اسلام آباد ایک مرتبہ پھر کنٹینروں کے شہر میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ہر اہم شاہراہ، چوک اور چوراہے پر کنٹینر پہنچائے جا رہے ہیں، راستے بند کیے جا رہے ہیں اور شہریوں کی آزادانہ آمدورفت محدود ہوتی جا رہی ہے۔ ان انتظامات کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے 27 ستمبر کو اس شہر میں چڑی بھی پر نہ مار سکے۔ ریاست کو امن و امان برقرار رکھنے کا حق ضرور حاصل ہے، قانون کی عمل داری بھی ناگزیر ہے اور کسی بھی ناخوش گوار صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے انتظامی تیاری بھی ضروری ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس سب کی قیمت کون ادا کرتا ہے؟ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ہر بار اس قیمت کا سب سے بھاری بوجھ عام شہری کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔
اسلام آباد کے راستوں کی بندش صرف سڑکوں کی بندش نہیں ہوتی، بل کہ اس کے اثرات ہزاروں خاندانوں کی روزمرہ زندگی پر پڑتے ہیں۔ بیمار افراد ہسپتال پہنچنے میں مشکلات کا شکار ہوتے ہیں، ایمبولینسوں کے راستے طویل ہو جاتے ہیں، بچے اور بزرگ گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہتے ہیں اور ایک عام شہری اپنی معمول کی زندگی گزارنے کے حق سے محروم ہو جاتا ہے۔ جس شخص کو فوری علاج کی ضرورت ہو، اس کے لیے چند منٹ بھی زندگی اور موت کے درمیان فرق پیدا کر سکتے ہیں۔ ایسے میں کنٹینروں کی دیواریں محض انتظامی رکاوٹ نہیں رہتیں، بل کہ عام انسان کی بے بسی کی علامت بن جاتی ہیں۔
سب سے زیادہ متاثر غریب، متوسط طبقہ اور دیہاڑی دار طبقہ ہوتا ہے۔ ایک صاحبِ حیثیت شخص شاید متبادل راستہ اختیار کر لے، اپنی گاڑی میں انتظار کر لے یا اپنے کام کا وقت تبدیل کر لے، لیکن دیہاڑی دار مزدور کے لیے ایک دن کی بندش کا مطلب ایک دن کی روٹی کا چھن جانا ہے۔ رکشہ چلانے والا، ٹیکسی ڈرائیور، چھوٹا دکاندار، مزدور اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والا شخص اس سیاسی اور انتظامی کشمکش میں سب سے پہلے قربانی دیتا ہے۔ جس کے گھر کا چولہا روز کی آمدن سے جلتا ہو، اس کے لیے شہر کی بندش کسی خبر کا عنوان نہیں، بل کہ ایک حقیقی معاشی المیہ بن جاتی ہے۔
متوسط طبقہ بھی اس صورتِ حال میں شدید مشکلات کا شکار ہوتا ہے۔ ملازمین دفاتر نہیں پہنچ پاتے، طلبہ تعلیمی اداروں تک رسائی سے محروم ہو جاتے ہیں، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور لوگوں کے معمولات درہم برہم ہو جاتے ہیں۔ ایک ایسا شہر جو وفاقی دارالحکومت ہونے کی وجہ سے پورے ملک کے انتظامی معاملات کا مرکز ہے، وہاں راستوں کی وسیع پیمانے پر بندش کے اثرات صرف اسلام آباد تک محدود نہیں رہتے، بل کہ راولپنڈی اور گرد و نواح کے علاقوں سے آنے والے لاکھوں افراد بھی ان مشکلات کی زد میں آتے ہیں۔
یہاں بنیادی سوال انسانی حقوق کا ہے۔ آزادانہ آمدورفت ایک بنیادی شہری ضرورت ہے اور جب پورے شہر کے راستے بند کر دیے جائیں تو عام آدمی کی زندگی عملاً محدود ہو جاتی ہے۔ کسی سیاسی جماعت کے احتجاج کا حق اپنی جگہ، ریاست کی امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری اپنی جگہ، مگر ان دونوں کے درمیان عام شہری کا حق کہاں کھڑا ہے؟ کیا ہر سیاسی اختلاف اور ہر ممکن احتجاج کا جواب پورے شہر کو کنٹینروں میں تبدیل کر دینا ہے؟ کیا شہریوں کو اپنے گھروں، ہسپتالوں، دفاتر اور کاروبار تک پہنچنے کے لیے ہر مرتبہ غیر معمولی مشکلات برداشت کرنا ہوں گی؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ طاقت ور حلقے، حکومت اور سیاسی جماعتیں اس مسئلے پر سنجیدگی سے بات کریں۔ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حصہ ہے، احتجاج بھی ایک حق ہے، مگر عوام کو یرغمال بنانا کسی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح ریاستی اداروں کو بھی ایسا متوازن انتظامی طریقۂ کار اختیار کرنا چاہیے جس سے امن و امان بھی برقرار رہے اور شہریوں کی زندگی بھی مفلوج نہ ہو۔ مذاکرات، بہتر منصوبہ بندی، مخصوص مقامات کا تعین اور ٹریفک کے مؤثر متبادل راستے ایسے اقدامات ہیں جن سے عام لوگوں کی مشکلات کم کی جا سکتی ہیں۔
سیاسی قوتوں کو بھی سوچنا ہو گا کہ ان کے فیصلوں کا سب سے بڑا اثر کس پر پڑتا ہے۔ طاقت ور طبقہ شاید بند راستوں کے باوجود اپنی منزل تک پہنچ جائے، مگر عام آدمی کے پاس نہ خصوصی راستہ ہوتا ہے، نہ اضافی وسائل اور نہ ہی وقت ضائع کرنے کی گنجائش۔ اس لیے سیاست اور طاقت کے ہر فیصلے میں سب سے پہلے عوام کو سامنے رکھنا چاہیے۔ ایک مزدور کی دیہاڑی، ایک مریض کی زندگی، ایک طالب علم کی تعلیم اور ایک خاندان کی روزمرہ ضروریات کسی بھی سیاسی حکمتِ عملی سے کم اہم نہیں۔
اسلام آباد کو کنٹینروں کا شہر بنانے سے شاید وقتی طور پر انتظامی مقاصد حاصل ہو جائیں، لیکن اس کے نتیجے میں جو مشکلات عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتی ہیں، ان کا ازالہ کون کرے گا؟ ایک مہذب اور ذمہ دار ریاست کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ امن و امان قائم کرتے ہوئے بھی اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے۔ ہمیں ایسے پاکستان کی ضرورت ہے جہاں سیاسی اختلاف موجود ہو مگر عوام محصور نہ ہوں، احتجاج ہو مگر زندگی مفلوج نہ ہو اور ریاست کی رِٹ بھی قائم رہے، بل کہ بیمار، بوڑھے، بچے، مزدور اور متوسط طبقہ بھی اپنی روزمرہ زندگی بلا رکاوٹ گزار سکے۔
کنٹینروں کے پیچھے سب سے زیادہ نظر انداز ہونے والا چہرہ عام پاکستانی کا ہے۔ وہی عام آدمی جو نہ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھا ہے، نہ سیاسی فیصلے کرتا ہے، مگر ہر فیصلے کا سب سے زیادہ بوجھ اسی کے حصے میں آتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ طاقت ور حلقے اور سیاسی جماعتیں ایک میز پر بیٹھ کر ایسا راستہ نکالیں جس میں سیاست بھی چلتی رہے، امن بھی قائم رہے اور سب سے بڑھ کر عام لوگوں کی زندگی عذاب نہ بنے۔ کیوں کہ ایک ریاست کی اصل طاقت صرف اس کی انتظامی صلاحیت میں نہیں، بل کہ اپنے عام شہریوں کے حقوق اور زندگی کے تحفظ میں بھی ہوتی ہے۔











