21

شہد کی مکھی کا نظام حکومت، انسان کا طرز حکمرانی ! :محمد شفیق بھلوالیہ

اللہ تعالی کی بے شمار مخلوقات میں سے ایک حیرت انگیز مخلوق شہد کی مکھی ہے جس کی منظم زندگی انسان کے لیے غور و فکر کا ایک پورا جہان اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے بظاہر یہ ایک معمولی سا حشرات الارض ہے جسمانی ساخت کے حوالے سے عموماً سنہری زرد رنگت اور سیاہ دھاریوں پر مشتمل ہوتی ہے اس کا وزن ایک گرام کے دسویں حصہ کے لگ بھگ ہوتا ہے اپنے باریک اور شفاف پروں کے ذریعے پر وقار اور تیز رفتار پرواز کرتی ہے مختلف پھولوں اور پھلوں کا رس چوسنا اس کا امتیاز ہے انسان کا وزن شہد کی مکھی سے تقریباً 7 لاکھ گنا زیادہ ہوتا ہے لیکن اس ننھی مخلوق کی اپنی عملی زندگی میں نظم و ضبط ،عدل و توازن جمہوریت پسندی، ذمہ داری ،قوت پرواز،سمت شناسی یعنی صراط مستقیم پر چلنا، محنت اجتماعی مفاد ،مشاورت اور تعاون کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے اس کا نظام حکومت انسانوں سے زیادہ مضبوط اور پائیدار ہے شہد کی مکھی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ دیگر حیوانات کی بہ نسبت عقل و شعور سوجھ بوجھ اور فہم و فراست میں ایک ممتاز حیثیت رکھتی ہے یہ ایسی شراب تیار کرتی ہے جسے آج کے سائنسی دور میں جدید مشین سے بھی تیار نہیں کیا جا سکتا اس کے حسن تدبیر اور خاصیت کا تذکرہ قرآن مجید میں خالق کائنات نے کچھ یوں کیا ہے۔
*ترجمہ: اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈا لی کہ تو پہاڑوں ،درختوں اور اونچے چھپروں میں اپنا گھر بنا۔*
*(النحل آیت 68)*
ساتھ ہی فرمایا !
*ترجمہ: پھر ہر قسم کے پھلوں سے اپنی خوراک تلاش کر پھر ان راستوں پر چل جو تیرے رب نے تیرے لیے آسان بنا دیے ہیں اسی طرح اس مکھی کے پیٹ سے وہ مختلف رنگوں والا مشروب نکلتا ہے جس میں لوگوں کے لیے شفا ہے یقیناً ان سب باتوں میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو سوچتے اور سمجھتے ہیں۔*
*( النحل آیت : 69)*
قرآن کی رو سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شہد کی مکھی کے پیٹ سے نکلنے والا مشروب ایک مجرب دوا بھی ہے باعث شفا اور تدبر کی منفعت بخش غذا بھی ہے اس کے کردار میں توحید کا درس اور منعم کی بڑی دلیل محض ان لوگوں کے لیے ہے جو کائنات کے ہر گوشہ پر غور و فکر کی تشنگی رکھتے ہیں شہد کی مکھی کا رہن سہن، ڈسپلن گھر کی تعمیر و ترقی ،نظام حکومت، قوانین کی پاسداری اور اجتماعی ذمہ داری کا بغور مشاہدہ کیا جائے تو انسانی عقل ششدر رہ جاتی ہے ان کے گھر مسدس شکل کے ہوتے ہیں پرکار اور مسطر سے بھی اگر ان کی پیمائش کی جائے تو بال برابر بھی فرق دکھائی نہیں دیتا گندگی اور غلاظت کے قریب تک نہیں جاتی نفاست اور پاکیزگی میں رہنا پسند کرتی ہے اس ضعیف اور کمزور جانور کا نظام زندگی انسانی سیاست و حکمرانی کے اصولوں کی آئینہ دار ہوتی ہے اپنی کالونی بلکہ اپنی ریاست کا تمام نظم و نسق ایک بڑی مکھی کے ہاتھوں میں ہوتا ہے جو اپنی تمام برادری کی حکمران اور” ملکہ “ہوتی ہے اس کی تنظیم اور تقسیم کی وجہ سے پورا نظام حکومت صحیح و سالم چلتا ہے اس کے دستور العمل، ضابطہ کار اور طرز حکومت کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کے مستحکم قوانین و ضوابط پر بھی انسانی شعور اپنے ضمیر کی سلطنت کے” تخت بے ضمیری” پر کئی سوالات اٹھانا شروع کر دیتا ہے چونکہ شہد کی مکھی کا اپنے جسمانی حجم کے مقابلے میں کارکردگی کا معیار حیرت انگیز حد تک بلند ہوتا ہے اپنی منزل کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے رب کے احکامات کے مطابق صراطِ مستقیم پر چلنے کی پابند رہتی ہے اس کا حیران کن نظام رقص کی زبان ہے اپنے چھتے سے باہر کی دنیا میں روانہ ہوتے ہوئے اور پھر واپسی کے موقع پر بھی اپنی مخصوص گنگناہٹ اور بھنبھناہٹ میں اپنے خالق حقیقی کی تسبیح و ذکر کرتی ہے ملکہ مکھی جمہوریت پسند ہوتی ہے آمریت یا بادشاہت سے زیادہ ایک تقسیم ذمہ داری پر قائم اجتماعی نظام کی قائل ہوتی ہے اپنی ریاست پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے ان کا مواصلاتی و اطلاعاتی نظام بھی بہت موثر ہوتا ہے اس کے علاوہ اپنے ماحول میں “صفائی نصف ایمان ہے” کا تقاضا بھی پورا کرتی ہے کسی عہدے کی طلبگار نہیں ہوتی ان کے اندر” میں” نہیں فقط “ہم” کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے دلچسپ امر یہ ہے کہ اگر کوئی مکھی آئین و قانون اور ریاستی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی غلاظت پر جا کر بیٹھ جائے تو چھتے کی سرحدوں پر تعینات دربان اسے آنے پر باہر ہی روک لیتے ہیں اور اس کے جرم کی اطلاع فوری طور پرملکہ تک پہنچاتے ہیں اور ملکہ مکھی،گندگی پر بیٹھ کر آنے والی مکھی کو موقع پر ہی قتل کر دیتی ہے یہاں تک کہ یہ ننھی مخلوق اپنے قومی خزانے کا تحفظ اور اصراف بھی دیانتداری سے کرتی ہے یہ گروہ بندیوں سے اجتناب کرتی ہیں دھنگا مشتی، لڑائی جھگڑا ،فساد، منافقت و منافرت جیسی برائیوں سے اجتناب کرتی ہیں ان کے اندر مضبوط اتحاد اور یکجہتی کی فضا قائم رہتی ہے آپ نے اپنی زندگی میں کہیں مشاہدہ کیا ہو گا کہ اگر کوئی انسان کسی شہد کی مکھی کو ضرر پہنچائے تو یہ فوراً اپنی برادری کی طرف جاکر داد رسی کی فریاد کرتی اور اپنی ملکہ کو شکایت کرتی ہے اور پھر بڑے جاہ و جلال اور منظم انداز میں اپنا پورا لاؤ لشکر ساتھ لے کر اس انسان پر اس طرح حملہ اور ہوتی ہے کہ وہ نسلوں تک یاد رکھتا ہے درحقیقت شہد کی مکھی کا یہ خاموش نظام زندگی انسان کے پچیدہ طرز حکمرانی کے لیے بھی ایک سبق رکھتا ہے یہ بھٹکتی ہے نہ گمراہ ہوتی ہے اپنے رب کی ہدایت کے مطابق اس کے ہموار کیے ہوئے راستوں پر چلتی ہے شہد کی مکھی کے نظام حکومت سے یہ درس ملتا ہے کہ معاشرہ محض وسائل اختیارات اور اقتدار سے نہیں سنورتا بلکہ عملی زندگی میں نظم و ضبط اجتماعی مفاد و ذمہ داری ہی اسے مضبوط بناتی ہے جبکہ اس کے برعکس انسانی معاشرے میں بسا اوقات عہدہ ،کردار پر غالب آ جاتا ہے ذاتی مفادات آڑے آ جاتے ہیں یہاں پر اگر ہم اس ننھی مخلوق کی طرز زندگی اور انسانی معاشرے، کردار، اداروں اور پھر حکمرانوں کے طرز حکمرانی کا تقابلی جائزہ لیں تو آج کے دور کا انسان جسے اشرف المخلوقات کا شرف بھی حاصل ہے اس شہد کی مکھی سے بھی بہت پیچھے رہ گیا ہے ایک حدیث کے مطابق شہد کی مکھی جہنم میں نہیں جائے گی جبکہ انسان کا جسم جہنم کا ایندھن بنے گا قدرت نے سبق لکھ دیا ہے اب فیصلہ انسان نے کرنا ہے کہ وہ اسے پڑھتا ہے یا نہیں۔
( قلم اور قانون)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں