوام چہروں پر مسکراہٹیں مزاجوں میں شادابی دماغوں کو وسعتیں دینے کے ساتھ ساتھ زندگیاں اسودہ بنانے کی سمت فکر عمل میں کوئی کسر باقی نہ رہنے دیں تعلیم صحت روزگار گھر کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر بنائیں جسکے لئے ناگزیر ہے کہ ازاد کشمیر اور اسکے عوام کو ستر سالہ غیر حقیقت پسندانہ نعروں جعلی ایشوز روایتی کاموں کے لئے جوتیاں کھسانے کے تذلیل امیز تسلسل کی چتا خاکستر کرکے باوقار عزت ابرو اسودگی کے سفر کا اغاز کریں اور ازاد کشمیر کو حقیقی معنوں میں شاہراہ دستور اسلام اباد کیطرف قومی دھارے کا چمکتا دھمکتا ستارہ بنا کر دلدل سے نکال کر سمندر کا شہہ سوار بنائیں انشاءاللہ
16











