18

مسئلہ کشمیر پر لبریشن سیل، صحافی برادری میں مشاورت کا آغاز،مشترکہ لائحہ عمل طے

مظفرآباد(خبرنگار)جموں و کشمیر لبریشن سیل اور دارالحکومت مظفرآباد کی صحافی برادری کے درمیان مسئلہ کشمیر اور تحریک آزادی کشمیر کو قومی و بین الاقوامی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کرنے، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ سنگین پامالیوں کو اجاگر کرنے اور مسئلہ کشمیر کے آئینی، قانونی اور سیاسی پہلوؤں سے نسلِ نو کو آگاہ کرنے کے لیے مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔مرکزی ایوانِ صحافت، ٹی وی جرنلسٹس ایسوسی ایشن سمیت اے۔کے۔این۔ایس کے عہدیداران و نمائندگان نے جموں و کشمیر لبریشن سیل کی تقریبات اور پروگرامز کی بھرپور کوریج اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔جموں و کشمیر لبریشن سیل کے زیر اہتمام دارالحکومت مظفرآباد کے صحافیوں کے ساتھ ایک مشاورتی نشست کشمیر پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (KPRI) کے کانفرنس روم میں منعقد ہوئی۔ نشست میں ڈائریکٹر قومی آگاہی ونگ سردار ساجد محمود، میڈیا کوآرڈینیٹر سردار علی شان، اسسٹنٹ ڈائریکٹر مدثر عباسی، بابر بشیر، مطلوب حسین مرکزی ایوانِ صحافت کے سیکرٹری جنرل شہزاد لولابی، ٹی وی جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر آصف رضا میر، سینئر کالم نگار سید عارف بہار، اے۔کے۔این۔ایس کے سابق سیکرٹری جنرل ظہیر احمد جگوال، آزاد جموں و کشمیر پریس فاؤنڈیشن کے وائس چیئرمین سردار ذوالفقار علی، سینئر صحافی محمد عارف عرفی، اشتیاق احمد آتش، فاروق مغل، عبد الواحد خان، ندیم شاہ، سینئر صحافی روشن مغل، مرکزی ایوانِ صحافت کے سابق سیکرٹری جنرل راجہ افتخار احمد، اے۔کے۔این۔ایس کے خواجہ عبدالرشید، محترمہ علیشاہ عندلیب، محترمہ مدیحہ عباسی، چوہدری خورشید، آصف مغل، سید اعجاز کاظمی، اکبر مغل، امتیاز چوہدری اور دیگرسینئر صحافیوں نے شرکت کی۔مشاورتی نشست کے دوران تحریک آزادی کشمیر اور مسئلہ کشمیر کو قومی و بین الاقوامی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے مختلف تجاویز زیرِ غور آئیں اور باہمی مشاورت سے مشترکہ اقدامات اٹھانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ مسئلہ کشمیر کو اس کے حقیقی تناظر میں اجاگر کرنے کے لیے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز اور جدید ذرائع ابلاغ کے تمام مؤثر ذرائع کو بروئے کار لایا جائے گا اور صحافی برادری کے تعاون سے مربوط انداز میں کام کیا جائے گا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر جموں و کشمیر لبریشن سیل قومی آگاہی ونگ سردار ساجد محمود اور میڈیا کو آرڈینیٹر سردارعلی شان نے کہا کہ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے اور موجودہ دور میں میڈیا ایک مؤثر طاقت اور رائے عامہ کی تشکیل کا اہم ذریعہ ہے۔ مشاورتی اجلاس کا مقصد میڈیا سے رہنمائی اور تجاویز حاصل کرکے ایسی پالیسی ترتیب دینا ہے جس کے ذریعے تحریک آزادی کشمیر اور مسئلہ کشمیر کو مزید مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ صحافی برادری کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز کی روشنی میں قابلِ عمل اقدامات اٹھائے جائیں گے اور آئندہ بھی مشاورت کا یہ سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ حالات اور وقت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے باہمی مشاورت سے حکمتِ عملی ترتیب دی جائے گی۔انہوںنے کہا کہ حقِ خودارادیت کشمیری عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے اور اس مطالبے کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے تمام متعلقہ حلقوں کے درمیان باہمی تعاون اور مشاورت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے اب تک کی جانے والی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے اور صحافی برادری کی تجاویز کی روشنی میں ایک قابلِ عمل پالیسی تشکیل دے کر اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ صحافیوں کی جانب سے پیش کی جانے والی مفید تجاویز کو متعلقہ اعلیٰ فورمز تک بھی پہنچایا جائے گا تاکہ مسئلہ کشمیر کے مختلف پہلوؤں کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے مربوط اور نتیجہ خیز اقدامات کیے جا سکیں۔ انہوں نے اس موقع پراپنی کے علاوہ سیکرٹری کشمیر کاز چوہدری عبد الرحمن، ڈائریکٹر انتظامیہ و کیپری ڈاکٹر راجہ محمد سجاد خان کی طرف سے بھی آج کی میڈیا کانفرنس میں شرکت کرنے پر میڈیا کے تمام نمائندوں کا شکریہ بھی ادا کیا اور آئندہ کے لیے ان سے بھرپور تعاون کی توقع کا اظہار کیا اور ان کو اپنے ہر ممکن تعاون کا بھی یقین دلایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں