اس وقت جب کہ ملک میں مختلف علاقوں میں پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سازشیں عروج پر ہے اور بھارت و افغانستان ملکر پاکستان میں دہشتگردی اور انتشار پھیلانے کی مذموم سازشوں میں مصروف ہیں جس کی پشت پناہی پر اسرائیل ہے جو ان کو ہرقسم کی سہولت کاری فراہم کر رہا ہے اور ہر روز عوام اور سیکورٹی فورسز شہادتیں دے رہے ہیں۔
خاص کر بلوچستان، کے پی کے اور آزاد کشمیر میں دہشتگردی کی منظم کاروائیاں عروج پر ہیں جس میں اندرونی و بیرونی طاقتوں کا ایک نیٹ ورک جو کو مکمل طور بھارت اور اسرائیل کی مالی و مادی حمایت حاصل ہے۔ اس موقع پر چند موقع پرست حلقوں کی جانب سے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹوں اور خود مختار بلدیاتی نظام جیسے مسائل کو چھیڑنا ایک انتہائی تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے اور اس میں پاکستان کی سالمیت کے خلاف سازشوں کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔
ان متنازعہ مسائل کو شروع کرنے والےافراد و تنظیمیں کا قریبی تعلق موجودہ اور سابقہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے ہے۔ ان کو عوام میں کسی قسم کی پذیرائی حاصل نہیں ہے جو انتہائی تشویشناک بات ہے۔ ان متنازعہ اور نان ایشوز کو پروان پڑھنے میں کرپٹ سول بیوروکریسی سر فہرست ہیں جو دوبارہ سے سیاسی قوتوں کو نیچا دکھا کر اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کی کوششیں کر رہی ہے اور اس میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا کندھا استمال کر رہی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نازل صورتحال پر اس قسم کے متنازعہ مسائل کو چھیڑنے کے کیا مقاصد ہو سکتے ہیں تو اس کے لیے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان بننے کے ساتھ ہی سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹز نے سیاسی قوتوں پر بالادستی حاصل کرنے کی سازشیں شروع کر دیں اور پاکستان کی پوری تاریخ مکمل مارشل لاء یا نیم جمہوری ادوار جن میں بھی ملٹری اسٹیبلشمنٹز کو کلیدی اہمیت حاصل رہی گزرا ہے۔ آج جب فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو سیاست سے دستبردار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اب اس بات کی گنجائش موجود نہیں ہے کہ دوبارہ سے ملک پر ڈکٹیٹر شپ مسلط کی جا سکے تو سول بیوروکریسی نے یہ شوشہ اپنے کرپٹ اتحادیوں کے ذریعے چھوڑا ہے تاکہ ملک کو مزید تقسیم کر کے سیاسی قوتوں کو کمزور کیا جائے اور نچلی سطح پر ذات برادری پر مشتمل قیادتوں کو فروغ دیا جائے اور یوں سیاسی قوتوں کو تقسیم کرنے کا ذریعہ بنایا جا سکے۔ یہ انتہائی خطرناک رحجان ہے اور اس کے نتائج انتہائی تشویشناک ہو سکتے ہیں آج چار صوبوں کے درمیان اہم امور پر اتفاق رائے کرنا بھی مشکل عمل ہے اور مزید صوبوں کی صورت میں اہم مسائل پر اتفاق رائے ناممکن ہو جائے گا اور ملی سالمیت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
اگرچہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بذات خود بین الاقوامی اور ملکی مسائل پر اہم کردار ادا کر رہے ہیں لیکن متنازعہ مسائل کو زیر بحث لانے والوں کے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے پشت پناہی حاصل ہونےکا جو تاثر قائم ہو رہا ہے وہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔
میڈیا و دیگر پلیٹ فارمز پر ان متنازعہ اور نان ایشوز پر غیر متعلقہ افراد کا بحث و مباحثہ کا حصہ بنانا انتہائی خطرناک صورتحال کا اشارہ دے ریا ہے۔ جو ملک میں تعصب اور نفرتوں کو فروغ دینے کا سبب بن رہا ہے۔
اس وقت جب کہ ملک میں عوام ہر روز بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری سے تنگ آ چکے ہیں اور روز بروز عوام کے مسائل میں شدید اضافہ ہو رہا ہے جس سے عوام میں بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔ بجائے اس کے سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹز پر مشتمل موجودہ ہابرڈ نظام ان مسائل پر توجہ دیتا۔ انہوں نے ان خطرناک بان ایشوز کو زیر بحث لا کر ایک انتہائی تشویشناک صورتحال پیدا کر دی ہے۔
دوسرے اگر صوبوں کو چھوٹے کرنے سے کوئی مسئلہ حل ہو جاتا تو بات الگ تھی مگر مزید انتظامی یونٹ بنانے سے سول اداروں کی بحالی کیلئے کوئی لائحہ عمل نہیں ہو گا بلکہ وہ مزید طاقتور ہو کو وسائل پر قابو ہو جائیں گے۔ اس کی مثال پنجاب کی موجودہ صورتحال ہے پنجاب جو پاکستان کی آبادی کی اکثریت یعنی 14 کروڑ سے زائد پر مشتمل ہے اس کے سول اداروں کی بحالی اور مضبوطی صرف پچھلے ڈھائی برس کی سخت محنت سے انتہائی بلندیوں پر ہے اور وہاں پر نظام ( سسٹم ) نہ صرف کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے بلکہ سسٹم کی ناکامی کے دعویداروں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔
واضح رہے کہ پنجاب میں اس عرصے میں بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے گئے جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ جب تک اداروں کو مضبوط نہ کیا جائے بلدیاتی نظام کی مضبوطی یا ان کو بااختیار کرنے سے کوئی بہتری متوقع نہیں ہے۔ بلکہ بلدیاتی نماہمدے کو کرپٹ سول بیوروکریسی کرپشن میں خودبخود شامل کر لینے میں کامیاب ہو جاتی ہے جس کا ثبوت سندھ، کے پی کے اور بلوچستان میں بلدیاتی اداروں کی موجودگی میں عوامی مسائل میں شدید اضافہ سے واضح ہے۔
جہاں تک انتظامی یونٹس کے بنانے کی بات ہے تو یہ نظام صوبوں میں ڈویژن و ضلعوں، تحصیل و یونین کونسل کی سطح پر موجود ہے اور وقتاً فوقتاً صوبوں میں نئے انتظامی ڈویژن و ضلعوں کی تشکیل نو ہوتی رہتی ہے۔ عوام کے روزمرہ کے مسائل کا تعلق ان ہی انتظامی نظام اور اس سے متعلقہ بلدیات ہے جو اب بھی موجود ہے صرف اس میں سول بیوروکریسی، ٹیکنوکریٹ و دیگر اہلکاروں کی کرپشن کو کنٹرول کرنے کے لیے لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔
آگرچہ مسلم لیگ کی سول حکومت اس معاملے پر کوئی ٹھوس پالیسی دینے میں ناکام رہی ہے اور اس کی ٹاپ لیڈر شپ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے جبکہ نچلی سطح کی لیڈران حمایت و مخالف میں بیانات دینے میں مصروف ہیں جس سے ان کی قیادت میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں فقدان نظر آتا ہے اور اس کا فائدہ سابقہ و موجودہ ملٹری اسٹیبلشمنٹز کے کارندوں نے آٹھاتے ہوے ان نان ایشوز پر خوب زور و شور سے پراپگنڈہ جاری کیا ہوا ہے۔ حالانکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ ناقابل عمل منصوبہ ہے اور ملکی وسائل و سالمیت اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتی۔
ان حالات میں پاکستان پیپلزپارٹی نے ایک اصولی موقف اختیار کیا اور ان سازشوں میں ملوث عناصر کو متبنہ کیا کہ ان بزنس کمیونٹی کو ان ایشوز پر بات کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ آہین کے مطابق صرف متعلقہ صوبائی اسمبلی ہی اس معاملے میں کلیدی کردار رکھتی ہے اور آہین کے خلاف کسی قسم کی خلاف ورزی پاکستان کی سالمیت سے کھیلنے کے مترادف ہو گا۔
واضح رہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے سب سے بڑے نمائندے جس نے ان متنازعہ مسائل پر بحث کا آغاز کیا تھا اس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ملک کے اندرونی سیکورٹی کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے اور تمام سول سیکورٹی ایجنسز ان کے کنٹرول میں ہیں اس کے باوجود ملک میں آنے دن دہشت گردی کی کارروائیاں ان کی مکمل ناکامی کا واضح ثبوت ہے دوسری کرکٹ کنٹرول بورڈ جو ان کے زیر اہتمام ہے اس کی کارکردگی انتہائی تشویشناک ہے اسلئے انہوں نے جو ایک بات کہی تھی کہ سسٹم ناکام ہو گیا ہے وہ کافی حد تک ان پر مکمل طور ثابت ہوتی ہے اسلئے ان کو یا تو خود ہی اپنی ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جانا چاہیے یا پھر وزیراعظم کو اپنی حیثیت کا صحیح استعمال کرتے ہوئے ان کو کابینہ سے فارغ کر دینا چاہیے۔ دوسری جانب پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی سیکورٹی اور انٹیلیجنس ایجنسز کی ناکامی بھی نظر آتی ہے جس کی وجہ سے دہشت گردوں کو ملک میں شدید دہشت گردی کی کارروائیاں بآسانی انجام دینے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ صرف بیرونی عناصر پر الزامات لگانا کافی نہیں ہے ان کو اپنی صلاحیتوں اور توانائیاں اپنے اصل کام کی انجام دہی میں صرف کرنے کی ضرورت ہے اور سیاسی معاملات میں آے روز کی مداخلت کو ختم کرنا ہو گا۔
آخرکار اس سازش کو ناکام بنانے کیلئے پیپلزپارٹی نے سندھ اسمبلی میں اس ایشو پر مکمل طور پر بحث شروع کرائی تاکہ عوام کے جذبات سے ان قوتوں کو آگاہ کیا جائے۔ اس بحث کے بعد آخرکار سندھ اسمبلی نے پوری قوت سے قرارداد منظور کر لی ہے جو اس سازش پر آخری وار ثابت ہو گا۔ سندھ اسمبلی نے قومی اسمبلی کو بھی بتا دیا ہے کہ وہ سندھ کی تقسیم پر بات کرنے سے باز رہے اور اس کا فیصلہ صرف اور صرف سندھ کی اسمبلی ہی کرنے کی مجاز ہے آہین کے مطابق۔
امید ہے آج اس واضح طور پر موقف اختیار کرنے کے بعد سول حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ ہوش کے ناخن لیں گے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اہنی توجہ اندرونی معاملات اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے اندر ان عناصر پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے جو اس سازشوں میں مصروف عمل ہیں اور بین الاقوامی معاملات پر زیادہ وقت سول حکومت پر چھوڑ دینے کی ضرورت ہے۔ سول حکومت کو بھی خاموشی اختیار کرنے کی بجائے اس پر واضح پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ آیندہ اس قسم کے نان ایشوز کو آگے بڑھانے کے ایجنڈے کو ناکام بنایا جا سکے۔ اور اس ہابرڈ نظام کو اپنی تمام توانائیاں عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر روزمرہ زندگی کی مشکلات سے نجات دلانے میں صرف کرنے کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ یہ ہابرڈ نظام پیپلزپارٹی کے اس دلیرانہ اقدام کو تسلیم کریں گے اور ملک میں تعصب و نفرت کے رحجان کو روکنے کے اپنے معاملات میں بہتری لانے پر کام کریں گے۔
اگرچہ پیپلزپارٹی نے پاکستان کی سالمیت کے خلاف سازش کو ناکام بنا دیا ہے مگر کیونکہ سندھ میں بھی عوام شدید مسائل کا شکار ہیں جن کی بنیادی وجہ سول بیوروکریسی میں کرپشن اور سیاسی مداخلت ہے جس پر قابو پانے کی شدید ضرورت ہے یہ بات واضح طور پر محسوس کی جاتی ہے کہ سندھ میں اداروں کی ناکامی کی وجہ ان میں موجود سازشی عناصر ہیں جو مسائل کے حل کی بجائے ان کو بڑھانے کا کام کرتے ہیں اور اس میں مختلف قوتوں کی سرپرستی حاصل ہے۔ اسلئے اب صوبائی حکومت اور وفاقی سطح پر قائم ہابرڈ نظام کو مل بیٹھ کر ان عوامی مسائل پر ایک متفقہ اور واضح لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کے مسائل میں جس قدر ممکن ہو کمی کی جا سکے۔امید ہے کہ متعلقہ حلقے ان تجاویز پر سنجیدگی سے عمل درآمد کریں گے اوع عوام کو ریلیف پہنچانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ان شاءاللہ۔











