21

آج کا نوجوان اور منشیات کی دلدل ،ایک لمحہ فکریہ :اسحاق چوہان

نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ اور اس کے روشن مستقبل کی ضمانت ہوتے ہیں۔ قوموں کی ترقی، معاشی استحکام، علمی برتری اور قومی سلامتی کا دارومدار بڑی حد تک نوجوان نسل کی صلاحیتوں اور کردار پر ہوتا ہے۔ ایک باشعور، تعلیم یافتہ، صحت مند اور باکردار نوجوان نسل ملک و قوم کو ترقی کی بلندیوں تک پہنچا سکتی ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہمارا نوجوان ایک ایسے خطرناک مسئلے کی گرفت میں آتا جا رہا ہے جو نہ صرف اس کے مستقبل بلکہ پورے معاشرے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ مسئلہ منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔منشیات ایک ایسی دلدل ہے جس میں قدم رکھنے والا شخص آہستہ آہستہ اپنی جسمانی صحت، ذہنی صلاحیت، اخلاقی اقدار اور سماجی زندگی کو نقصان پہنچاتا چلا جاتا ہے۔ ابتدا میں بعض نوجوان اسے محض تجسس، تفریح یا دوستوں کے دباؤ کی وجہ سے آزمانے کی غلطی کرتے ہیں، لیکن رفتہ رفتہ یہ عادت ان کی زندگی پر حاوی ہو سکتی ہے۔ پھر ایک ایسا وقت آتا ہے جب نوجوان اپنی تعلیم، گھر، خاندان اور مستقبل سے غافل ہو جاتا ہے۔
نوجوان منشیات کی طرف کیوں مائل ہو رہے ہیں؟
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ آخر نوجوان اس خطرناک راستے کی طرف کیوں بڑھ رہے ہیں؟ اس کے کئی اسباب ہیں۔ سب سے بڑی وجہ بری صحبت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انسان کی شخصیت پر اس کے دوستوں کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ اچھی صحبت انسان کو ترقی اور کامیابی کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ بری صحبت اسے تباہی کے راستے پر ڈال سکتی ہے۔
اسی طرح بے روزگاری اور مایوسی بھی نوجوانوں کو ذہنی دباؤ کا شکار کرتی ہے۔ جب ایک نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے باوجود اپنے مستقبل کے حوالے سے پریشان ہو، روزگار کے مواقع محدود ہوں اور اس کی صلاحیتوں کو مناسب مقام نہ ملے تو وہ مایوسی اور بے چینی کا شکار ہو سکتا ہے۔ ایسے حالات میں بعض نوجوان غلط راستوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔والدین کی عدم توجہی بھی اس مسئلے کی ایک اہم وجہ ہے۔ آج کی مصروف زندگی میں بعض والدین اپنے بچوں کو وقت دینے، ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے اور ان کے مسائل سمجھنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ نوجوانوں کو صرف کھانا، کپڑا اور تعلیم فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ انہیں محبت، توجہ، اعتماد اور درست رہنمائی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔منشیات: فرد سے خاندان اور معاشرے تک تباہی منشیات کا نقصان صرف اسے استعمال کرنے والے فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پورے خاندان اور معاشرے پر پڑتے ہیں۔ ایک نوجوان جب اپنی زندگی کے مقصد سے دور ہو جاتا ہے تو اس کے والدین شدید ذہنی اذیت کا شکار ہوتے ہیں۔ خاندان کا سکون متاثر ہوتا ہے اور گھر کا ماحول پریشانی اور بے یقینی میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
منشیات نوجوانوں کی تعلیم اور صلاحیتوں کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ جو نوجوان اپنی توجہ کتابوں، ہنر اور مثبت سرگرمیوں پر مرکوز کر سکتا تھا، وہ اپنی توانائی ایک نقصان دہ عادت کی نذر کر دیتا ہے۔ یوں نہ صرف ایک فرد کا مستقبل بلکہ ملک کا قیمتی انسانی سرمایہ بھی ضائع ہونے لگتا ہے۔یہ مسئلہ معاشرے میں دیگر سماجی برائیوں کو بھی جنم دے سکتا ہے۔ جب نوجوان اپنی ذمہ داریوں سے دور ہوتے ہیں تو معاشرتی امن، خاندان کے استحکام اور قومی ترقی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
تعلیمی اداروں کی ذمہ داری
ہمارے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی ذمہ داری صرف نصابی تعلیم تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ تعلیمی اداروں کو نوجوانوں کی اخلاقی اور فکری تربیت پر بھی خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ منشیات کے نقصانات سے آگاہی کے لیے سیمینارز، مباحثے اور آگاہی پروگرام منعقد کیے جانے چاہئیں۔اساتذہ نوجوانوں کے لیے بہترین رہنما ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایک استاد اگر اپنے طالب علم کی پریشانی، تنہائی یا بدلتے ہوئے رویے کو بروقت محسوس کر لے تو ممکن ہے کہ وہ اسے کسی بڑی مشکل سے بچا لے۔
والدین کا کردار
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ اور اعتماد پر مبنی تعلق قائم کریں۔ ان کی بات سنیں، ان کے مسائل سمجھیں اور انہیں ایسا ماحول فراہم کریں جہاں وہ بلا خوف اپنے مسائل اپنے والدین کے سامنے بیان کر سکیں۔صرف ڈانٹ ڈپٹ یا سختی ہر مسئلے کا حل نہیں۔ نوجوانوں کو محبت، اعتماد اور حکمت کے ساتھ درست راستہ دکھانے کی ضرورت ہے۔ والدین کو اپنے بچوں کی دوستیاں، سرگرمیاں اور عمومی رویوں پر مناسب توجہ رکھنی چاہیے، تاکہ کسی بھی پریشانی کی صورت میں بروقت مدد اور رہنمائی فراہم کی جا سکے۔حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری
منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومت اور متعلقہ اداروں کو مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے۔ معاشرے میں منشیات پھیلانے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی ضروری ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں اور تعلیمی اداروں کو محفوظ رکھنے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائی جانی چاہیے۔لیکن صرف قانون نافذ کرنے سے مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوگا۔ اس کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا، نوجوانوں کو کھیلوں اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا اور صحت مند تفریح کے مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔
میڈیا اور مذہبی رہنماؤں کا کردار
میڈیا کو چاہیے کہ وہ معاشرے میں اس مسئلے کے بارے میں مسلسل شعور اجاگر کرے۔ ڈراموں، پروگراموں، اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو مثبت پیغام دیا جا سکتا ہے۔اسی طرح مذہبی اور سماجی رہنماؤں کی بھی بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کی اخلاقی تربیت اور کردار سازی میں اپنا کردار ادا کریں۔ اسلام انسان کی جان، عقل، صحت اور عزت کے تحفظ کی تعلیم دیتا ہے۔ نوجوانوں کو دینی اور اخلاقی اقدار سے جوڑ کر انہیں ایک مثبت اور باوقار زندگی کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے۔
نوجوانوں کے نام پیغام
آج کے نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کی زندگی صرف ان کی ذات تک محدود نہیں۔ وہ اپنے والدین کی امید، خاندان کا سہارا اور قوم کا مستقبل ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ زندگی کے عارضی دباؤ اور مشکلات سے گھبرا کر غلط راستوں کا انتخاب نہ کریں بلکہ تعلیم، ہنر، کھیل اور مثبت سرگرمیوں کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں۔
مشکل وقت زندگی کا حصہ ہوتا ہے، لیکن اصل کامیابی مشکلات کا مقابلہ کرنے میں ہے۔ اچھی دوستی، مثبت سوچ، خاندان سے رابطہ اور کسی قابلِ اعتماد بڑے یا استاد سے رہنمائی لینا نوجوان کو زندگی کے چیلنجز سے بہتر انداز میں نمٹنے میں مدد دے سکتا ہے۔
اختتامیہ
آج کا نوجوان اگر منشیات کی دلدل میں دھنستا گیا تو کل کا معاشرہ کمزور ہو جائے گا۔ ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ والدین، اساتذہ، حکومت، میڈیا، مذہبی و سماجی رہنما اور خود نوجوان—سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو مایوسی، بے راہ روی اور منشیات کی لعنت سے بچائیں اور انہیں علم، کردار، محنت اور امید کے راستے پر گامزن کریں۔ کیونکہ نوجوان صرف آج کی طاقت نہیں بلکہ آنے والے کل کی پہچان ہیں۔
آئیے! ہم عہد کریں کہ اپنی نوجوان نسل کو منشیات کی دلدل سے نکال کر علم، شعور، کردار اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں