اسلام آباد اور راولپنڈی میں مون سون کی موسلا دھار بارش، محض چند گھنٹوں کی بارش نہیں ہوتی۔ یہ ہمارے شہری نظام، انتظامی کارکردگی اور اجتماعی رویوں کا امتحان بھی ہوتی ہے۔ گزشتہ دن آنے والے سیلابی ریلے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ جب آسمان برستا ہے تو شہر کا اصل چہرہ سامنے آ جاتا ہے۔ سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں، گلیاں تالاب بن جاتی ہیں اور نالہ لئی سمیت اس کے معاون نالے پانی کے غیر معمولی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہر سال یہی صورتِ حال کیوں پیدا ہوتی ہے اور ہر بار ذمہ داری صرف بارش پر کیوں ڈال دی جاتی ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ بارش سیلاب نہیں لاتی، ہماری بدانتظامی سیلاب کو دعوت دیتی ہے۔ نالہ لئی اور اس سے ملحقہ نالوں میں گھریلو کچرا، پلاسٹک کی تھیلیاں، بوتلیں، تعمیراتی فضلہ اور دیگر ملبہ پھینکنے کا سلسلہ برسوں سے جاری ہے۔ جب یہی کچرا پانی کے قدرتی بہاؤ کے راستے میں دیوار بن جاتا ہے تو چند گھنٹوں کی شدید بارش پورے شہر کے لیے خطرے کی گھنٹی بن جاتی ہے۔ پانی کو راستہ نہ ملے تو وہ سڑکوں، بازاروں، گھروں اور آبادیوں کا رخ کرتا ہے۔ یہ کوئی اچانک پیدا ہونے والا المیہ نہیں، یہ ہماری اپنی بنائی ہوئی رکاوٹوں کا نتیجہ ہے۔
سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو تعمیراتی ملبے کا نالوں اور ان کے کناروں پر پھینکا جانا ہے۔ تعمیراتی ٹھیکیدار گھروں اور عمارتوں کی توڑ پھوڑ سے نکلنے والا ملبہ مناسب مقام پر منتقل کرنے کے بجائے اکثر نالوں کے کناروں یا خود نالے کے اندر پھینک دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ انھیں یہ اجازت کون دیتا ہے؟ اگر اجازت نہیں تو ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟ اور اگر انتظامیہ کو سب کچھ معلوم ہے تو پھر خاموشی کیوں اختیار کی جاتی ہے؟ گزشتہ دن آنے والے سیلاب نے پنجاب حکومت اور متعلقہ اداروں کی انتظامی نااہلی بھی نمایاں کر دی ہے کہ برسوں سے موجود اس مسئلے کا مستقل حل کیوں نہیں نکالا جا سکا۔
نالہ لئی کے کناروں پر غیر قانونی تجاوزات بھی اس بحران کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ جہاں پانی کو کشادہ راستہ ملنا چاہیے، وہاں تعمیرات، دکانیں، دیواریں اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ قدرتی گزرگاہیں تنگ کر کے ہم سمجھتے ہیں کہ پانی بھی ہماری مرضی کے مطابق چلے گا مگر قدرت کے اصول انسان کے احکامات کے تابع نہیں ہوتے۔ پانی اپنا راستہ کبھی نہیں بھولتا۔ اسے روکنے کی کوشش کی جائے گی تو وہ کسی نہ کسی راستے سے اپنا حق وصول کرے گا اور اکثر اس کی قیمت انسانی جانوں، گھروں، کاروبار اور املاک کی تباہی کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری تعمیرات نے مسئلے کو مزید سنگین کر دیا ہے۔ کنکریٹ، پکی سڑکوں، پلازوں اور عمارتوں نے زمین کی وہ سطح کم کر دی ہے جہاں بارش کا پانی قدرتی طور پر جذب ہو سکتا تھا۔ نتیجتاً بارش کا بیشتر پانی زمین میں اترنے کے بجائے تیزی سے بہتا ہوا نالوں میں جا پہنچتا ہے۔ اسے شہری سیلاب یا اربن فلڈنگ کہا جاتا ہے۔ اگر نکاسیٔ آب کا نظام اسی رفتار سے بہتر نہ بنایا جائے جس رفتار سے شہر پھیل رہا ہے تو ہر شدید بارش ایک نئے بحران کو جنم دے گی۔
حکومت صرف بارش سے پہلے نالوں کی صفائی کی رسمی کارروائی تک محدود نہ رہے۔ نالہ لئی اور اس کے معاون نالوں کا مکمل سروے کیا جائے، غیر قانونی تجاوزات ختم کی جائیں، تعمیراتی ملبہ پھینکنے والوں کے خلاف بھاری جرمانے اور قانونی کارروائی کی جائے اور ٹھیکیداروں کے لیے ملبہ تلف کرنے کا باقاعدہ نظام لازمی بنایا جائے۔ نالوں کے اطراف کچرا پھینکنے والوں کے خلاف بھی بلا امتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔ اگر قانون صرف کاغذ پر موجود رہے اور عمل درآمد نہ ہو تو ہر نئی بارش ہمیں اسی تباہی کی طرف واپس لے جائے گی۔
یہ وقت ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانے کا نہیں، ذمہ داری قبول کرنے کا ہے۔ شہریوں کو بھی سمجھنا ہوگا کہ نالے کچرا پھینکنے کی جگہ نہیں جب کہ حکومت کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے۔ ہر تعمیراتی منصوبے، ہر سڑک اور ہر نئی آبادی میں قدرتی آبی گزرگاہوں اور بارش کے پانی کے اخراج کو بنیادی ترجیح دینا ہوگی۔
ہم بارش کو روک نہیں سکتے مگر اس کے پانی کو تباہی بننے سے ضرور روک سکتے ہیں۔ ہمیں صرف یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ فطرت کے راستے بند کر کے ترقی نہیں کی جا سکتی۔ نالے پُر کر کے، تجاوزات قائم کر کے اور کچرے کے ڈھیر لگا کر ہم چند لمحوں کے لیے شاید اپنی سہولت پیدا کر لیں مگر پہلی ہی شدید بارش ان تمام غلطیوں کا حساب مانگ لے گی۔ یاد رکھیے، پانی اپنا راستہ کبھی نہیں بھولتا۔ ہم جتنا اس کا راستہ روکیں گے، وہ اتنی ہی شدت سے اپنا راستہ بنائے گا۔











