پاکستان اس وقت توانائی کے ایک ایسے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے جس کے اثرات محض پٹرول اور ایندھن کی قیمتوں تک محدود نہیں، بل کہ ملکی معیشت، کاروباری سرگرمیوں، عوامی زندگی اور مستقبل کی معاشی منصوبہ بندی پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے اسمارٹ لاک ڈاؤن جیسے اقدامات پر غور اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ صورتِ حال معمول کے انتظامی فیصلوں سے آگے بڑھ چکی ہے۔ اگر جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو دفاتر، شاہراہوں اور دیگر سرگرمیوں کو محدود کرنے کی تجاویز زیرِ غور ہیں تو ان کا بنیادی مقصد ایندھن کی کھپت کم کرنا اور دستیاب وسائل کو زیادہ دیر تک برقرار رکھنا ہو سکتا ہے۔ تاہم، سوال یہ ہے کہ کیا ایسے اقدامات کسی مستقل حل کی بنیاد بن سکتے ہیں یا یہ محض ایک عارضی بندوبست ثابت ہوں گے؟
توانائی کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کی بنیادی ضرورت ہے۔ صنعت کا پہیہ ہو یا زراعت کا نظام، کاروباری مراکز ہوں یا شہری نقل و حمل، ہر شعبہ توانائی کی مسلسل فراہمی سے وابستہ ہے۔ جب ایندھن کی دستیابی یا قیمتوں میں غیر یقینی پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہری کی زندگی تک پہنچتے ہیں۔ اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل مہنگی ہوتی ہے، پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور متوسط و کم آمدنی والے طبقے پر مالی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف فوری بچت کے طریقوں پر توجہ نہ دے، بل کہ توانائی کے پورے نظام کی پائیداری کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے۔
دنیا کے مختلف خطوں میں پیدا ہونے والی کشیدگیاں عالمی توانائی کے نظام کو متاثر کر سکتی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازعات، ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور خطے میں موجود دیگر جغرافیائی سیاسی خطرات عالمی منڈیوں میں تیل کی ترسیل، قیمتوں اور سپلائی چین کے حوالے سے غیر یقینی پیدا کر سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک، جو اپنی توانائی کی ضروریات کے ایک بڑے حصے کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، ان حالات سے متاثر ہونے کے امکانات رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی ذمہ دار حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ عالمی حالات کا جائزہ لے کر پہلے سے ایسے منصوبے تیار کرے جو ممکنہ بحران کے اثرات کو کم کر سکیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا ہماری توانائی کی پالیسی محض بحران آنے کے بعد ردِعمل دینے تک محدود ہے یا اس میں مستقبل کی ضروریات کو بھی پیشِ نظر رکھا جاتا ہے؟ اگر حکومت کو آج ایندھن کی کھپت کم کرنے کے لیے دفاتر بند رکھنے، شاہراہوں پر سرگرمیاں محدود کرنے یا ہفتے کے مخصوص دنوں میں کاروباری معمولات تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے تو اس سوال پر غور کرنا چاہیے کہ ان اقدامات کی ضرورت سے پہلے کون سی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ کسی بھی ملک میں ہنگامی اقدامات ناگزیر ہو سکتے ہیں، لیکن انہیں مستقل حکمتِ عملی کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔
اسمارٹ لاک ڈاؤن کے ذریعے ایندھن کی کھپت کم کرنے کا تصور بظاہر فوری دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، مگر اس کے ساتھ کئی عملی سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ دفاتر کی بندش سے سرکاری و نجی اداروں کی کارکردگی کس حد تک متاثر ہوگی؟ کاروباری سرگرمیوں میں کمی سے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد، چھوٹے تاجروں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے پر کیا اثر پڑے گا؟ اگر شہریوں کو اپنی نقل و حرکت محدود کرنا پڑے تو کیا متبادل سہولیات دستیاب ہوں گی؟ ان سوالات کے واضح جوابات کے بغیر کوئی بھی پالیسی عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
توانائی کی بچت ضروری ہے، لیکن بچت اور معاشی سرگرمیوں میں توازن قائم کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اگر کسی بحران کے دوران سرکاری اداروں میں توانائی کے استعمال کو محدود کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ بجلی اور ایندھن کے ضیاع کو روکنے، سرکاری گاڑیوں کے استعمال کی نگرانی، غیر ضروری روشنی اور ایئر کنڈیشننگ میں کمی، اور سرکاری عمارتوں کی توانائی کی کارکردگی بہتر بنانے جیسے اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔ اس طرح بچت کا بوجھ صرف عوامی نقل و حرکت اور کاروباری سرگرمیوں پر نہیں پڑے گا، بل کہ حکومتی نظام بھی اپنی ذمہ داری کا عملی مظاہرہ کرے گا۔
پاکستان کو توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے قلیل مدتی اقدامات کے ساتھ ساتھ طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ مقامی وسائل سے توانائی کی پیداوار، شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے، توانائی کے ذخیرے، بہتر ترسیلی نظام اور درآمدی ذرائع میں تنوع ایسی ترجیحات ہیں جن پر مسلسل توجہ درکار ہے۔ اسی طرح تیل کے ذخائر اور ہنگامی حالات کے لیے قومی سطح پر منصوبہ بندی بھی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھیں یا کسی خطے میں جنگ کے باعث سپلائی متاثر ہو تو ملک کے پاس متبادل انتظامات موجود ہونے چاہییں۔
اس سلسلے میں پارلیمان، ماہرینِ توانائی، کاروباری نمائندوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان سنجیدہ مشاورت ضروری ہے۔ توانائی کی پالیسی صرف وزارتوں اور سرکاری دفاتر تک محدود معاملہ نہیں، بل کہ اس کا تعلق ہر شہری، ہر صنعت اور ہر معاشی سرگرمی سے ہے۔ عوام کو اعتماد میں لیے بغیر بار بار نئی پابندیاں عائد کرنے سے پالیسیوں کی قبولیت متاثر ہو سکتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے فیصلوں کی وجوہات، متوقع فوائد، مدت اور عوام پر پڑنے والے اثرات کو واضح کرے۔
عوام کی ذمہ داری بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ توانائی کا محتاط استعمال، غیر ضروری سفر سے گریز، بجلی کے ضیاع کی روک تھام اور متبادل ذرائع کو اپنانا اجتماعی مفاد میں ہے۔ تاہم، شہریوں سے قربانی کا مطالبہ اسی وقت مؤثر ثابت ہو سکتا ہے جب حکومتی ادارے بھی شفافیت، سادگی اور ذمہ دارانہ انتظام کا عملی نمونہ پیش کریں۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان پر عائد ہونے والی پابندیوں کے ساتھ حکومت خود اپنے اخراجات اور وسائل کے استعمال میں کیا تبدیلیاں لا رہی ہے۔
بحرانوں کا مقابلہ صرف ہنگامی فیصلوں سے نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ملک کی مضبوطی کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ وہ عالمی حالات میں پیدا ہونے والے خطرات کے لیے کتنی پیشگی تیاری رکھتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگیاں اور عالمی توانائی کے ممکنہ مسائل پاکستان کے لیے یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ اپنی توانائی کی پالیسی کا سنجیدہ جائزہ لے، کمزوریوں کی نشاندہی کرے اور مستقبل کے لیے قابلِ عمل منصوبہ تیار کرے۔
حکومت کے لیے ضروری ہے کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن جیسے اقدامات کو مستقل حل سمجھنے کے بجائے ایک محدود اور ہنگامی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھے۔ اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوگی جب ملک ایندھن کی بچت کے ساتھ اپنی معیشت کو متحرک رکھنے، توانائی کے متبادل ذرائع پیدا کرنے اور عالمی بحرانوں کے اثرات سے محفوظ رہنے کی صلاحیت بھی پیدا کرے۔ پاکستان کو ایسے فیصلوں کی ضرورت ہے جو آج کی مشکل گھڑی میں سہارا دیں اور آنے والی نسلوں کے لیے توانائی کا ایک مستحکم، قابلِ اعتماد اور پائیدار نظام بھی تشکیل دیں۔
23











