22

جنیوا میں کشمیری وفد کی او آئی سی کے مستقل مندوب سعید سرور سے ملاقات ،مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بریفنگ

جینوا ( نمائندہ اگلاقدم ) اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے جاری اجلاس کے موقع پر کشمیری وفد نے جنیوا میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے مستقل مندوب سعید سرور سے ملاقات کی اور انہیں بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی، انسانی حقوق اور سماجی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔وفد میں سردار امجد یوسف، ایڈووکیٹ پرویز احمد، محترمہ شمیم شال، ڈاکٹر راجہ محمد سجاد خان، ڈاکٹر شگفتہ اشرف اور محترمہ مہرالنسا شامل تھے۔کشمیری وفد نے جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کی مسلسل حمایت اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں او آئی سی کے کردار کو سراہا۔ وفد نے کہا کہ مسئلہ جموں و کشمیر کا حل متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔وفد نے او آئی سی کے مستقل مندوب کو بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی جبر، سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی طویل حراست، شہری آزادیوں پر پابندیوں اور انسانی حقوق سے متعلق خدشات سے آگاہ کیا۔کشمیری نمائندوں نے بالخصوص یاسین ملک، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کے مقدمات اور حراست کا حوالہ دیا، جبکہ مسرت عالم بٹ، شبیر شاہ، نعیم احمد خان اور دیگر کشمیری سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی قید کا معاملہ بھی اٹھایا۔ وفد نے مطالبہ کیا کہ زیرِ حراست افراد کے منصفانہ ٹرائل، قانونی حقوق اور انصاف تک رسائی کو یقینی بنایا جائے۔وفد نے 5 اگست 2019 کے بعد نافذ کیے گئے آئینی، قانونی اور انتظامی اقدامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ وفد کے مطابق ان اقدامات سے کشمیری عوام کی سیاسی بااختیاریت متاثر ہوئی ہے اور بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے میں تبدیلی کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ملاقات کے دوران نصف بیواؤں (Half-Widows) کی صورتحال بھی خصوصی طور پر زیرِ بحث آئی۔ وفد نے کہا کہ لاپتہ شوہروں کی بیوائیں طویل عرصے سے قانونی، معاشی اور سماجی مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں، جبکہ ان کے بچوں کو بھی وراثت، جائیداد، شناختی دستاویزات، روزگار اور دیگر بنیادی حقوق کے حصول میں مشکلات درپیش ہیں۔کشمیری وفد نے او آئی سی پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سمیت تمام متعلقہ عالمی فورمز پر بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کو مؤثر انداز میں اجاگر کرے اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی بین الاقوامی نگرانی اور آزادانہ تحقیقات کی حمایت کرے۔وفد نے مزید مطالبہ کیا کہ او آئی سی سیاسی قیدیوں، جبری گمشدگیوں کے متاثرین، نصف بیواؤں اور ان کے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر اپنی آواز مزید مؤثر بنائے۔کشمیری وفد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے پرامن اور سفارتی جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازع کے پرامن حل اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔وفد نے مسئلہ جموں و کشمیر پر او آئی سی کی مسلسل حمایت اور سفارتی کوششوں پر اظہارِ تشکر کیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں